آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تانیہ آئدروس: پاکستان ایک اور بڑا لاک ڈاؤن نہیں سہہ سکے گا
- مصنف, شجاع ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
وزیرِ اعظم پاکستان کی معاونِ خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس کا کہنا ہے کہ ان کی رائے میں پاکستان شاید ایک اور بڑا لاک ڈاؤن برداشت نہ کر سکے، ’اسی لیے ہمیں سمارٹ لاک ڈاؤن کا استعمال کرنا پڑے گا۔‘
کورونا وائرس سے لڑنے میں ڈیجیٹل پاکستان کے کردار کے حوالے سے بی بی سی اردو کو دیے گیے ایک خصوصی انٹرویو میں انھوں نے کہا کہ یہ واضح تھا کہ جس طرح کی یہ صورتحال ہے اس میں اگر آپ کے پاس مصدقہ اور ’ریئل ٹائم‘ ڈیٹا موجود نہیں ہے، تو اس وبا کو محدود کرنے کے لیے آپ کا ردعمل مؤثر ہو ہی نہیں سکتا۔
’تو یہ بات واضح تھی کہ ہمیں حکمتِ عملی کی بنیاد ڈیٹا پر رکھنی ہے۔ پہلی چیز جو ہم نے شروع کی وہ یہ تھی کہ ہم کس طرح مختلف صوبوں کا ڈیٹا اکٹھا کریں۔‘
تانیہ آئدروس کا کہنا تھا کہ شروع میں ہر کوئی اپنے طور سے کام کر رہا تھا تو اس حوالے سے پہلی مشکل یہ درپیش تھی کہ کیسے مختلف نظاموں کے ڈیٹا کو ایک جگہ یکجا کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم اب (صوبوں کو) یہ نہیں کہہ رہے کہ آپ اپنے لوگوں کو ہمارے سسٹم پر تربیت دیں۔ اب ہم نے ایسا نظام بنا لیا ہے کہ صوبے چاہے اپنے نظام سے معلومات اکھٹی کریں، وہ آ ایک جگہ پر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ ہم اس میں نئی خصوصیات بھی ڈال رہے ہیں جیسے کہ جلد آپ کو یہ سہولت بھی میسر ہوگی کہ آپ واٹس ایپ پر کسی ڈاکٹر سے بات کر سکیں۔‘
کیا ڈیجیٹل پاکستان نے کورونا سے نمٹنے کے لیے کوئی نئی ٹیکنالوجی متعارف کروائی ہے، اس سوال کے جواب پر تانیہ آئدروس کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کو صرف ٹیکنالوجی کی خاطر لانا اہم نہیں ہے۔
’ہمارے ڈیٹا سسٹمز اس ملک میں ہر سیکٹر میں ٹوٹ چکے ہیں۔ ڈیٹا کی اہمیت کو سمجھنا کہ یہ کس طرح آپ کو فیصلہ سازی میں مدد کر سکتا ہے، یہ آپ کے ہر کام میں مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔
’یہ وقت کوئی نئی ایپ وغیرہ متعارف کروانے جیسی شوخ چیزوں کا نہیں ہے۔ آپ نے دیکھنا ہے کہ ہمارا ہدف اس وقت کیا ہے۔ ہمارا مقصد اس وقت یہ ہے کہ ہم مؤثر انداز میں ڈیٹا جمع کریں، اور اس پر مؤثر انداز میں فیصلے لیں۔‘
’ڈیٹا ہمیں بتائے گا کہ وبا کہاں پھیلنے والی ہے‘
فیصلہ سازی میں ڈیٹا کی اہمیت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ایک دفعہ ہم نے بڑا لاک ڈاؤن کیا ہے۔ کیا ہم دوبارہ بڑا لاک ڈاؤن کر سکتے ہیں؟ ہمارا خیال ہے کہ نہیں کر سکتے۔ تو پھر بات آ جاتی ہے کہ کیسے ہم ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کی پیش گوئی کریں کہ کہاں پر یہ وبا بڑھ سکتی ہے، کہاں پر یہ زیادہ پھیل رہی ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ان معلومات کو استعمال کر کے سمارٹ لاک ڈاؤن کیا جا سکتا ہے تاکہ بیماری کو محدود کرنے کے لیے ہم چھوٹی جگہ کا لاک ڈاؤن کریں۔ ’بات یہ ہے کہ آپ کس مسئلے کا حل کرنا چاہ رہے ہیں۔‘
اس ڈیٹا میں کیا کچھ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، اس سوال کے جواب میں تانیہ آئدروس نے کہا کہ سب سے اہم مرکزی معلومات ہیں۔ ’کس کا ٹیسٹ کب کیا جا رہا ہے، مریض کا فون نمبر کیا ہے، شناختی کارڈ نمبر کیا ہے، عمر، صنف، کو موربیڈیٹی (یعنی ان میں دیگر صحت کے مسائل)۔‘
مگر وہ کہتی ہیں کہ یہ سب شروع سے جمع نہیں کیے جا رہے تھے۔ ’جیسے جیسے ہمیں اس کی اہمیت سمجھ آنا شروع ہوئی ہے، یہ جمع ہو رہی ہیں۔ مگر آپ سوچیں کہ آپ فرنٹ لائن پر ہیں تو آپ کسی لیب ٹیکنیشن کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ 50 گز کا فارم بھرے۔‘
ڈیٹا جمع کرنے میں ٹیکنالوجی کے کردار کے حوالے سے تانیہ آئدروس نے تین اہم عناصر کی نشاندہی کی۔
پہلا تو یہ کہ جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈیٹا ریئل ٹائم میں دیکھا جا سکتا ہے اور پالیسی ساز لمحہ بہ لمحہ ایک ہی پلیٹ فارم کی مدد سے اپنے فیصلے کر سکتے ہیں۔
دوسرا اہم عنصر ڈیٹا کے تحفظ اور رازداری کا ہے۔ ’شروع شروع میں لوگوں کی لیب شیٹس واٹس ایپ پر پھر رہی تھیں۔ اس میں لوگوں کی نجی معلومات ہیں اور انھیں ٹیکنالوجی کی مدد سے تحفظ مل رہا ہے۔‘
تیسرا اہم فائدہ ایک بڑے پیمانے پر جائزے کا ہے۔ تانیہ آئدروس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ نے ایک قومی سطح پر جائزہ لینا ہے تو آپ کو چیزوں کو ایک جگہ جمع کرنا ہوگا۔ وبا کوئی صوبائی سرحدیں نہیں دیکھتی۔‘ اسی لیے تانیہ آئدروس کی رائے میں اس سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک قومی سطح پر جائزہ لینا بہت اہم ہے۔
مگر یہ ڈیٹا کس قدر محفوظ ہے؟
’جہاں تک پرائیویسی کا معاملہ ہے، تو ذاتی شناختی معلومات انتہائی محدود جگہوں پر نظر آتی ہیں۔ میں آپ کو اپنی مثال دے سکتی ہوں کہ میں نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر میں بیٹھتی ہوں اور میں نے کبھی یہ انفارمیشن نہیں دیکھی۔‘
شہریوں کی یہ معلومات کون دیکھ سکتا ہے؟
اس سوال پر تانیہ آئدروس نے کہا کہ جو بااختیار ادارے ہیں وہ یہ ڈیٹا دیکھ سکتے ہیں۔ ’قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں، انٹیلیجنس ایجنسیاں ہیں، انھیں یہ اختیار ہے۔ لیکن میں پھر نیت کی بات کروں گی کہ ہمارا مقصد کیا ہے؟ اس وقت شاید تھوڑا سا اعتماد کرنے کی ضرورت ہے۔‘
تانیہ کہتی ہیں کہ ’ہمارا مقصد یہ نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ آپ نے کس کو کال کی ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ آپ کی ذاتی معلومات کو نکال کر یہ دیکھا جائے کس نمبر سے اور کون لوگ منسلک تھے۔‘
تو کیا اب پاکستانی شہریوں کو یہ مان لینا چاہیے کہ حکومت ان کی لوکیشن ٹریکنگ کر رہی ہے؟ کیا ہماری حکومت نے ایسا نظام بنا لیا ہے کہ اب ملک کے متعدد اداروں میں درمیانی سطح کے افسروں کے پاس کسی بھی شہری کی لوکیشن ٹریکنگ کرنے کی سہولت حاصل ہے؟
اس پر تانیہ آئدروس نے کہا ’بالکل نہیں۔ ہرگز نہیں! جس احتیاط سے یہ کیا جا رہا ہے، جتنے کم لوگوں کے پاس اس کی رسائی ہو سکتی ہے، میں ذاتی طور پر آپ کو کہہ سکتی ہوں کہ اتنی ہی احتیاط سے یہ کیا جا رہا ہے۔‘
اس سوال پر کہ اس بات کا فیصلہ کون کرتا ہے کہ کس کو ان معلومات تک رسائی ہوگی، تانیہ آئدروس کا کہنا تھا کہ وہ نہیں جانتیں کہ رسائی دینے کا فیصلہ کون کرتا ہے۔
ڈیجیٹل پاکستان کا کورونا کے بحران کے بعد کیا کردار ہوگا؟
تانیہ آئدروس اس بحران کو ایک اہم موقع بھی قرار دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران سے پاکستان کو موقع ملا ہے کہ تیزی سے ڈیجیٹائزیشن کی طرف چل پڑا جائے۔
’اس سے بہتر موقع شاید ہمیں نہ ملے کہ ہم اپنی معیشت کو کیش سے ڈیجیٹل کی طرف لے جا سکیں۔ کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم تعلیم کے شعبے میں دنیا سے جدید ترین نصاب کو پاکستانی طلبہ کے لیے فراہم نہ کر سکیں۔ ابھی ٹیلی سکولز ٹی وی پر ہیں، ان کو انٹرنیٹ پر بھی جلد لایا جائے گا۔ یہ چیزیں کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔‘
کیا ایسا کرنے کے لیے ملک میں سہولیات موجود ہیں؟
’ہمارا ایک چیلنج یہ ہے کہ ہمارے ملک میں آبادی کے 40 فیصد کی انٹرنیٹ تک رسائی ہے۔ تو یہ ہمارے لیے موقع ہے کہ ہم اس وقت کو کیسے استعمال کریں کہ اپنے ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی کو بڑھا سکیں۔‘
تانیہ کہتی ہیں کہ کوشش ہے کہ فونز سستے کیے جائیں اور انٹرنیٹ کو سستا کیا جائے۔ ’اگر ہم ان پر ٹیکسز لگائیں گے تو پھر آپ ڈیجیٹل پاکستان کو بھول جائیں۔ سو ڈالر سے کم قیمت والے فونز پر ہم نے ٹیکسز کم کیے ہیں۔ اسی طرح ہم ڈیجیٹل پاکستان فاؤنڈیشن متعارف کروا رہے ہیں۔‘
انھوں نے بتایا کہ یہ ایک غیر سرکاری تنظیم ہوگی جس کے ذریعے ایسے افراد جو حکومتی ملازمت نہیں کرنا چاہتے وہ اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے بہترین ہنر کو پاکستان کے فائدے کے لیے استعمال کر سکیں گے۔
تانیہ کے مطابق یہ موقع ہے کہ لوگوں کی نوکریوں کے بارے میں سوچ بدلی جائے۔ ’گِگ اکانومی تو پاکستان میں ابھی بہت ابتدائی مراحل پر ہے۔ جب آپ ڈیجیٹل ایج میں آتے ہیں تو نوکریوں کی تعریف مختلف ہے۔ لوگ دیہاتوں میں بیٹھے اپنے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے دنیا بھر میں اپنا ہنر بیچ رہے ہیں۔‘