آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جب کورونا وائرس نے ایک ہنستے بستے گھر کو ویران کر دیا
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد
رُوما سلیم کے خاندان کے چار افراد کورونا وائرس کا شکار ہوئے اور محض چار دن میں ان میں سے ایک کی ہلاکت ہو گئی۔ وہ خود بھی گزشتہ ہفتے کورونا سے صحتیاب ہو کر گھر واپس پہنچی ہیں۔
روما سمجھتی ہیں کہ یہ ان کی زندگی کا مشکل ترین وقت تھا۔ وہ بتاتی ہیں کہ ان کے تمام اہلخانہ کو مختلف قرنطینہ مراکز میں بھیج دیا گیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ہنستا بستا گھر ویران ہو گیا۔
بی بی سی نے 24 سالہ روما سلیم سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ وائرس کی تصدیق سے لے کر ہسپتال سے واپس آنے تک انھوں نے کیا دیکھا۔
وہ بتاتی ہیں: ’میری خالہ اور خالو انگلینڈ سے راولپنڈی آئے تھے اور میں نے اپنے بھائی کے ساتھ مل کر انھیں شاپنگ کرانے کی ذمہ داری لی تھی۔ یوں ہمارا زیادہ وقت اکٹھے گزرا۔ تین یا چار دن بعد خالہ کی طبیعت خراب ہوئی اور ہمیں بھی تھکاوٹ محسوس ہونے لگی۔ لیکن ہم نے یہ سوچ کر اسے نظر انداز کردیا کہ یہ معمول کی تھکاوٹ ہے۔‘
‘اس دوران خالہ کی طبیعت زیادہ خراب ہونے لگی، انھیں سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی جس کے بعد انھیں ملٹری ہاسپٹل میں داخل کرایا گیا۔ اس دوران میرا بھائی اور خالو ان کا خیال رکھ رہے تھے۔ ایک دن بعد ڈاکٹرز نے بتایا کہ ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’جس کے بعد خالو اور بھائی کا ٹیسٹ ہوا کیونکہ وہ ان کی دیکھ بھال کر رہے تھے۔ ان دونوں کے ٹیسٹ بھی مثبت آ گئے۔ دو دن ہی گزرے تھے کہ ہسپتال سے فون آیا کہ خالہ دم توڑ گئی ہیں اور اس کے ساتھ ہی ڈاکٹرز نے کہا کہ میرے بھائی اور خالو کو بھی ہسپتال منتقل کرنا ہو گا۔‘
’یہ مشکل وقت تھا۔ مجھے اپنے والد کی فکر تھی جو پہلے ہی ذیابطیس کے مریض ہیں۔ دوسرے دن میرے ٹیسٹ کا رزلٹ آیا جو کہ مثبت تھا، ایمبولینس آئی اور مجھے کہا گیا کہ آپ بھی ہسپتال چلیں گی۔ ادھر میرے والد کو ایک اور قرنطینہ سنٹر میں منتقل کر دیا گیا۔‘
روما کہتی ہیں کہ محض چار دن میں ان کے گھر پر تالے پڑ گئے۔
'وائرس کی تصدیق کے بعد ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہیں'
رُوما نے اس وقت کے بارے میں بتایا جب وہ ہسپتال میں داخل تھیں۔
’جب کورونا وائرس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ ایک مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اب زندگی ختم ہو جائے گی۔ مجھے بھی یہی محسوس ہو رہا تھا۔‘
’مجھے موت کا ڈر نہیں تھا مگر ایسی موت سے ڈر لگ رہا تھا جس میں میرے اپنے میرے قریب بھی نہیں آ سکتے۔ میرا بھائی ہسپتال میں تھا، اب میں جارہی تھی جس نے میرے والد کو بالکل تنہا کر دیا۔ جب میں ایمبولینس میں بیٹھی تو ابو نے کہا ’اب تم دونوں بچوں کو میں خدا کے حوالے کر رہا ہوں۔‘
‘آپ جب ہسپتال پہنچتے ہیں تو ہر قسم کی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ یہ حوصلہ افزا بھی ہو سکتی ہے اور نہایت پریشان کن اور تکلیف دہ بھی لیکن یہ یاد رکھیں کہ کچھ بھی ہو جائے آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔‘
روما سلیم راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی میں زیرِ علاج رہیں جہاں ان کے ساتھ کئی اور مریض بھی تھے۔ وہ کہتی ہیں کہ اُن میں ہر عمر کے لوگ شامل تھے۔
’میں پہلے چار دن بہت پریشان تھی۔ مجھے سخت بے چینی ہو رہی تھی اور میرا سانس بند ہو رہا تھا۔ میرے جسم کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور تھا۔ میں اس قدر پریشان تھی کہ میں کچھ بھی کھا پی نہیں سکتی تھی جس کی وجہ سے کمزوری بڑھ رہی تھی۔ ڈاکٹروں نے مجھے میرے بھائی کے ساتھ شفٹ کر دیا۔ میرے والد سوہاوہ میں قائم قرنطینہ مرکز میں بھیج دیے گئے تھے۔‘
’ڈاکٹرز مجھے بتاتے رہے کہ اگر میں نے ڈپریشن پر قابو نہ پایا تو میری سانس کی بندش بڑھ سکتی ہے اور پھر مجھے آکسیجن لگا دی جائے گی۔‘
‘لیکن چار دن بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں ہمت نہیں ہاروں گی۔ میں اپنی فیملی کے لیے زندہ رہوں گی۔ اس کے بعد میں نے زیادہ تر وقت فون پر گزارا۔ رشتہ داروں اور دوستوں سے بات کی، والد کا ٹیسٹ منفی آیا تو حوصلہ مزید بڑھا۔ بھائی تیزی سے ٹھیک ہو رہا تھا۔ مجھے بہت لوگوں نے جلد صحتیابی کے پیغام بھیجے جن سے حوصلہ بڑھا کہ اتنی دعائیں میرے ساتھ ہیں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ہسپتال میں کورونا کا شکار مریضوں کو مختلف ادویات دی جاتی ہیں۔
‘کورونا کے مریض کو تیار رہنا چاہیے کہ اس کو مختلف ادویات دی جائیں گی اور ان کی مقدار اور اقسام جسم میں رونما ہونے والی علامات پر منحصر ہے۔ مثال کے طور پر مجھ سمیت تقریباً سبھی مریضوں کو آغاز میں کلوروکوین نامی دوا دی گئی جو کہ ملیریا یا ڈینگی بخار میں دی جاتی ہے۔ اس طرح میرا بخار شروع سے ہی قابو میں رہا۔‘
’اس کے بعد ایک موقعے پر میرا معدہ خراب ہوا تو اس کی ادویات کا آغاز کر دیا گیا۔ اور یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے۔ ہر روز دن میں دو سے تین مرتبہ مانیٹر کیا جاتا ہے، بخار چیک کیا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر چیک کیا جاتا ہے، اگر نبض کم ہو تو آکسیجن لگائی جاتی ہے۔ تو یہ وہ صورتحال ہے جس کے لیے ہر کورونا مریض کو ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔‘
‘کہیں چلتے پھرتے میرے بیٹے کو کورونا وائرس لگ گیا‘
راولپنڈی کے رہائشی بائیس سالہ محمد اسامہ کورونا سے صحتیاب ہونے والوں میں شامل ہیں مگر ان کی بیماری کے دو ہفتے ان کی والدہ کے لیے انتہائی مشکل تھے۔
وہ کہتی ہیں ‘جب مجھے پتا چلا کہ میرے بیٹے میں کورونا وائرس ہے تو یہ ایک بہت بڑا جھٹکا تھا۔‘
محمد اسامہ کو ایک شام نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کی جانب سے خود کار ایس ایم ایس ملا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک ایسے شخص کے رابطے میں آئے ہیں جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے لہٰذا وہ اپنا ٹیسٹ کرائیں۔‘
اسامہ کی والدہ کہتی ہیں کہ ان میں کسی قسم کی کوئی علامات نہیں تھیں تاہم ٹیسٹ کرانے پر ان میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی۔
‘یہ ایک بہت بڑا جھٹکا تھا، جب مجھے پتا چلا تو میں بہت روئی کہ اب کیا ہو گا۔ میرے دو چھوٹے بچے بھی ہیں۔ مجھے اس پریشانی میں دیکھ کر وہ بھی روتے۔ تب میں نے خود کو بھی مضبوط کیا اور اسامہ کو حوصلہ دیا کہ وہ ہمت سے کام لے۔ میں نے اپنے دوسرے بچوں کو بھی کہا کہ بھائی ٹھیک ہو جائے گا۔‘
وہ کہتی ہیں کہ بیٹے کے ہسپتال جانے کے بعد ان کا زیادہ وقت عبادت میں گزرتا تھا۔
‘یہ بے حد پریشانی کا وقت تھا لیکن گھر کے باقی افراد کا ٹیسٹ منفی آیا تو خدا کا شکر ادا کیا۔ اسامہ کو بھی اس خبر سے تسلی ہوئی۔ میں گھر کے کام ختم کرنے کے بعد عبادت کرتی رہتی اور اپنے بیٹے کی صحت اور زندگی کے لیے دعا مانگتی تھی۔ آخر کار کچھ دن بعد اسامہ کے دو مزید ٹیسٹ کیے گئے جو نیگیٹو آئے۔ اب وہ ہسپتال سے واپس آ گئے ہیں اور گھر میں ہی قرنطینہ کیا گیا ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ فیملی ممبر میں کورونا کی تشخیص ہونا خاندان بھر کے لیے ایک امتحان ہوتا ہے۔
’گلی محلے کے لوگ بھی تشویش میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ کہیں ان میں بھی تو یہ وائرس منتقل نہیں ہو گیا۔ ایسے میں ضروری ہے کہ اہلخانہ خود پر قابو رکھیں اور اس مریض کا ساتھ دیں اور حوصلہ بڑھائیں جو ہسپتال میں زندگی کے لیے لڑ رہا ہے۔‘
محمد اسامہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ہسپتال میں بطور مریض رہتے ہوئے ایک اور پریشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ لوگ جو آپ سے ملتے رہے ہیں، آپ کے دوست اور اہلخانہ، کہیں وہ بھی تو اس سے متاثر نہیں ہو گئے۔
’اگر ایسا ہے تو اس میں آپ کی غلطی نہیں مگر یہ پشیمانی رہتی ہے۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میری وجہ سے کسی اور میں یہ وائرس چلا گیا تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہو گی۔ مجھے ان نرسوں اور ڈاکٹروں کی بھی فکر تھی جو میرے پاس آتے تھے۔‘
‘گھر والوں کو مریض سے ملنے کی اجازت نہیں ہوتی، صرف اس صورت میں ملا جا سکتا ہے جب وہ حفاظتی لباس میں ہوں۔ مگر اس کی نوبت نہیں آتی کیونکہ کورونا وائرس کی تشخیص ہونے کی صورت میں دیگر اہلخانہ کو بھی قرنطینہ ہونا پڑتا ہے اور وہ احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے گھر سے باہر نہیں نکل سکتے۔ اس دوران مریض اور فیملی کا رابطہ صرف فون کے ذریعے ہوتا ہے۔‘
‘ہسپتال سے واپس آنے کے بعد بھی تنہائی قائم رکھنی ہے‘
روما کہتی ہیں کہ ہسپتال سے ڈسچارج ہونے سے پہلے دو بار ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن کا منفی آنا ضروری ہوتا ہے۔
‘ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب آپ گھر والوں کے ساتھ مل بیٹھیں اور احتیاط نہ کریں۔ میں ہسپتال سے واپس آنے کے بعد 14 دن کے لیے گھر میں ہی آئیسولیشن میں ہوں۔ مجھے ڈاکٹرز نے کہا ہے کہ یہ احتیاط ضروری ہے۔ اس لیے ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی خود کو کم از کم دو ہفتوں کے لیے قرنطینہ کرنا ہو گا۔‘
اسی طرح محمد اسامہ بھی ایک ہفتے سے گھر میں ہی علیحدہ رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ماسک وغیرہ پہنتے ہیں اور گھر سے باہر نہیں جا رہے جبکہ گھر والوں کے ساتھ بھی احتیاط سے رہتے ہیں۔ ایک ہفتے بعد وہ فیملی کے ساتھ گھل مل سکیں گے۔
‘میں نے پہلے احتیاط نہیں کی اور گھر سے باہر نکلا، جس کی وجہ سے ہسپتال پہنچا ہوں۔ اگر لاک ڈاؤن کی پابندی کرتے ہوئے گھر میں رہنے کی کوشش کی جائے تو ایک بہت خوفناک مرحلے سے بچا جا سکتا ہے۔‘
‘میں ایک انجینئر ہوں اور ہسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسز کی مدد کرتا تھا۔ جیسا کہ ان کی واکی ٹاکی خراب ہوئی تو میں نے اس کو ٹھیک کر دیا، کوئی بجلی کا کام ہوا تو اس میں مدد کر دیتا۔ میں اپنی ویڈیوز بناتا، دیگر کورونا مریضوں کا خیال رکھتا، ان کی رپورٹس ڈاکٹروں کو واٹس ایپ کرتا تھا تو وقت کا پتا ہی نہ چلتا۔‘
‘کورونا کے وارڈز میں ہر قسم کے لوگ ملتے ہیں، وہاں پڑھے لکھے، ان پڑھ، غریب یا امیر کی کوئی قید نہیں۔ ہر بیک گراؤنڈ سے مریض ہیں اور ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ہم ایک بیماری اور ایک ہی تکلیف سے گزر رہے ہوتے ہیں، اپنے پیاروں سے دور ہوتے ہیں اور بے یقینی کی صورتحال ہوتی ہے۔ ایسے میں ہمیں ہی ایک دوسرے کا سہارا بننا پڑتا ہے۔‘