کورونا وائرس: این 95 ماسک پر چھڑی سوشل میڈیا بحث اور صدر عارف علوی کی وضاحت

پاکستان میں کورونا کی وبا کے بڑھتے ہوئے مریضوں اور ملک کے بیشتر ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کو حفاظتی آلات کی قلت کا سامنا ہے۔

وہیں بدھ کو پاکستان کے صدر عارف علوی دورہ لاہور کے دوران منظر عام پر آنے والی تصاویر میں این 95 ماسک پہنے ایک اجلاس کی سربراہی کرتے نظر آئے جس پر سوشل میڈیا اور ڈاکٹروں کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کی گئی۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) کی جانب سے جاری ایک بیان میں حکومتی عہدیداروں، سرکاری افسران اور سیاستدانوں کی جانب سے این 95 ماسک کے استعمال کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

پی ایم اے کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر قیصر سجاد کا جاری بیان میں کہنا تھا کہ ’یہ نہایت افسوس ناک ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک میں ذاتی حفاظت کے سامان کی قلت ہے اور ہسپتال کے عملے کو بھی یہ میسر نہیں، سیاستدان اور سرکاری افسران یہ ماسک پہنے نظر آتے ہیں۔‘

تاہم پی ایم اے کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں صدر مملکت عارف علوی کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

جبکہ صدر مملکت عارف علوی نے سوشل میڈیا پر ہی اس تنقید کا جواب دیتے ہوئے اپنی صفائی میں ایک ٹویٹ کر دی۔ اپنی ٹویٹ میں ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’بطور ڈاکٹر میں اچھی طرح سے غلط استعمال اور ضیاع سے واقف ہوں۔ میں نے اپنے اس این 95 ماسک کو دوبارہ استعمال کیا جو مجھے چین کے دورے کے دوران دیا گیا تھا۔ بلاخر اس کا ایک سٹریپ ٹوٹ گیا ہے، لہذا شہید ونگ کمانڈر نعمان اکرم کے اہلخانہ سے تعزیت کے موقع پر آپ مجھے ایک عام ماسک پہنے دیکھ سکتے ہیں۔‘

جبکہ مہ بینا نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے ان کی حمایت کرتے ہوئے ردعمل دیا کہ ’جناب صدر آپ کو لوگوں سے ملتے وقت این 95 ماسک یا اچھا سرجیکل ماسک ضرور پہننا چاہیے۔‘

جبکہ ایک صارف نے صدر مملکت کے این 95 ماسک پہننے پر ہلکہ پھلکہ تنقیدی انداز اپناتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کچھ یوں کیا۔

اس سے قبل بھی چند سرکاری اہلکار اور سیاستدان این 95 ماسک پہنے دکھائی دیتے رہے ہیں۔

جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر ایک بحث یہ بھی جاری ہے کہ کس کس کو حفاظتی لباس پہننے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں بدھ کی رات بلوچستان کے وزیر اعلیٰ جام کمال خان نے ٹوئٹر پر عوامی رائے کو جانچنے کے لیے رائے شماری کے لیے ایک ٹویٹ شئیر کی جس میں انھوں نے عوام سے پوچھا کہ ’کیا آپ کے خیال میں ایسے ڈاکٹروں کو جو اس ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں میں اپنی خدمات انجام دیتے ہیں جہاں کورونا سے متاثرہ ایک بھی مریض موجود نہیں ہے، ذاتی حفاظتی لباس پہننا چاہیے؟

وزیر اعلیٰ بلوچستان کی جانب سے اس پول کو شروع کرنا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین نے فوری اس پر ردعمل دینا شروع کر دیا۔ لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان بھی صارفین کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور اعتراضات کا جواب دیتے نظر آئے۔

بلال ڈار نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’او پی ڈی وہ جگہ ہے جہاں ہر طرح کے مریض آتے ہیں اس لیے ان ڈاکٹروں کا حفاظتی کِٹس کی اشد ضرورت ہے، جیسے آپ N95 ماسک پہن کر باہر نکالتے ہیں ویسے ہی ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بھی اس کی ضرورت ہے۔‘

ایک اور صارف ڈاکٹر مستجاب خان نے جام کمال کی اس رائے شماری پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’میں نہیں سمجھتا کہ اس سوال کا جواب انھیں دینا چاہیے جو صحت کے ماہرین نہیں ہیں اور میرے خیال میں ذاتی حفاظت کا سامان طبی عملے کے ہر فرد کا حق ہے۔‘

جس کے جواب میں وزیر اعلیٰ جام کمال کا کہنا تھا کہ ذاتی حفاظت کا سامان موجود ہونا چاہیے لیکن ضرورت پڑنے پر ہی ڈاکٹر کو فراہم کیا جائے۔

سوشل میڈیا صارفین فرحان ورک نے ویڈیو بنا کر جبکہ ڈاکٹر گلزار نے ٹویٹ کے ذریعے وزیر اعلیٰ کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ اب کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اکثر افراد جن میں یہ وائرس پایا جاتا ہے ان میں اس کی علامات نہ ہوں۔

تو عین ممکن ہے کہ جب ایسا شخص کسی بھی ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں میں آئے تو اس سے یہ وائرس ڈاکٹر میں منتقل ہو جائے اور کیونکہ ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں میں موجود ڈاکٹر روزانہ سینکٹروں مریضوں کو دیکھتے ہیں اس لیے یہ وائرس ڈاکٹر سے کئی دیگر مریضوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے۔

تاہم جام کمال کا کہنا ہے کہ اس صورت میں تمام مریضوں کو ماسک اور دستانے پہن کر ہسپتال کے شعبہ بیرونی مریضاں میں آنا چاہیے اور ڈاکٹر دو ماسک پہن کر ایسے مریضوں کو دیکھ سکتا ہے۔

متعدد سوشل میڈیا صارفین نے وزیراعلیٰ بلوچستان کو مشورہ دیا کہ وہ سوشل میڈیا پر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں۔

جہاں ایک جانب سوشل میڈیا صارفین نے وزیر اعلیٰ بلوچستان پر تنقید کی وہیں چند صارفین نے ان کا ساتھ دیتے ہوئے انھیں اس رائے شماری کو نہ کروانے کا مشورہ بھی دیا۔

تاہم ایک طرف جہاں بعض حکومتی عہدیدار ڈاکٹروں سمیت تمام عوام کو اس بات کی تلقین کر رہے ہیں کہ این 95 ماسک جیسے حفاظتی سامان صرف ان ماہرین صحت کے لیے ہیں جو کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال پر معمور ہیں۔