کورونا وائرس: بی بی سی کی نامہ نگار جب اپنا کورونا وائرس کا ٹیسٹ کروانے گئیں

    • مصنف, ترہب اصغر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور

چند روز قبل گلے میں ہلکا درد محسوس ہوا جسے میں نے ہر عام شخص کی طرح نظر انداز کر دیا اور آفس کے کام سے ٹوبہ ٹیک سنگھ چلی گئی۔ پورا دن کام کرنے کے بعد جب لاہور واپس آئی تو تھکن کے ساتھ ساتھ جسم میں بھی درد ہونے لگا۔ میں نے زیادہ توجہ نہیں دی اور درد شکن گولی کھا کر گھر آ کر سو گئی۔

رات بھر مجھے کھانسی ہوتی رہی۔ صبح ہوئی تو مجھ میں اٹھنے کی ہمت نہیں تھی اور ہلکا بخار بھی ہو رہا تھا۔ خیر، میں نے ہمت کر کے کچھ کھایا اور پھر سے بخار دور کرنے والی دوا کے ساتھ ایک اینٹی الرجی کھا لی جس سے میرا بخار اتر گیا۔

لیکن کورونا وائرس کے ڈر کے پیش نظر میں نے اپنے آپ کو گھر والوں سے علیحدہ کر لیا۔

ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے خود ہی کوئی دوائی کھا کر اپنے تئیں اپنا علاج کر لیتا ہے۔ میں نے بھی پہلے یہی غلطی کی۔ دوا کا اثر اترتے ہیں مجھے شدید کھانسی شروع ہوگئی اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی جس سے میری طبیت مزید بگڑ گئی۔

اگلے روز ہی میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں پہنچی جہاں ڈاکٹر نے مجھے داخل کر لیا اور میرے کچھ ٹیسٹ اور ایکسرے کروائے۔ تاہم اسی دوران انھوں نے مجھے انجیکشن اور ڈرپ بھی لگائی۔

ایکسرے دیکھنے کے بعد ڈاکٹر نے بتایا کہ میرے سینے میں شدید انفیکشن ہے۔ کچھ دیر ہسپتال میں رکھنے کے بعد ڈاکٹر نے مجھے دوائی دے کر گھر بھیج دیا۔ اگلے روز میرا پیٹ بھی خراب ہو گیا جس کے بعد میں دوبارہ ڈاکٹر کے پاس گئی۔

اس بار پر انھوں نے کہا کہ جو ادویات آپ لے رہی ہیں وہ پیٹ نہیں خراب کرتیں اور انھوں نے دو مزید دوائیں میرے نسخے میں شامل کرنے کے بعد کہا کہ ’آپ یہ ایک دن اور کھا کر دیکھیں۔ اگر بہتری نہیں ہوتی تو پھر ہم دیکھیں گے کہ کیا کرنا چاہیے۔‘

میری کھانسی مزید بگڑ رہی تھی۔

اسی دوران حکومت پنجاب کی جانب سے شیئر کیے جانے والے ڈیٹا کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے ایک مشتبہ مریض کی شناخت ہو چکی تھی جس کا تعلق بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا۔

یہ جان کر مجھے پریشانی لاحق ہو گئی کیونکہ میں چند روز قبل ہی وہاں سے ہو کر آئی تھی۔

میں نے لاہور کے ایک نجی ہسپتال سے رابطہ کیا اور بتایا کہ میں اپنا ٹیسٹ کروانا چاہتی ہوں۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہم کورونا کے ٹیسٹ نہیں کرتے، آپ کو لاہور کے سروسز ہسپتال جانا ہوگا۔

میں نے اپنے ایک جاننے والے ڈاکٹر سے معلوم کیا کہ ٹیسٹ کروانے کے لیے کس وارڈ میں جاؤں تو اس نے کہا ’سروسز تو نہ ہی جاؤ،، کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس سے بہتر ہے کہ کسی نجی لیب چلی جاؤ، وہاں سے ٹیسٹ کروا لو۔‘

یہ سن کر میں لاہور کی ایک نجی لیب پہنچی تو معلوم ہوا کہ کورونا ٹیسٹ کروانے کے لیے مجھے 7900 روپے دینے پڑیں گے۔

میرے علاوہ وہاں دو اور لوگ کورونا کا ٹیسٹ کروانے کے لیے موجود تھے۔ کاؤنٹر پر کھڑا ایک لڑکا اپنے ٹیسٹ کی رسید لے رہا تھا۔ اس نے پوچھا کہ رپورٹ کب تک ملے گی کیونکہ میں نے کچھ دن میں سفر کرنا ہے۔

اس پر لیب کے نمائندے نے کہا کہ اگلے دن مل جائے گی۔ پاس کھڑے ایک شخص سے پوچھا کہ کیا آپ بھی کورونا ٹیسٹ کروانے آئے ہیں تو وہ بولا: ’جی۔ میں تو پہلے سروسز ہسپتال گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ یہاں ٹیسٹ نہیں ہوتا، آپ باہر سے کروا آئیں اگر آپ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو گئی تو ہم آپ کو داخل کر لیں گے۔‘

اس کے بعد کورونا ٹیسٹ کا نمونہ لینے کے لیے مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں مجھے کرسی پر بٹھانے کے بعد مجھے سر اوپر کی طرف کرنے کو کہا گیا اور پھر میرے ناک میں کاٹن سواب کے ذریعے نمونہ لیا گیا۔

اس سب کے بعد مجھے گھر بھیج دیا گیا۔ چوبیس گھنٹے بعد مجھے رپورٹ ملی جس سے معلوم ہوا کہ مجھے کورونا وائرس نہیں ہے۔

پنجاب میں کورونا وائرس کی صورتحال

حکومت پنجاب کی جانب سے پہلے صوبے بھر میں کل تین سرکاری ہسپتال کورونا وائرس کی تشخیص اور تصدیق کے لیے مختص کیے گئے ہیں جن میں لاہور کا سروسز ہسپتال، ملتان کا نشتر ہسپتال اور راولپنڈی کا بینظیر ہسپتال شامل ہیں۔

حکومت کے ترجمان حافظ قیصر کے مطابق پنجاب بھر میں سرکاری یونیورسٹیوں کے ہاسٹلز کو قرنطینہ کے طور پر استعمال کریں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ’اس کے علاوہ آئیسولیشن وارڈ ہمارے پاس پنجاب کے ہر ہسپتال میں موجود ہیں تاہم اگر کسی مریض میں کورونا وائرس کی تصدیق ہو جاتی تو اس کے لیے ہم نے الگ یونٹ بنائے ہوئے ہیں۔‘

تاہم ان کے مطابق کورونا کے ٹیسٹ کرنے کی سہولت پنجاب میں سرکاری طور پر صرف پرائمری اینڈ سکینڈری ہیلتھ کئیر کی بائیو ٹیسٹنگ لیب میں موجود ہے۔ ’جن مریضوں کے نمونے لاہور اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں سے لیے جاتے ہیں وہ یہیں پاس آ جاتے ہیں اور ان کی ٹیسٹنگ ہم بائیو لیب میں ہی کرتے ہیں۔‘

ان کے مطابق دیگر نمونے اسلام آباد کے نیشیل انسٹیٹویٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کو بھجوا دیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ پرائیوٹ لیبز بھی یہ ٹیسٹ کر رہی ہیں۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ پنجاب کے پاس کتنی ٹیسٹنگ کٹس موجود ہیں تو ترجمان نے بتایا کہ فی الوقت پنجاب کے پاس 1050 کورونا ٹیسٹ کٹس دستیاب ہیں جبکہ مزید ایک ہزار کٹس ہمیں ایک دو روز میں مل جائیں گی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم ابھی صرف ان لوگوں کا ہی ٹیسٹ کر رہے ہیں جن کو اس کی واقعی ہی ضرورت ہے۔

اس حوالے سے مشیر صحت ڈاکٹر ظفر مرزا میڈیا پر کہہ چکے ہیں کہ کورونا کے ٹیسٹ حکومت پاکستان کی طرف سے بالکل مفت کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق کئی لوگ شکایت کر رہے ہیں کہ پرائیوئٹ لیبز کورونا ٹیسٹ کی بہت زیادہ قیمت وصول کر رہی ہیں۔ ’اس پر ہم پرائیوئٹ لیبز کے مالکان سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ ان کے ساتھ مل کر اس ٹیسٹ کی ایک مخصوص قیمت مقرر کر سکیں۔‘