’ذاتی وجوہات کی وجہ سے خاموش تھی، اپنے مقاصد سے پیچھے نہیں ہٹی ہوں: مریم نواز شریف

مریم نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز شریف نے کئی ماہ بعد خاموشی توڑتے ہوئے کہا کہ وہ 'ذاتی وجوہات' کی بنا پر خاموش تھیں 'لیکن اس کا یہ مطلب نہ لیا جائے کہ وہ اپنے مقصد سے پیچھے ہٹی ہیں'۔

انہوں نے سوال کیا کہ 'میری خاموشی کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں،لیکن اگر آج میں بولوں گی تو کیا میڈیا دکھائے گا؟'

مریم نواز ایک طویل عرصے کے بعد میڈیا سے بات کررہی تھیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی اور پھر میڈیا کے سوالوں کے جواب دیئے۔

مریم نواز نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے ساتھ ہیں اوریہ کہ ' اس مقصد کے ساتھ مضبوط رشتہ ہے'۔ مریم نواز نے پارٹی کی قیادت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ' جب میری قیادت سمجھے گی اور ہدایت کرے گی کہ میں آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کروں تو مجھے پیچھے نہیں پائیں گے'۔

مریم نواز شریف ایک ایسے وقت سیاسی منظر نامے پر دوبارہ سامنے آئی ہیں جب پاکستان مسلم لیگ ن کی قیادت کی وطن واپسی سے متعلق جماعت کے اجلاسوں میں بات چیت کی جا رہی ہے۔ رواں ہفتے ہی مسلم لیگ ن کے بعض صوبائی اراکینِ اسمبلی نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی تھی جس پر ان سے جواب طلب کیا گیا ہے۔ جبکہ خود پارٹی کے حالیہ اجلاس میں بھی سینئر رہنماؤں کی جانب سے شہباز شریف کی وطن واپسی کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے

مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے نجی ٹی وی جیو نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ' شہبازشریف کو پاکستان واپس آنا چاہیے، وہ اس سے اتفاق کرتے ہیں کہ جماعت کے صدر کی لمبی غیر حاضری سے اخبارات کو خبریں بنانے کا موقع مل رہا ہے'۔

تاہم ان سے قبل مسلم لیگ ن کے جنرل سیکرٹری احسن اقبال نے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'مسلم لیگ ن کےصدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی قیادت پر کسی نے سوال نہیں اٹھایا، وہ جب تک محسوس کریں نوازشریف کے علاج کے لیے لندن میں رُکیں'۔

مریم نواز شریف نے میڈیا پر آنے والی ان خبروں کی بھی تردید کی ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف نے مریم نواز کی غیر موجودگی میں علاج نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مریم نواز نے کہا ہے کہ ' سابق وزیراعظم کے دل کی ایک شریان80 سے 90 فیصد بند ہے۔انہوں نے صرف یہ کہا تھا کہ مریم نواز کی تاریخیں قریب ہیں، اس لیے تھوڑا انتظار کرلیتا ہوں'۔

خیال رہے کہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اپنے بھائی اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ گذشتہ سال 19 نومبر سے لندن میں موجود ہیں۔ نواز شریف طبی معائنے کے لیے لندن گئے تھے۔ جبکہ اس وقت حکومت پاکستان نے برطانوی حکومت کو خھ لکھا ہے کہ نواز شریف سزا یافتہ مجرم ہیں لہذا انہیں عدالت کی طرف سے سزا کو پورا کرنے کے لیے انہیں ملک واپس بھیجا جائے۔

پاکستان اور برطانیہ کے درمیان مجرموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ موجود نہیں ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت کی طرف سے لکھے گئے اس خط کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔