فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں اپیلیں: ’بھتیجیاں روزانہ سوال کرتی ہیں کہ ان کے والد کب آئیں گے‘

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پشاور ہائی کورٹ میں منگل معمول کا دن نہیں تھا۔ عدالت میں بڑی تعداد میں ان افراد کے رشتے دار موجود تھے جنھیں پاکستان کی فوجی عدالتوں سے مختلف مقدمات میں سزائیں سنائی گئی ہیں۔

صوبائی عدالتِ عالیہ میں فوجی عدالتوں سے سزاؤں کے خلاف دائر کی گئی 200 سے زائد اپیلوں کی سماعت جاری ہے مگر اب اسے سات اپریل تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

جب اس طرح کے کسی مقدمے کی سماعت ہوتی ہے تو دور دراز علاقوں سے بزرگ اور قبائلی افراد بڑی تعداد میں موجود ہوتے ہیں۔

منگل کو بھی عدالت آنے والوں میں بیشتر کا تعلق قبائلی علاقوں سے تھا جن میں سے کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی تو کسی کے والد جیل میں ہیں۔

ان افراد میں بہت سے ایسے بزرگ بھی شامل تھے جو اپنے بچوں کی رہائی کے منتظر ہیں اور ایسے افراد بھی جو اپنے لاپتہ رشتے داروں کے خاندانوں کی کفالت کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’ادھار لے کر آتا ہوں شاید کوئی خوشخبری ملے‘

گل حکیم سید کا تعلق خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ سے ہے۔ ان کے بیٹے فضل حکیم کو سنہ 2011 میں قطر سے واپس پاکستان آنے کے چار دن بعد ہی گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’فضل حکیم کی عمر اب تقریباً 38 برس ہو گی۔‘

گل حکیم نے بتایا کہ وہ خود بھی قطر میں تھے اور ڈیڑھ برس مزدوری کرنے کے بعد بیٹے کو چھٹی پر پاکستان بھیجا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ سات برس تک انھیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کہاں گیا۔ انھوں نے اپنے بیٹے کو اسلام آباد، پشاور، کوہاٹ ہر جگہ تلاش کیا لیکن کچھ پتہ نہیں چلا۔

ان کا کہنا تھا کہ اب انھیں علم ہوا ہے کہ ان کا بیٹا سکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے اور اسے مردان جیل بھیج دیا گیا ہے۔ گل حکیم کے مطابق ان کے پانچ بچے ہیں اور پانچوں معذور ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان واپس آ گئے ہیں اور سب کچھ اس مقدمے پر خرچ کر چکے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ [ہر سماعت پر] ’کسی سے ادھار لے کر آتا ہوں کیونکہ یہاں یہ امید ہوتی ہے کہ شاید کوئی خوشخبری ملے اور میرا بیٹا رہا ہو کر گھر واپس آ جائے۔‘

منگل کی عدالتی کارروائی اور کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پشاور ہائی کورٹ نے اس طرح کی اپیلوں پر درخواست گزاروں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جس پر وزارت دفاع کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

سماعت کے دوران سکیورٹی حکام نے عدالت کو بتایا کہ 75 افراد کا ریکارڈ عدالت میں جمع کروایا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل بھی 75 افراد کا ریکارڈ پیش کیا جا چکا ہے۔ سیکورٹی حکام کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر مختلف مقدمات میں قید 150 افراد کا ریکارڈ پیش کیا گیا ہے۔

منگل کے روز ان اپیلوں کی سماعت چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور نے کی۔

سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل قاضی بابر ارشاد اور صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل شمائل بٹ نے عدالت میں موقف اپناتے ہوئے استدعا کی کہ سپریم کورٹ میں بھی اسی نوعیت کے مقدمات زیر سماعت ہیں اس لیے سماعت کو ملتوی کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ پیر کو سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے روکنے کے لیے وفاقی حکومت کی استدعا کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا تھا کہ عدالتِ عظمیٰ ہائی کورٹ کے معاملات میں کیسے مداخلت کر سکتی ہے۔

وفاقی حکومت کی طرف سے جسٹس وقار کو فوجی عدالتوں کے خلاف اپیلوں کی سماعت سے روکنے کی استدعا ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کی تھی۔

’مجھے بیٹے کی انجینیئرنگ پر فخر تھا‘

شاہی خان کے بیٹے عرب جان نے انجینیئرنگ کر رکھی ہے لیکن بے روزگاری کے باعث وہ جمرود میں جنریٹر کی مرمت اور سولر پینلز فروخت کرتے تھے۔ شاہی خان نے بتایا کہ انھیں اپنے بیٹے کے انجینیئرنگ کرنے پر فخر تھا اور ان کا بیٹا ’صبح کام کے لیے جاتا اور شام کو گھر واپس آ جاتا تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کو رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی کی نگرانی میں پولیٹیکل انتظامیہ کے حوالے کیا گیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ انھیں بہت عرصے تک اس کا علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کہاں ہے۔

’اب میرا بیٹا کوہاٹ جیل میں قید ہے اور اسے سزائے موت سنائی گئی ہے۔‘

شاہی خان کے چہرے پر غم اور اداسی چھائی ہوئی تھی۔ ان کے چہرے کی جھریاں ان کی اجڑی زندگی کی کہانی سنا رہی تھیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہاں عدالت آتے وقت ایک امید بندھ جاتی ہے کہ اور جب سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کر دی جاتی ہے تو ایک مرتبہ پھر مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اب یہی زندگی ہے۔‘

’میرے پاس بہانے ختم ہو گئے‘

ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے محمد عزیز کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی حنظلہ کو پولیٹیکل انتظامیہ نے بلایا تھا جس کے بعد سے ان کے بھائی غائب ہیں اور انھیں کچھ نہیں بتایا گیا کہ ان کا بھائی کس کی تحویل میں ہے۔

حنظلہ کی چار بیٹیاں ہیں اور وہ جمرود میں مزدوری کرتے تھے۔

محمد عزیز نے بتایا کہ ’ان کی بھتیجیاں روزانہ ان سے سوال کرتی ہیں کہ ان کے والد کب آئیں گے تو وہ انھیں تسلی دیتے ہیں کہ صبح آجائیں گے لیکن اب ان کے پاس بہانے ختم ہو گئے ہیں جن سے وہ بھتیجیوں کو تسلی دے دیا کرتے تھے۔‘

انھوں نے مطالبہ کیا کہ ایک آزاد عدالتی کمیشن قائم کیا جائے جس میں ان تمام افراد کو پیش کیا جائے اور اگر کسی پر جرم ثابت ہو جائے تو اسے سزا دی جائے۔

’کئی لوگوں کو علم ہی نہیں کہ وہ کیا کر سکتے ہیں‘

اس وقت پشاور ہائی کورٹ میں اس طرح کی تقریباً 220 درخواستیں زیر سماعت ہیں جن کی اپنی اپنی کہانیاں ہیں۔ گرفتار یا لاپتہ افراد کے لواحقین میں سے چند تو عدالت آ جاتے ہیں لیکن ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو اس نظام سے مایوس ہے۔

شبیر گگیانی ایڈووکیٹ جو اس وقت تقریباً ایک سو ایسے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں کا کہنا ہے کہ عدالت میں 220 افراد کی اپیلیں دائر ہیں لیکن ان میں ایسے افراد بھی گرفتار ہیں جو وکیل رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے یا انھیں اس بارے میں علم ہی نہیں ہے کہ وہ کیا کر سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس لیے انھوں نے جیل حکام سے یہ درخواست کر رکھی ہے کہ اگر ایسا کوئی قیدی ہو جو وکیل نہیں کر سکتا تو انھیں مطلع کیا جائے تاکہ وہ اس کے مقدمے کی پیروی کر سکیں۔

ریٹائرڈ ملیشیا اہلکار کو بیٹے کی تلاش

سید بادشاہ کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود سے ہے۔ سید بادشاہ ملیشیا سے ریٹائرڈ ہیں اور پینشن پر گزارا کر رہے ہیں۔ اگر کبھی معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو مزدوری کر کے گزر بسر کر لیتے ہیں۔

ان کے مطابق ان کے سب سے بڑے بیٹے کو سکیورٹی اہلکار سنہ 2015 میں اپنے ساتھ لے گئے تھے اور تب سے انھیں کچھ علم نہیں ہے کہ اسے کہاں رکھا ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کا بیٹا مزدوری کرتا تھا جبکہ دیگر بچے کم سن ہیں اور زیر تعلیم ہیں۔

'عدالت اعترافِ جرم کی حیثیت دیکھے گی‘

سجید خان آفریدی ایڈووکیٹ تقریباً 25 افراد کے مقدمات کی پیروی کر رہے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سیکیورٹی حکام کی جانب سے اب ریکارڈ لایا جا رہا ہے اور جن مقدمات کی وہ پیروی کر رہے ہیں ان میں بیشتر کا ریکارڈ انھوں نے دیکھا ہے جس میں درخواست گزاروں نے اقبالِ جرم کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عدالت ان مقدمات میں یہ دیکھے گی کہ آیا یہ اعتراف جرم قانون کے تناظر میں درست تھے یا نہیں اور عدالت ان کو دیکھتے ہوئے اپنا فیصلہ دے گی۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون اور آئین کے مطابق ہر شہری کو حق حاصل ہے کہ اسے اپنا دفاع کرنے اور اپنا مقدمہ پیش کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہو۔

انھوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ جنرل ان مقدمات میں فوجی عدالتوں کے قیام کی اجازت اور توسیع کے قانون کو جواز بناتے ہوئے ان سزاؤں کو قانونی قرار دے رہے ہیں اور انھوں نے عدالت میں موقف اپنایا ہے کہ ان افراد کو جو سزائیں سنائی گئی ہیں یہ سب اسی قانون یعنی ایکشن ان ایڈ آف سول پاور ریگولیشن فار فاٹا اینڈ پاٹا کے مطابق ہیں۔'

ریڑھی بان مقدمہ لڑے کہ بچوں کی پرورش کرے؟

عزیزالرحمان ریڑھی پر خشک میوہ جات فروخت کرتے ہیں۔ ان کے بھائی محمد ایاز گذشتہ چند برسوں سے لاپتہ تھے اور پھر انھیں معلوم ہوا کہ ان کے بھائی کو مردان جیل میں رکھا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے بھائی نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دی جائے لیکن بغیر کسی گناہ اور بغیر کسی جرم کے گرفتار کرنا اور سزا دینا کہاں کا انصاف ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ اب اپنے بھائی کے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں۔

عزیزالرحمان نے افسردگی سے سوال کیا کہ ’میں اپنے بھائی کے مقدمے پر پیسہ خرچ کروں یا بچوں کی پرورش کروں۔‘