آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کورونا وائرس: چین سے درآمدات میں کمی، پاکستان کی صنعت پر کیا اثرات پڑیں گے
- مصنف, فرحت جاوید
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں ٹیکسٹائل انڈسٹری سے منسلک بہت سے لوگ پریشان ہیں کہ دھاگہ، بٹن اور زپ وغیرہ مہنگے ہو رہے ہیں۔ اور اس کی وجہ ہے کورونا وائرس۔ کیونکہ پاکستان چین سے سب سے زیادہ دھاگہ درآمد کرتا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ آپ جس دھاگے سے سلائی کرتے ہوں وہ مہنگا نہ ہوا ہو۔ لیکن ملک میں اشیا مہنگی ہو رہی ہیں اور برآمدات و درآمدات متاثر ہو رہی ہیں۔
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ’یو این سی ٹی اے ڈی‘ یعنی کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق چین میں کورونا وائرس کے باعث اس کی برآمدات کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ پاکستان سمیت دنیا کی کئی معیشتیں اس کی زد میں آئی ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ متاثرہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی ویلیو چین ہے۔ جس میں اب تک 4 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی کمی آئی ہے۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ سی ٹی اے ڈی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ سرمایہ کاری، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کرتا ہے تاکہ انھیں عالمی سطح پر بڑی معیشتوں سے فائدہ پہنچے اور وہ ان میں اپنا حصہ بھی ڈال سکیں۔ کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈویلپمنٹ نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ جاری کی جس میں کورونا وائرس کے باعث عالمی تجارت میں اب تک ہونے والے اور متوقع نقصان کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ میں جاری فہرست کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا میں 20 معیشتیں نقصان کا شکار ہیں۔ جن شعبوں سے متعلق اعداد و شمار دیے گئے ہیں ان میں سب سے زیادہ متاثرہ صحت سے متعلق آلات، مشینری، آٹوموٹِو اور مواصلات کا سامان ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رپورٹ کے مطابق چین گذشتہ دو دہائیوں میں عالمی معیشت میں ایک اہم ترین ملک بن گیا ہے۔ چین کا یہ مقام صرف صارفین کی مصنوعات تیار کرنے اور برآمد کرنے والے ملک کے طور پر ہی نہیں ہے۔ بلکہ چین دنیا میں خام مال اور اسپیئر پارٹس سپلائی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ یہ خام مال اور دیگر سامان باقی ممالک میں موجود مینوفکچرنگ انڈسٹریز اپنی پیداوار کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
آج دنیا کو ان مصنوعات کا 20 فیصد حصہ چین برآمد کر رہا ہے، پیداوار میں کمی سے سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 2 فیصد کمی ظاہر ہوتی ہے۔
پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری پر اثرات
بی بی سی نے آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل شاہد ستار سے بات کی اور ان سے پوچھا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو کتنا نقصان پہنچ رہا ہے۔
شاہد ستار نے بتایا کہ فی الحال مقامی سطح پر اس لحاظ سے فائدہ ہو رہا ہے کہ مقامی مینوفیکچررز کی اشیا بِک رہی ہیں۔ مگر ایسا نہیں کہ تمام ہی خام مال ہمارے پاس موجود ہے۔ ان کے مطابق سب سے بڑی چیز کیمیکلز ہیں جو چین سے آ رہے تھے اور ان کی برآمدات اب ختم ہو رہی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ’ہم نے متبادل مارکیٹس تلاش کیں ہیں مگر وہ نہایت مہنگی پڑ رہی ہیں۔ اس وقت تو یہاں صنعت کاروں کے پاس سٹاکس موجود ہے جبکہ کئی آئیٹمز بھی مقامی سطح پر تیار ہو رہے ہیں مگر یہ قلیل مدتی فائدہ ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’جیسے ہی یہ سٹاک ختم ہو گا اور مقامی مینوفیکچررز کی طلب، رسد کے مقابلے میں کم ہو جائے گی تو انڈسٹری پر تباہ کن اثرات پڑیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ پاکستان نے اس وقت متبادل مارکیٹ کے طور پر یورپ، تائیوان اور جاپان سے اشیا برآمد کرنے کا سوچا ہے مگریہ دیرپا ثابت نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ڈائیز اور کیمیکلز تو آ ہی چین سے رہے تھے، نئے ملکوں کی طرف جانا اور اس کا فائدہ مند ہونے میں وقت لگتا ہے کیونکہ سپلائی چین ٹوٹ جائے تو اس کو دوبارہ قائم کرنا مشکل ہے۔‘
تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس وقت عالمی سطح پر مارکیٹ میں ایک خلا پیدا ہوا ہے جسے پُر کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ’مارکیٹ میں ایک بڑی گنجائش پیدا ہوئی ہے مگر ہم اس کا فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ کیونکہ ایک طرف ہماری استعداد کا مسئلہ ہے جبکہ دوسری جانب خام مال کا۔ اگر حکومت اس وقت ہماری مدد کرے خاص طور پر ڈیوٹیز کم کرنے کی مد میں تو کورونا وائرس سے پیدا خلا کا فائدہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے حکومت کو تجاویز تو دی ہیں اب جواب کا انتظار ہے۔‘
خیال رہے کہ پاکستان فی الحال سی ٹی اے ڈی کی فہرست میں کافی پیچھے ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ صورتحال کئی صنعت کاروں کے لیے رحمت سے کم نہیں۔ ملک میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ کئی ایسے صنعتکار ہیں جن کا کاروبار اسی وائرس کے باعث چمک اٹھا ہے۔
مقامی صنعت کاروں کو فائدہ
دھاگے کی صنعت سے منسلک محفوظ الہی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ’اس وقت آرڈر لِسٹ بھری ہوئی ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والے کورونا وائرس نے مقامی سطح پر تیار ہونے والی اشیا کی فروخت میں اضافہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’چین سے دھاگے اور ٹیکسٹائل سے منسلک دیگر خام اشیا کی برآمد بند ہونے سے ہماری مانگ میں خاصا اضافہ ہو گیا ہے۔ سلائی کا دھاگہ وہاں بنتا تھا جو اب بند ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ بٹن اور کپڑوں میں استعمال ہونے والی زپ وغیرہ بھی نہیں آ رہی تو ایسے میں ہم جیسے مقامی صنعت کاروں کو فائدہ ہوا ہے۔‘
یو این سی ٹی اے ڈٰی کے تخمینوں کے مطابق کورونا وائرس یا کووڈ-19 کی وبا کی وجہ سے چین میں مینوفیکچرنگ کی سست روی عالمی تجارت میں خلل ڈال رہی ہے اور اس کا نتیجہ عالمی ویلیو چینزمیں برآمدات میں 50 ارب ڈالر کی کمی ہو سکتی ہے۔ چینی پیداوار میں کمی کسی بھی ملک کے لیے اس لیے اہم ہے اس کی صنعتوں کا چینی سپلائرز پر کتنا انحصار ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، یورپی، امریکی اور مشرقی ایشیائی خطے کی ویلیو چین اس سے متاثر ہو گی۔
جبکہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ متاثر ہونے والی 20 معیشتوں میں یورپی یونین سر فہرست ہے جسے 15.6 بلین یعنی 15 ارب 60 کروڑ ڈالر کی مندی کا سامنا ہے۔ یہ مندی چین سے برآمد ہونے والے اس سامان اور آلات میں دکھائی دیتی ہے جو یورپی یونین میں مختلف صنعتوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ کو 5 ارب 80 کروڑ ڈالر، جاپان کو 5 ارب 20 کروڑ ڈالر اور انڈیا کو فی الوقت 348 ملین ڈالر کی مندی کا سامنا ہے۔