لاہور ہائی کورٹ نے حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کرلی لیکن وہ ابھی رہا نہیں ہو سکتے

حمزہ شہباز

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنلاہور ہائی کورٹ نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی رمضان شوگر ملز کیس میں ضمانت منظور کرلی

لاہور ہائی کورٹ نے جمعرات کو پنجاب میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز شریف کی ضمانت منظور کرلی تاہم آمدن سے زائد اثاثوں اور منی لانڈرنگ کیس کی وجہ سے وہ ابھی جیل میں ہی رہیں گے۔ عدالت حمزہ شہباز کے خلاف نیب کے دیگر مقدمات پر سماعت منگل کو کرے گی۔

صحافی عباد الحق کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس چودھری عبدالعزیز پر مشتمل دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کی۔

یاد رہے کہ حمزہ شہباز کے والد شہباز شریف کی پہلے ہی رمضان شوگر ملز ریفرنس میں لاہور ہائئ کورٹ سے ضمانت ہو چکی ہے۔

اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کی لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت ہونے پر اپوزیشن چیمبر میں جشن کا سا سماں تھا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حمزہ شہباز کی ضمانت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ناحق قید کاٹنے والے حمزہ شہباز کی جرات و استقامت قابل فخر ہے۔ ’اللہ تعالیٰ کا احسان اور رحمت ہے کہ آج یہ خوشی کا دن اس نے عطا فرمایا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وقت نے مسلم لیگ نون کے قائدین اور رہنماؤں کی بے گناہی ثابت کی (اور) ملک وقوم کی خدمت کرنے والے قوم اور قانون کی عدالت میں سرخرو ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خیال رہے کہ نیب نے حمزہ شہباز کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار کیا تھا اور وہ اس وقت جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر جیل میں ہیں۔

جعرات کو سماعت کے دوران حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت میں درخواست ضمانت پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نیب نے بدنیتی کی بنیاد پر رمضان شوگرملز میں تحقیقات کا آغاز کیا۔ کئی بار انکوائری کی گئی لیکن کچھ ثابت نہیں ہوا۔

ان کے مطابق 'عوامی مفاد کےپیش نظر صوبائی کابینہ نے تحصیل بھوانہ میں سیوریج نالے کی تعمیر کی منظوری دی تھی اور اس مقدمے میں درخواست گزار کے والد شہباز شریف کی بھی اسی الزام میں ضمانت ہوچکی ہے۔'

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے نیب کے پراسیکیوٹر کوکہا کہ جو بات پوچھی جائے اس کا جواب نہیں آتا۔ ججز نے ریمارکس دیے کہ قوم کا پیسہ کیوں ضائع کر رہے ہیں؟

بینچ نے نیب پراسیکیوٹر سے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کرنے کے شواہد پیش کریں جس پر پراسیکیوٹر نیب نے جواب دیا کہ جس تفتیشی افسر نے تحقیقات کی ہیں وہ اپنے امتحانات کی وجہ سے چھٹی پر ہیں، جس پر ججز نے ریمارکس دیے کہ تحقیقات کا جو معیار ہے اس پر آپ سب کو پرائیڈ آف پرفارمنس دینا چاہیے۔

عدالت نے افسوس کا اظہار کیا کہ اگر نیب کے تفتیشی افسر 90 دن میں کوئی چیز فائنل نہیں کرسکتے تو کیا وہ وہاں بیٹھ کر کیا کرتے ہیں، عدالت نے تو قانون کے مطابق فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

رمضان شوگر ملز کیس نیب کا وہ مقدمہ ہے جس میں شریف خاندان کے اہم افراد کو ملزم بنایا گیا ہے۔ اس مقدمے میں نیب نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو کوٹ لکھپت جیل سے گرفتار کر کے اس وقت لاہور کی ایک احتساب عدالت کے سامنے پیش کیا جب وہ نیب کی طرف سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کے العزیزیہ ریفرنس میں جیل میں ہی تھے۔

مریم نواز کو ایون فیلڈ ریفرنس میں رہائی ملی تو نیب نے انھیں بھی رمضان شوگر ملز کیس میں ہی گرفتار کرلیا۔ رہائی کے دنوں میں مریم نواز عوامی مہم چلا رہی تھیں جس کے دوران وہ ملک کے مختلف شہروں میں عوامی جلسوں سے بھی خطاب کرتی تھیں۔

مریم نواز

،تصویر کا ذریعہRafaqat Dogar

نیب نے شہباز شریف کو بھی آشیانہ ریفرنس میں حراست میں لیا تھا جبکہ رمضان شوگر ملز کیس سمیت دیگر مقدمات میں بھی ان کو تفتیش کے لیے طلب کیا جاتا رہا۔

ان گرفتاریوں اور احستاب کے عمل پر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہاز شریف نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے نیب اور تحریک انصاف حکومت کا ’ناپاک گٹھ جوڑ‘ قرار دیا تھا۔

حمزہ شہباز مقدمہ: لاہور ہائی کورٹ میں سماعتوں کا احوال

حمزہ شہباز کی جس بنچ نے ضمانت منظور کی وہ مجموعی طور پر لاہور ہائی کورٹ کا تیسرا دو رکنی بینچ یے۔ اس سے پہلے دو مختلف بینچز حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت پر سماعت کر چکے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ریمارکس دیے کہ نیب سے جو پوچھا جائے وہ اس کے بارے میں جواب نہیں دیتا۔ حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز کے مطابق اُن کے موکل کے خلاف بے بنیاد الزام میں ریفرنس دائر کیا اور یہ تمام کارروائی بدنیتی کی بنیاد پر کی گئی۔

حمزہ شہباز کو نیب نے گذشتہ برس لاہور ہائی کورٹ اس سے وقت گرفتار کیا تھا جب حمزہ شہباز نے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست واپس لے لی۔

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری پر بھی لاہور ہائی کورٹ کے تین مخلتف بینچز نے سماعت کی۔

سب سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے حمزہ شہباز کی حفاظتی ضمانت منظور کرکے نیب کو گرفتاری سے روکا تھا اور یہ معاملہ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو مزید کارروائی کے لیے بھیج دیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کی تحلیل ہونے پر یہ معاملہ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو منتقل ہوگیا۔

حمزہ شہباز نے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کسی دوسرے بینچ میں منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کے عدم اعتماد پر یہ معاملہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو بجھوا دیا تھا۔

گذشتہ برس جب جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست پر سماعت شروع کی تو اُن کے وکیل نے درخواست ضمانت واپس لینے کی استدعا کی اور اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست نمٹا دی۔

حمزہ شہباز نے اپنی گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہائی کیلئے دوبارہ لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو اُن کی درخواست اسی دو رکنی بنچ کے روبرو سماعت کے لیے پیش کی گئی جس پر حمزہ شہباز نے عدم اعتماد کیا تھا۔

لاہورہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی ضمانت پر رہائی کے لیے درخواست پر سماعت شروع کی اور پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے وکلا کو بارو کرایا کہ اُن کے موکل نے بینچ پر عدم اعتماد کیا تھا اور کیا اب انہیں بینچ پر اعتماد ہے۔

حمزہ شہباز کے وکلا نے دو ٹوک انداز میں دو رکنی بنچ پر اعتماد اظہار کیا جس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا انھوں اپنے موکل سے ہدایات لی ہیں؟

حمزہ شہباز کے وکلا نے کہا کہ جو اس سے پہلے بد قسمتی سے اچھا نہیں ہوا تاہم وہ اپنے موکل حمزہ شہباز کی ہدایات پر مکمل اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کے اعتماد کا اظہار کرنے پر نیب کو نوٹس جاری کر دیے۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ کی تحلیل کے وجہ سے یہ معاملہ جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کو منتقل ہوا لیکن دو رکنی بینچ نے حمزہ شہباز کی درخواست ضمانت جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں ایک اور دو رکنی بینچ کو بجھوا دی کیونکہ وہ بینچ اس معاملے پر پہلے سماعت کرچکا تھا۔

حمزہ شہباز کی منی لانڈرنگ کے الزام میں رہائی کے لیے درخواست ضمانت پر اب کارروائی 11 فروری کو ہو گی۔