آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان: ہلمند میں فضائی حملے میں مارے جانے والے دو پاکستانیوں کی لاشیں ضلع چاغی میں حکام کے حوالے
- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ
افغانستان میں ایک فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے دو پاکستانی شہریوں کی لاشیں بلوچستان کے ضلع چاغی میں حکام کے حوالے کر دی گئی ہیں۔
یہ دونوں افراد ضلع چاغی سے متصل افغانستان کے علاقے چاربان میں ہلاک ہوئے تھے۔
چاغی میں ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دونوں افراد رباط کے قریب چاربان کے علاقے میں فضائی حملے کا نشانہ بنے۔ چاربان ضلع چاغی سے متصل افغانستان کا سرحدی علاقہ ہے۔
یہ علاقہ افغانستان کے سرحدی ضلع ہلمند میں ہے جو کہ پاکستانی سرحدی علاقے سے صرف چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ دستیاب تفصیلات کے مطابق جس وقت حملہ ہوا اس وقت ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص گاڑی کے اندر بیٹھا تھا جبکہ دوسرا گاڑی سے باہر کھڑا تھا۔
موصول ہونے والی بعض اطلاعات کے مطابق یہ دونوں افراد ڈرون حملے میں مارے گئے جبکہ چاغی میں چند افراد کا کہنا ہے کہ جس وقت حملہ ہوا اس وقت فضا میں ایک ہیلی کاپٹر پرواز کر رہا تھا۔ ہلمند افغان طالبان کا ایک مضبوط گڑھ ہے جہاں امریکی اور نیٹو ممالک کے افراد کو سخت مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔
دیگر سرحدی اضلاع کی طرح اس صوبے میں بھی پاکستان سے بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت ہوتی ہے۔ پاکستان سے لوگ کاروبار کی غرض سے بھی اس علاقے میں آتے جاتے رہتے ہیں۔
ماضی میں بھی ہلمند میں ڈرون کے علاوہ دیگر فضائی حملوں میں پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں۔
ہلاک ہونے والے پاکستانی شہری کون تھے؟
انتظامیہ کے اہلکار نے بتایا کہ چاربان میں مارے جانے والے دونوں پاکستانی شہریوں کی شناخت ہو گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک شخص کی شناخت منصور اسحق زئی کے نام سے جبکہ دوسرے کی شناخت محمد عارف کاکڑ کے نام سے ہوئی ہے۔ منصور اسحق زئی کا تعلق ضلع چاغی کے علاقے گردی جنگل سے تھا جبکہ محمد عارف کاکڑ کوئٹہ کے رہائشی تھے۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا یہ افراد کس کام سے افغانستان میں داخل ہوئے تھے تاہم بعض اطلاعات کے مطابق مارے جانے والے یہ دونوں افراد سنگ مرمر کے کاروبار سے منسلک تھے۔
خیال رہے کہ نہ صرف ضلع چاغی میں سنگ مرمر کے ذخائر ہیں بلکہ افغان علاقے ہلمند میں بھی اس کے ذخائر پائے جاتے ہیں۔