آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جسٹس فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس: ایف بی آر کو جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ سے تعاون کرنے کا حکم
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر سماعت روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے غیر ملکی اثاثوں سے متعلق تعاون کرنے کا حکم دیا ہے۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جسٹس عمر عطا بندیال نے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ غیر ملکی جائیدادوں پر جواب دینا چاہتی ہیں تو انھیں موقع دیا جائے۔
درخواست گزار پاکستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جسٹس فائز عیسیٰ سے منسوب جائیدادوں کے ذرائع آمدن غیر ملکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر غیر ملکی ذرائع آمدن ہوں تو منی لانڈرنگ، حوالہ یا ہنڈی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
جس پر بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ کیا ججز کو ٹیکس معاملات میں استثنیٰ حاصل ہے جس پر پاکستان بار کونسل کے وکیل نے کہا کہ ججز کو اس معاملے میں استثنیٰ حاصل نہیں ہے اور ٹیکس حکام سوال پوچھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جسٹس یحییٰ آفریدی نے دوبارہ استفسار کیا کہ اگر گوشوارے درست نہ ہوں تو کیا ججز سے ٹیکس حکام وضاحت لے سکتے ہیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ججز سے بھی وضاحت مانگی جا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ قانون کو اپنا راستہ اپنانے دیا جائے۔
سلمان اکرم راجہ نے موقف اپنایا کہ اہلیہ اور بچوں سے ذرائع آمدن پوچھے بغیر جج پر الزام عائد کیا گیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور سندھ ہائی کورٹ کے جج کے کے آغا کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں صدارتی ریفرنس پر سماعت روکنے سے متعلق نو درخواستوں کی سماعت سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ کر رہا ہے جس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججز پر ایسے ہی الزامات لگتے رہے تو ان کا وقار کیا رہ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریفرنس کے بعد جج پر دھبہ لگ جاتا ہے، ریفرنس بنانے میں احتیاط برتنی چاہیے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک روسٹم پرآئے اور کہا کہ وہ درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل ہیں اور وہ ان کے بیوی بچوں کے وکیل نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اگر جائیداد بیوی بچوں کی ہے تو اس کے بارے میں جواب دہ ان کا موکل کیسے ہو سکتا ہے۔
پاکستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے والدین بھی غیر ملکی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ جسٹس عیسیٰ کی اہلیہ اور بچے جواب دیے بغیر باہر جاتے تو نتیجہ کچھ اور نکلتا۔
وکیل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ خود ایف بی آر گئیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر اس ریفرنس کا رخ ہی تبدیل ہو جائے گا۔
سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے خود کو ایف بی آر کے سامنے پیش کیا۔
اُنھوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ نے ایف بی آر کے حکام سے کہا کہ وہ اپنے ٹیکس گوشواروں کی تفصصیلات دیکھنا چاہتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ایف بی آر کے حکام سے شکوہ بھی کیا کہ انھیں غیرملکی اثاثوں پر نوٹس کیوں نہیں دیا گیا۔
سلمان اکرم راجہ کے بقول ایف بی آر حکام نے جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کی اہلیہ گزشتہ روز ٹیکس حکام کے سامنے پیش ہوئیں۔
بینچ کے سربراہ نے کمرہ عدالت میں موجود ایڈشنل اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ آئندہ سماعت پر جسٹس فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا ایف بی آر کو جمع کروایا گیا جواب عدالت میں بھی پیش کیا جائے۔
بینچ میں موجود جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس نئی پیش رفت کے بعد کیا صدر مملکت ریفرنس پر کارروائی آگے بڑھانا چاہتے ہیں؟
ایڈشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں ہدایات لے کر آگاہ کریں گے جس پر جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب کچھ عدالت پر نہ چھوڑیں۔
پاکستان بار کونسل کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ایک اور درخواست گزار عابد حسن منٹو کے وکیل بلال منٹو نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھارہویں ترمیم میں سپریم جوڈیشل کونسل سے ازخود کارروائی کا اختیار واپس لیا گیا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عام شہری کونسل کو براہ راست شکایت کر سکتا ہے لیکن حکومت ایسا نہیں کرسکتی۔
اُنھوں نے کہا کہ حکومت ریفرنس صرف صدر کے ذریعے ہی بھجوا سکتی ہے۔ بلال منٹو کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو ججز کے خلاف درخواست سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجنی چاہیے تھی۔
اُنھوں نے کہا کہ صدر کا یہ کام نہیں کہ اداروں کو مواد جمع کرنے کا کہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر نے جمع شدہ مواد پر ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور صدر خود کیسے اور کہاں سے مواد جمع کریں گے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔
صدارتی ریفرنس پر سماعت روکنے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت 3 فروری تک ملتوی کر دی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ بار اور کراچی بار ایسوسی ایشن کے وکیل رشید اے رضوی نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ آزاد عدلیہ کبھی بھی حکومت اور خفیہ اداروں کو پسند نہیں آئی۔
اُنھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ججز کو ان کے عہدے سے ہٹانا مشکل ترین کام ہے جبکہ پاکستان میں ججز کو ان کے عہدے سے ہٹانا سب سے آسان کا ہے۔