آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مانسہرہ میں مدرسے کے بچے سے جنسی زیادتی: ’مرکزی ملزم قاری شمس الدین کا ڈی این اے میچ کر گیا‘
- مصنف, عزیز اللہ خان
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
خیبر پختونخوا کے ضلع مانسہرہ کے مدرسے میں بچے کے ساتھ زیادتی کے مرکزی ملزم کا ڈی این اے لیبارٹری رپورٹ میں میچ کر گیا ہے۔ یہ میڈیکل ٹیسٹ خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے کرایا گیا ہے جس میں بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق میڈیکل رپورٹ میں مانسہرہ کے قاری شمس الدین کے جرم میں ملوث ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ مانسہرہ میں عدالت کے روبرو عینی شاہدین کے بیانات میں بھی کہا گیا تھا کہ اس جرم میں قاری شمس الدین ملوث تھے۔
مانسہرہ کے ضلعی پولیس افسر صادق بلوچ کے مطابق تفتیش مکمل ہو چکی ہے اور اب چالان کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقدمے میں شریک ملزمان پر بھی ملزم کی مدد کرنے، بچے کو حبس بے جا میں رکھنے اور شواہد کو چھپانے اور مٹانے کے الزامات عائد ہیں۔
گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں کوہستان سے تعلق رکھنے والے ایک دس سالہ بچے کو ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلیکس میں لایا گیا تھا جس کے جسم اور چہرے پر تشدد کے نشانات واضح نظر آرہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
اس بچے کے رشتہ داروں نے الزام لگایا تھا کہ مانسہرہ کے مدرسہ اسلامیہ تعلیم القرآن میں ایک استاد قاری شمس الدین نے بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر بچے کے چلانے اور شور کرنے پر اس پر تشدد کیا گیا جس سے بچے کی آنکھیں سرخ اور جسم پر زخم کے نشان پائے گئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دس سالہ بچے کو مدرسہ تعلیم القرآن میں دینی تعلیم کے لیے داخل کیا گیا تھا جبکہ بچے کے والد کوہستان میں مقیم تھے۔
ڈی پی او مانسہرہ صادق بلوچ اور ایس پی انویسٹیگیشن محمد عارف جاوید نے بیان میں کہا ہے کہ اس کیس کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے مقدمے کی سماعت ماڈل کورٹ مانسہرہ میں کرانے کی سفارش کی جائے گی۔
مانسہرہ میں بچے سے زیادتی کے بعد پولیس جب قاری شمس الدین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی تھی تو جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا کفایت اللہ نے انھیں پولیس کے حوالے کیا تھا۔
جنسی زیادتی کا شکار بچے کے رشتہ داروں نے بتایا تھا کہ مقامی سطح پر ان پر یہ دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اس واقعے سے مدارس اور علماء کو بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد علاقے میں مختلف افواہیں اڑنے لگیں۔ کچھ کے مطابق ’بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ مدرسے کے ایک طالبعلم بنایا‘ تھا جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے ’بچہ مدرسے میں داخل ہوتے وقت بھی بیمار تھا جسے علاج کے لیے ہسپتال لے جایا گیا تھا‘۔
ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بچے نے عدالت کے سامنے بیان میں قاری شمس الدین کے بارے میں کہا تھا کہ انھوں نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی ہے۔
قاری شمس الدین کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ صبح کے اوقات میں ایک سکول میں پڑھاتے بھی تھے۔