انسداد منشیات کا ادارہ اے این ایف منشیات نیٹ ورکس کے خلاف کتنا موثر ہے؟

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سابق صوبائی وزیر قانون اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کی گرفتاری کے بعد انسدادِ منشیات کے ادارہ اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ حزبِ اختلاف کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آ رہی ہے کہ یہ ادارہ ’مذموم سیاسی مقاصد‘ کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔

اپنے قیام سے ہی اے این ایف تنازعات کی زد میں رہا ہے اور مختلف ادوار میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسے ’کالا قانون‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ، جنھیں گذشتہ برس منشیات برآمدگی کیس میں اے این ایف نے گرفتار کیا تھا، کا دعویٰ ہے کہ وزیرِ اعظم عمران خان نے خود کئی بار ان کی گرفتاری کے لیے احکامات دیے اور پھر ان پر ایک ’جھوٹا، جعلی اور من گھڑت‘ مقدمہ قائم کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

رانا ثنا اللہ کیس میں لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت منظور کرتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ملک میں سیاسی انتقامی کارروائی کا پہلو ایک کھلا راز ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

رانا ثنااللہ کے خلاف اے این ایف کی تاریخ کا یہ اس لحاظ سے بھی ایک انوکھا مقدمہ ہے کہ اس میں مدعی ایک حاضر سروس فوجی افسر میجر عزیزاللہ ہیں۔

پاکستان میں انسداد منشیات کا محکمہ کسی نہ کسی شکل میں سنہ 1957 سے کام کر رہا ہے لیکن موجودہ شکل میں اس کا باقاعدہ قیام سنہ 1995 میں عمل میں لایا گیا اور اس وقت یہ ادارہ 1997 میں بنائے گئے ایک قانون کے تحت اپنا نظم و نسق چلا رہا ہے۔

منشیات کے مقدمات میں ضمانت اور سزا کا تصور

پراسیکیوٹر جنرل اے این ایف راجہ انعام امین منہاس نے بی بی سی کو بتایا کہ اے این ایف کا قانون ’بلیک لا‘ (کالا قانون) ہے جس میں کیس کے روایتی مراحل پورے کرنا ضروری نہیں ہوتے۔ اے این ایف کے مقدمات کی درجہ بندی تین طریقوں سے کی جا سکتی ہے۔

اے این ایف قانون کا سیکشن چھ منشیات رکھنے سے متعلق جرم جبکہ سیکشن نو کی مختلف دفعات سزا کا تعین کرتی ہیں۔

اے این ایف قانون کے سیکشن نو کی دفعہ اے کے تحت اگر منشیات کی مقدار 100 گرام تک ہے تو پھر یہ ایک قابل ضمانت جرم ہے۔

اس سے زائد مقدار پر دفعہ بی کا اطلاق ہوتا ہے جس کے سزا سات سال یا اس سے زائد قید کی سزا ہے۔

اے این ایف کے قانون کی دفعہ سی کے مطابق اگر منشیات کی مقدار دس کلو یا اس سے زائد ہے تو پھر کم سے کم عمر قید اور زیادہ سے زیادہ سزائے موت کی سزا ہے جبکہ ایسے ملزم کو بریت سے قبل ضمانت پر رہائی نہیں مل سکتی۔

اے این ایف کی پراسیکیوشن ٹیم کے خیال میں رانا ثنااللہ کی ضمانت کا فیصلہ انتہائی غیر معمولی ہے۔

اے این ایف کے پراسیکیوٹر راجہ انعام منہاس کا کہنا ہے کہ عدالت نے ساتھ یہ بھی لکھ دیا ہے کہ یہ معاملہ مزید تفتیش کا متقاضی ہے جس سے مقدمے کے میرٹ پر اثر پڑے گا۔ ان کے مطابق ضمانت میں عام طور پر عدالتیں میرٹ کو نہیں دیکھتیں۔

تاہم ماضی کے اے این ایف کے متنازعہ مقدمات پر انھوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

اے این ایف قانونی جنگ میں شکست کیوں کھا جاتا ہے؟

اے این ایف کے ترجمان ریاض سومرو نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرائل میں اے این ایف کی کامیابی کی شرح 97 سے 98 فیصد تک بنتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو اعلیٰ عدلیہ سے رہائی مل جاتی ہے تو اس پر وہ کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔

اے این ایف پراسیکیوٹر کے مطابق انسداد منشیات کے محکمے کو غیر جانبدار گواہان دستیاب نہیں ہوتے اور اے این ایف کے مقدمات میں 99 فیصد گواہان سرکاری ملازمین یعنی اے این ایف کے اہلکار ہی ہوتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس طریقہ کار اور ضابطے کا فائدہ یہ ہے کہ اے این ایف کی مقدمات میں کامیابی کی شرح 98 فیصد تک ہے اور ان مقدمات میں دیگر مقدمات کی طرح کے شواہد پیش کرنے کے مراحل شامل نہیں ہوتے ہیں۔

راجہ منہاس کا کہنا ہے کہ اے این ایف کے قانون کو ’بلیک لا‘ اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ بہت سخت قانون ہے اور اس میں قتل کے مقدمات کی طرح قانونی طریقہ کار کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔

اے این ایف کے ترجمان ریاض سومرو کا کہنا ہے کہ نجی (پرائیویٹ) گواہ کو منع نہیں کیا جاتا لیکن یہ آپریشن ایسے ہوتے ہیں جن میں اے این ایف کا سٹاف ہی گواہ ہوتا۔

ان کے مطابق اے این ایف اپنے عملے سے حلف لیتا ہے کہ وہ سچی گواہی دیں گے اور اس کے بعد عدالت کے سامنے ان کو بطور گواہ پیش کیا جاتا ہے۔

منشیات مقدمات کی ایف آئی آر کیسے درج ہوتی ہے؟

اے این ایف کے مقدمات کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ منشیات کے مقدمات میں ایک خاص طرح سے ایف آئی آر درج ہوتی ہے جس میں یہ لکھا جاتا ہے کہ اے این ایف کی ٹیم نے مخبر کی خبر پر چھاپہ مار کر ملزم سے منشیات برآمد کی ہیں اور یہ کہ ملزم نے فرار کی کوشش کی تو پھر اسے ناکام بنا دیا گیا۔

اے این ایف کی عدالت میں ایک اہلکار نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ان مقدمات میں عام طور پر چھ سرکاری گواہ ہوتے ہیں جس میں چھاپہ مارنے والی ٹیم کا ڈرائیور بھی شامل ہوتا ہے۔

عدالت کے سامنے وہ ریکوری میمو پیش کرتے ہیں جس پر یہ درج ہوتا ہے کہ ملزم سے کتنی مقدار میں منشیات برآمد ہوئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مقدمات میں بااثر ملزمان اپنی ویڈیوز خود شیئر کرتے ہیں کہ انھیں کہاں سے حراست میں لیا گیا ہے۔

اے این ایف کی چھاپہ مار ٹیمیں ثبوت پیش کرنے سے قاصر رہتی ہیں۔ ٹرائل میں وکلا صفائی کا موقف ہوتا ہے کہ اے این ایف کی طرف سے یہ کہانی دفتروں میں بیٹھ کر گھڑی گئی ہے۔

ایفی ڈرین کیس کی مثال دیتے ہوئے عدالتی اہلکار نے بتایا کہ اے این ایف کے مقدمات میں ٹرائل سالہا سال تک بھی چلتے رہتے ہیں۔

اے این ایف ترجمان کا کہنا ہے کہ اے این ایف ایک منظم فورس ہے اور میرٹ پر سب کام کیے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق ان مقدمات میں ویڈیو یا فوٹیج بطور ثبوت عدالت کے سامنے پیش نہیں کی جاتی ہیں۔

چوہدری احتشام الحق جو اے این ایف کی طرف سے پراسیکیوٹر کی حیثیت سے عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کرتے ہیں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اے این ایف کے مقدمات میں عدالتیں صرف سیف کسٹڈی، سیف ٹرانسمیشن، کیمیکل ایگزیمینر رپورٹ اور گواہان کے بیانات پر فیصلے دیتی ہیں۔‘

ڈرائیورز ہی کیوں پکڑے جاتے ہیں؟

قانونی ماہرین کے مطابق زیادہ تر مقدمات میں عام افراد کی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، یہ نہیں پتا چلایا جاتا کہ منشیات کون سمگل کر رہا تھا اور کس کو بھیجی جا رہی تھیں۔

نتیجتاً منشیات لے جانے والے تو پکڑے جاتے ہیں لیکن اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے والے بچ جاتے ہیں۔

اے این ایف کے پراسیکیوٹر چوہدری احتشام حق تسلیم کرتے ہیں کہ زیادہ تر ڈرائیورز ہی زد میں آتے ہیں، اس متعلق وہ سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہیں جس میں انھوں نے اے این ایف سے پوچھا کہ اگر ججز کی گاڑی میں ڈرائیور منشیات رکھ دے اور مخبر کی اطلاع پر چھاپہ پڑے تو ذمہ دار کون ہو گا؟

ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد یہ قانون بن گیا کہ جس کے پاس منشیات برآمد ہو گی وہی ذمہ دار ہو گا۔

’لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اے این ایف کبھی کسی بڑے کو کچھ نہیں کہتی۔ رانا ثنااللہ نے اپنے ہاتھ سے 15 کلو ہیروئن اپنے بریف کیس سے نکال کر اے این ایف کے حوالے کی۔‘

یہ اور بات ہے کہ انھیں پھر بھی عدالت سے ضمانت مل گئی۔

قانونی ماہرین کے مطابق اس بار اے این ایف نے ایف آئی آر کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ تین ماہ سے رانا ثنا اللہ کی نگرانی کر رہے تھے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ رانا ثنا اللہ کو منشیات کہاں سے سپلائی ہوتی تھیں اور پھر وہ کس نیٹ ورک کو یہ سمگل کر دیتے تھے۔

ان کے مطابق اے این ایف کا بنیادی مقصد محض کسی ایک شخص کو ہی پکڑنا نہیں ہوتا بلکہ منشیات کے نیٹ ورک کا خاتمہ ہوتا ہے۔

تاہم اے این ایف پراسیکیوشن ٹیم کے مطابق اے این ایف اپنا کام مستعدی سے کر رہا ہے اور ان سوالات کا جواب عدالتوں میں دیے جائیں گے جس کے بعد رانا ثنا اللہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔

اے این ایف کی عدالتیں کیسے کام کرتی ہیں؟

اے این ایف کے ترجمان ایس ایس پی ریاض سومرو کا کہنا ہے کہ اے این ایف کی ہر ضلع میں عدالت ہوتی ہے۔ جس کا سربراہ ایک ڈسٹرکٹ جج ہوتا ہے۔

بی بی سی نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع اے این ایف کی خصوصی عدالت کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس عدالت کے جج اعظم خان کو تبدیل کر کے احتساب عدالت کا جج تعینات کر دیا گیا ہے۔

اب ان کی جگہ بینکنگ کورٹ کے ایک جج منشیات کے مقدمات سننے میں مصروف ہیں۔

ایک عدالتی اہلکار نے اس سال سزا پانے والوں کی فہرست دکھاتے ہوئے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کون سا جج مقدمے کی سماعت کر رہا ہے اہم بات یہ ہے کہ ٹرائل میں سزا یافتہ قرار دیے جانے والے ان تمام افراد کے بارے میں ہمیں یہ خبر موصول ہوئی ہے کہ وہ ہائی کورٹ سے رہا ہو گئے ہیں۔

خصوصی عدالتوں کا مستقبل

ان خصوصی عدالتوں سے متعلق بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق چیئرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتایا کہ ان کی زیر صدارت ایوان بالا کی ایک کمیٹی خصوصی عدالتوں کی اصلاحات سے متعلق کام کر رہی ہے۔

ان کی رائے میں ان عدالتوں کو ختم کر کے سیشن ججز کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں تو بہتری ممکن ہے کیونکہ ایک سیشن جج چیف جسٹس کو جوابدہ ہوتا ہے۔

ان کے خیال میں پراسیکیوشن کمزور ہونے کی وجہ سے خصوصی عدالتوں سے سزا پانے والے اعلیٰ عدلیہ سے بری ہو جاتے ہیں۔

خصوصی عدالت اپنے محکمے کے ہی زیر اثر رہتی ہے؟ فاروق نائیک اس رائے سے متفق ہیں ان کے خیال میں خصوصی عدالتوں کے ججز محمکے کی طرف ہی دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

’بلیک لا کا اطلاق‘

اے این ایف کے قانون کو ’بلیک لا‘ یعنی انتہائی سخت قانون کہا جاتا ہے کیونکہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کی طرح اس کا ہدف بھی انتہائی سنگین اور خطرناک منشیات فروش اور ان کا نیٹ ورک ہوتا ہے۔

رانا ثنا اللہ واحد سیاستدان نہیں ہیں جو اس کالے قانون کے زد میں آئے ہیں۔ یہ قانون کب کب حرکت میں آیا اس حوالے سے ماضی کے کچھ مشہور مقدمات پر نظر دوڑاتے ہیں۔

ماضی میں اے این ایف کے چند مشہور مقدمات

’رحمت شاہ آفریدی اور سمگلروں کے بینظیر کو تحائف دینے کا الزام‘

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں انگریزی روزنامے فرنٹیئر پوسٹ کے ایڈیٹر رحمت شاہ آفریدی کے خلاف منشیات کا مقدمہ بنایا گیا۔ انھیں 20 کلو ’حشیش‘ رکھنے کے الزام میں اپریل 1999 میں اے این ایف نے گرفتار کیا تھا۔

رحمت شاہ آفریدی کو اے این ایف کی عدالت نے پرویز مشرف دور میں سزائے موت سنائی جو بعد میں عمر قید میں تبدیل کر دی گئی۔ آفریدی نے اس مقدمے میں تقریباً نو برس جیل میں گزارے۔

ان کے مطابق دوران قید انھیں ذہنی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔

رحمت شاہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ سچ شائع کرنے پر ان پر خاص طور پر ضیا الحق اور نواز شریف کے دور میں مظالم ڈھائے گئے۔ مجھے پہلی دفعہ اس وقت گرفتار کیا جب میں نے خبر شائع کی کہ ضیا الحق کی بیگم کے علاج کے لیے 80 لاکھ قومی خزانے سے نکال لیے گئے ہیں۔

اس وقت فرنٹیئر پوسٹ کے منجینگ ایڈیٹر فرحت اللہ بابر تھے جو بعد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر بن گئے۔

رحمت شاہ آفریدی کا کہنا ہے کہ سابق صدر غلام اسحاق خان، سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عہدوں کی پیشکش کرتے ہوئے انھیں آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کے خلاف ثبوت اکھٹے کرنے کا کہا تھا۔

’ایک ملاقات میں جب میں نے نواز شریف کو جھوٹا گواہ بننے سے صاف انکار کر دیا تو پھر احستاب بیورو کے سیف الرحمان نے میرے خلاف فائل تیار کر لی اور مجھے بعد میں منشیات کے مقدمے میں حراست میں لے لیا گیا۔‘

ان کے مطابق ان کے خلاف جو ایف آئی آر درج ہوئی اس کے مطابق انھیں 20 کلو چرس رکھنے پر لاہور میں گورنر ہاؤس کے سامنے سے گرفتار کیا گیا۔

رحمت شاہ آفریدی کے اخبار فرنٹیئر پوسٹ میں یہ خبر بھی شائع کی تھی کہ اے این ایف کے ڈی جی سمیت متعدد فوج کے افسران منشیات کی سمگلنگ میں ملوث تھے۔

رحمت شاہ آفریدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس اس خبر کی ویڈیو آج بھی موجود ہے۔

رحمت شاہ آفریدی کے مطابق ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انھوں نے آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی شادی میں قبائلی علاقوں سے منشیات کے بڑے سمگلروں کو مدعو کیا، جنھوں نے دلہن اور دلہا یعنی سابق صدر اور سابق وزیر اعظم کو شادی پر قیمتی تحائف دیے۔

ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ وہ خود بھی اس شادی میں شریک نہیں ہو سکے تھے۔

آصف زردای اے این ایف کے ریڈار پر

نواز شریف کے دوسرے دور حکومت میں اس وقت ان کی مخالف پیپلز پارٹی کی سربراہ بینظیر بھٹو کے شوہر آصف زرداری بھی اے این ایف کے قوانین کا شکار بننے والوں میں شامل رہے ہیں۔

ان کی گرفتاری کا تعلق منشیات کے بدنام سمگلر ملک مشتاق عرف ’بلیک پرنس‘ سے جوڑا جاتا ہے۔

ان مقدمات میں آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ملک مشتاق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنہ 1997 میں جب وہ منشیات کے ایک مقدمے میں ایک امریکی جیل میں قید تھے تو وہاں ان سے مبینہ طور پر پاکستان کے احتساب بیورو کے کچھ اہلکاروں کی ملاقات ہوئی اور پھر ڈرامائی طور پر ’بلیک پرنس‘ کی قید مختصر ہوئی اور انھیں پاکستان کے حوالے کر دیا گیا۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق بلیک پرنس نے امریکہ کی ایک عدالت میں بیان دیا تھا کہ وہ جنرل ضیاالحق کے قتل کا منصوبہ بنا رہے تھے اور یہ کہ ان کا منشیات کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

خیال رہے کہ بلیک پرنس کی پاکستان واپسی کے بعد ہی آصف زرداری کے خلاف منشیات کے دو مختلف مقدمات قائم کیے گئے تھے۔

لطیف کھوسہ کے مطابق دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ہو جس کی جیل میں بلیک پرنس قید نہ رہا ہو۔

ان کے مطابق آصف زرداری کے خلاف جتنے بھی ملزمان پیش کیے گئے وہ صرف یہ کہتے تھے کہ آصف زرداری نے ان کی پشت پناہی کی۔

زرداری کو مقدمے میں کیوں پھنسایا گیا؟

لطیف کھوسہ نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف کو کسی نے قانونی مشورہ دیا کہ آصف زرداری کے اثاثوں اور بینک اکاؤنٹس تک رسائی صرف ایک صورت میں ممکن ہے کہ ان کے خلاف دہشتگردی یا منشیات کا مقدمہ بنایا جائے۔ ’اس کے بعد حکومت نے منشیات کا مقدمہ بنایا اور پھر آصف زرداری کے بیرون ملک اثاثوں کی خوب چھان بین کی گئی۔‘

لطیف کھوسہ کے مطابق نواز شریف دور کے اے این ایف کے سربراہ میجر جنرل مشتاق نے آصف زرداری کے خلاف ڈرگ کے مقدمات بنانے سے انکار کیا تو نواز شریف نے انھیں عہدے سے ہٹا کر اس وقت کے ایف آئی اے کے سربراہ کو اے این ایف کا چارج دے دیا تھا۔

بعد میں جنرل مشتاق کا نوٹ ہمارے ہاتھ لگ گیا جس میں انھوں نے حکومت کو لکھا کہ ’اپنے گندے کپڑے کہیں اور جا کر دھوئیں، اے این ایف کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچائیں۔‘ ان کے مطابق اس نوٹ کی بنیاد پر ہم نے آصف زرداری کی بریت کے لیے عدالت کا رخ کیا اور کامیاب ہوئے۔

آصف زردای کے ٹرائل کو یاد کرتے ہوئے لطیف کھوسہ نے بتایا کہ یہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں سب ہوتا تھا۔

سنہ 1999 میں نواز حکومت کے خاتمے اور پرویز مشرف کے اقتدار سنبھالنے کے بعد بھی منشیات کے مقدمات نے آصف زرداری کا پیچھا نہیں چھوڑا۔

سنہ 2001 میں آصف زرداری کے خلاف اے این ایف ملتان نے منشیات سمگلنگ کا ایک اور مقدمہ قائم کیا اور حکام کو ایک بار پھر ’بلیک پرنس‘ کی یاد ستائی۔

اے این ایف ملتان نے بلیک پرنس پر منشیات کا ایک مقدمہ درج کر کے انھیں 2002 میں حراست میں لے لیا اور پھر انھیں آصف زرداری کے خلاف بطور گواہ پیش کیا۔

تاہم گواہ بننے والے بلیک پرنس 2004 میں ملتان کی ایک عدالت میں پلٹ گئے اور جج کے سامنے اعتراف کیا کہ انھیں ریاستی جبر کے ذریعے آصف زرداری کے خلاف گواہ بننے پر مجبور کیا گیا تھا۔

لطیف کھوسہ کا کہنا ہے کہ بلیک پرنس نے ملتان جیل سے عدالت کو لکھا کہ ان سے زبردستی بیان لیا گیا جبکہ وہ آصف زرداری کو کبھی نہیں ملے۔

بلیک پرنس کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف دور میں اے این ایف کی ٹیم انھیں گرفتار کر کے لے گئی تھی اور 13 دن تک تشدد کا نشانہ بنا کر آصف زرداری کے خلاف بیان دینے پر آمادہ کیا تھا۔

ایسے ہی مقدمات اور گواہان کی وجہ سے آصف زرداری نے ان مقدمات میں طویل قید کاٹی مگر ایک دہائی سے زیادہ عرصے کے بعد عدالتوں نے انھیں تمام ایسے مقدمات سے بری کر دیا۔

لطیف کھوسہ کے مطابق بلیک پرنس بعد میں بھی ان سے رابطے میں رہا اور کچھ عرصہ قبل وہ لاہور میں وفات پا گئے۔

بے نظیر بھٹو کے اپنے دور حکومت میں پنجاب میں اے این ایف نے پیپلز پارٹی سے ہی تعلق رکھنے والے ایک سیاستدان اور سابق پارلیمنٹیرین منور منج کے خلاف 35 کلو ہیروئن اور 30 کلو چرس کا مقدمہ قائم کیا تھا اور عدالت نے انھیں سزا بھی سنائی تھی۔

تاہم بعد میں یہ سزا کالعدم قرار دی گئی اور اس مقدمے میں انھیں 2008 میں سپریم کورٹ سے مکمل کلین چٹ مل گئی تھی۔

یوسف رضا گیلانی دور میں اے این ایف کا کردار

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں اے این ایف سب سے زیادہ خبروں میں رہی۔

سابق وزیر یوسف رضا گیلانی نے اپنے دور حکومت میں اے این ایف کے فوجی سربراہ کو عہدے سے ہٹا کر ایک پولیس سروس کے افسر ظفر عباس لک کو سیکریٹری کے علاوہ محکمے کا اضافی چارج بھی دے دیا۔

بطور اے این ایف سکیریٹری ظفر عباس لک نے عدالت میں تحریری طور پر یہ جواب دیا کہ علی موسیٰ گیلانی اس مقدمے میں بے گناہ ہیں، اس کے بعد لک کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا۔

علی موسی گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ دلچسپ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب اے این ایف نے اپنے ادارے کے سربراہ کے خلاف مقدمہ قائم کیا اور یوں ظفر عباس لک کو یہ عہدہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا۔

ان کو ان کے اپنے ہی محکمے یعنی اے این ایف کے ایک ماتحت سیکشن افسر نے مشیات کے مقدمے میں نوٹس بھیجا تھا۔

یہ وہ وقت تھا جب وزیر اعظم ہوتے ہوئے یوسف رضا گیلانی اے این ایف کے سامنے اپنے بیٹے کو ایفی ڈرین کیس میں بطور ملزم پیش ہوتا دیکھتے تھے۔

اس دوران گیلانی حکومت ’میڈیا ٹرائل‘ اور ’جوڈیشل سکروٹنی‘ کی زد میں بھی آ گئی۔

علی موسی گیلانی کے مطابق ان کے والد نے انھیں بتایا کہ اے این ایف سیاسی بنیادوں پر یہ کیس چلا رہا ہے۔ ’وہ بیٹے کی ذریعے باپ کو تکلیف میں دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

علی موسی کے مطابق شروع شروع میں وہ اپنے والد کی رائے سے متفق نہیں تھے لیکن جب ایک دن انھیں راولپنڈی میں اے این ایف کے ایک بریگیڈئیر فہیم نے دوران تفتیش کہا ’دیکھو آپ کے لیے مشکل ہو جائے گا، آپ (2013 کا) الیکشن نہیں لڑ سکو گے۔‘

علی موسی گیلانی کا کہنا ہے کہ ’یہ جملہ سنتے ہی میں میرے والد کے الفاظ میرے کانوں میں گونجے اور میں نے کہا میرے والد تو بالکل صیحح کہتے تھے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ان پر اب یہ واضح ہو چکا تھا کہ انھیں اس مقدمے میں ملوث کرنے کا مقصد ان کے والد کی مشکلات میں اضافہ کرنا ہی تھا۔

ان کے مطابق وہ انتخابات کے بعد ملک کے نوجوان ترین پارلیمنٹیرین بننے میں کامیاب ہوئے تو ایک پیشی پر انھوں نے اے این ایف کے عملے سے پیشنگوئی کرنے والے بریگیڈیئر سے متعلق پوچھا تو انھیں بتایا گیا کہ وہ اپنی مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ریٹائر ہو کر گھر جا چکے ہیں۔

فون کال سے شروع ہونے والے مقدمے کی کہانی

علی موسی گیلانی نے بی بی سی کو بتایا کہ سنہ 2011 کو ان پر یہ الزام عائد کیا گیا کہ انھوں نے فون کر کے اپنی من پسند کمپنی کو ایفی ڈرین کا زائد کوٹہ دلایا۔

الزام کے مطابق انھوں نے 15 لاکھ کا فائدہ حاصل کیا۔

ان کے مطابق اس وقت وہ لندن میں زیر تعلیم تھے اور واپس آ کر وہ اس مقدمے میں شامل تفتیش ہو گئے۔ علی موسی گیلانی کہتے ہیں کہ اس مقدمے میں وکلا کو فیسوں کی مدد میں ان کو کئی ملین روپے دینے پڑے۔

وہ کہتے ہیں اس مقدمے میں انھیں ایک پیشی پر سپریم کورٹ کے گیٹ سے اے این ایف کے باوردی اہلکاروں نے گرفتار کر لیا۔

’یہ کیس اتنے برس سے عدالتوں میں چل رہا ہے لیکن آج تک اس فون کال کی تفصیلات کہیں بھی پیش نہیں کی جا سکی ہیں۔‘

علی موسی گیلانی کا کہنا ہے کہ ایفی ڈرین منشیات نہیں بلکہ ڈرگ ہے۔ اگر یہ مقدمہ بنتا بھی تھا اسے ڈرگ کورٹ میں چلنا چائیے تھا لیکن اسے انسداد منشیات کی عدالت لے جایا گیا۔

وہ سابق چیف جسٹس آصف کھوسہ جنھوں نے ان کے والد کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی سے متعلق فیصلہ بھی لکھا تھا کے ریمارکس یاد کر کے خوشی محسوس کرتے ہیں جن میں انھوں نے اے این ایف کو کہا کہ اس بچے کو آپ نے کیوں مشکل میں ڈال رکھا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے بیٹے کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود ان کے خلاف مقدمہ آٹھ سال سے چل رہا ہے لیکن اب بھی اے این ایف کے افسران انھیں ہراساں کرتے ہیں اور چھٹی والے دن بھی اپنے دفتر بلا لیتے ہیں۔

انھوں نے اے این ایف راولپنڈی ڈائریکٹوریٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سے انھیں نوٹس موصول ہوا کہ اتوار والے دن پیش ہو جائیں۔ مجھے ایک بریگیڈئیر کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انھوں نے یہ شکوہ کیا کہ انھیں عدالت میں مقدمہ زیر التوا ہونے کے باوجود اتوار اور عید میلادالنبی والے دن بھی طلب کر لیا جاتا ہے۔

مقدمے کا مدعی خود ملزم بن گیا

ایفی ڈرین مقدمے کی ابتدا اس وقت کے وزیر صحت مخدوم شہاب الدین کے دستخطوں سے ہوئی۔ لیکن بعد میں وہ خود اس مقدمے میں مدعی سے ملزم بن گئے اور آج تک عدالتوں میں پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

علی موسی گیلانی کہتے ہیں کہ مخدوم شہاب الدین کو ایسے وقت میں ملزم بنایا گیا جب ان کے والد کی سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے زریعے برطرفی کے بعد انھیں وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

جب اے این ایف نے مقدمہ بنایا تو پھر پیپلز پارٹی نے مخدوم شہاب الدین کی جگہ راولپنڈی کے قریبی علاقے گوجر خان سے تعلق رکھنے والے راجہ پرویز اشرف کو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔

مخدوم شہاب الدین اور علی موسی گیلانی اب ایک ساتھ اسلام آباد کے جوڈیشل کمپلیکس میں واقع اے این ایف کی عدالت میں گذشتہ کئی برس سے پیشیاں بھگت رہے ہیں۔

عام انتخابات 2018: پنڈی سے شیخ رشید کے مخالف امیدوار الیکشن کی رات گرفتار

اے این ایف نے راولپنڈی سے مسلم لیگ نون سے تعلق رکھنے والے قومی اسمبلی کے امیدوار حنیف عباسی کو الیکشن سے قبل رات کو گرفتار کر لیا۔ وہ وزیر اعظم عمران خان کی کابینہ میں شامل ریلوے کے وزیر شیخ رشید کے مدِ مقابل تھے۔

ٹرائل کورٹ نے حنیف عباسی کے مقدمے کی سماعت دو اگست 2018 کو مقرر کر رکھی تھی۔ ایسے میں ایک عادی درخواست گزار شاہد اورکزئی نے لاہور ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ ٹرائل کورٹ حنیف عباسی کے مقدمے میں غیر ضروری تاخیر کر رہی ہے۔

فوجداری مقدمات میں کوئی تیسرا شخص فریق نہیں بن سکتا تاہم لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عبادالرحمان لودھی نے ٹرائل کورٹ کو عام انتخابات سے قبل ہی مقدمہ نمٹانے کا حکم دے دیا۔

جسٹس ثاقب نثار کے دور میں سپریم کورٹ کے ریٹائر ہونے والے جسٹس عظمت سیعد نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔

حنیف عباسی کے مقدمے کا الیکشن کی رات گئے فیصلہ آیا۔ انھیں اے این ایف کی عدالت نے 25 سال کی قید کی سزا سنائی۔ اے این ایف اہلکار انھیں کمرہ عدالت سے گرفتار کر کے ساتھ لے گئے تو سیاسی کارکنان نے گاڑیاں روک لیں۔

یہ وہ موقع تھا جب نہ صرف راولپنڈی میں اے این ایف کے خلاف مظاہرے ہوئے بلکہ فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بھی پنڈی میں بھی کچھ سیاسی کارکنان نے نعرے لگائے۔ احتجاج کی یہ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

حنیف عباسی نے ضمانت کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو ایم این اے رانا ثنا اللہ کے فیصلے کی طرح ان کے کیس میں بھی ہائی کورٹ نے ضمانت دیتے ہوئے اے این ایف ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر کئی سوالات اٹھائے۔ ٹرائل کورٹ کے فیصلے میں یہ فرض کیا گیا ہے کہ حنیف عباسی کے پاس ایفی ڈرین کوٹے سے زائد موجود تھی۔

حنیف عباسی کے مقدمے میں تین ججز بھی تبدیل ہوئے۔

اے این ایف نے اس مقدمے میں کچھ شریک ملزمان کے خلاف اپنی شکایت بھی واپس لے لی ہے، تاہم اے این ایف نے ضمانت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے۔

جب بی بی سی نے حنیف عباسی سے رابطہ کیا تو انھوں نے اپنے مقدمے پر کسی بھی قسم کا تبصرہ نہیں کیا۔