بی آر ٹی پشاور: منصوبے پر ایف آئی اے کی تحقیقات شروع

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پشاور میں بی آر ٹی یعنی بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی انکوائری شروع کر دی ہے اور اس کے لیے تحقیقاتی اہلکاروں کی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔

پشاور ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کے گذشتہ دور میں شروع کیے گئے اس بڑے منصوبے کی تحقیقات کا آغاز کیا ہے جسے پارٹی کے قائدین بین الاقوامی طرز کا منصوبہ قرار دیتے رہے ہیں۔

ایف آئی اے کی انسداد بدعنوانی سیل کی ٹیم ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی ہے اور اس ٹیم کی نگرانی ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر کریں گے۔

ایف آئی اے پشاور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر میاں سعید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس منصوبے کی تحقیقات کے لیے اگر ضروری ہوا تو ٹیکنیکل ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پشاور ہائی کورٹ نے چند روز پہلے اپنے تفصیلی فیصلے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے سے کہا تھا کہ بی آر ٹی کے منصوبے کی تحقیقات 45 دن کے اندر مکمل کی جائیں۔

اس بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان اجمل وزیر نے کہا تھا کہ قانونی ماہرین کی ٹیم اس کا جائزہ لے رہی ہے اور عین ممکن ہے کہ صوبائی حکومت اس فیصلے کے بارے میں سپریم کورٹ سے رجوع کرے۔

اس سے پہلے گذشتہ سال بھی پشاور ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو سے کہا تھا کہ بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کی جائیں لیکن صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا تھا۔

چیئرمین نیب نے دو روز پہلے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی آر ٹی اور مالم جبہ ریزورٹ کے بارے میں ریفرنس تیار ہیں۔ اس تقریب میں صدر پاکستان عارف علوی اور جماعت کے دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے کہا تھا کہ لوگ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ بی آر ٹی کے خلاف تحقیقات کیوں نہیں کرتے تو وہ یہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ جیسے ہی عدالت حکم امتناعی خارج کرے گی نیب کے عہدیدار ضرور ان منصوبوں کی تحقیقات کریں گے۔

بی آر ٹی منصوبہ

بی آر ٹی کا منصوبہ پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت کے دور میں اس وقت شروع کیا گیا تھا جب انتخابات میں چند ماہ ہی رہ گئے تھے۔

اس وقت کے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور موجودہ وزیرِ دفاع پرویز خٹک نے کہا تھا کہ 27 کلومیٹر کی یہ بس ریپڈ ڈ ٹرانزٹ چھ ماہ میں مکمل ہو جائے گی۔

یہ منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہ ہو سکا اور اس کے بعد متعدد بار اس کی تکمیل کی تاریخوں کا اعلانات کیے گئے لیکن منصوبہ اب تک مکمل نہیں ہو سکا ہے۔

یہ منصوبہ بنیادی طور پر 39 ارب روپے کے بجٹ سے شروع ہوا تھا اور اب اس کی لگت 66 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے جس کے لیے فنڈنگ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کر رہا ہے۔