آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے کہا ہے کہ ان کے والد کو امریکہ لے جانے کی خبر درست نہیں
- مصنف, عارف شمیم
- عہدہ, بی بی سی اردو، لندن
سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے کہا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں جن میں یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کے والد کو علاج کے لیے امریکہ لے جایا جا رہا ہے۔
انھوں نے لندن میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’مجھے نہیں معلوم اخبارات میں کن خاندانی ذرائع کے حوالے سے خبر دی جا رہی ہے کیونکہ ہم نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘
سابق وزیرِ اعظم کے علاج کے لیے ملک سے باہر رہنے کی چار ہفتے کی اجازت کی مدت پوری ہونے میں کم وقت رہ گیا ہے اور ایسے میں مقامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وہ علاج کی غرض سے امریکہ جانے والے ہیں۔
حسین نواز نے کہا کہ آنے والے چند دنوں میں وہ نواز شریف کے بیرونِ ملک قیام کی توسیع کے لیے درخواست دینے والے ہیں۔
نواز شریف 19 نومبر کو لندن کے لیے روانہ ہوئے تھے اور اگر اب وہ امریکہ علاج کے لیے جاتے ہیں تو اس میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔
میاں نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے پاکستان سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ابھی تک سابق وزیر اعظم کے ملک سے باہر قیام میں توسیع کی درخواست نہیں دی گئی ہے لیکن دو تین دن میں ہائی کورٹ کے رجسٹرار کو اس بارے میں مطلع کر دیا جائے گا۔
’اس کے بارے میں سبھی کچھ کورٹ کے کاغذات میں ہی درج ہے کہ کیسے عدالت کو بتانا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ اس کے کئی طریقے ہیں ڈاکٹروں کی انویسٹیگیشن کی رپورٹس کو لندن میں ہائی کمیشن کے ذریعے بھی ’فیزیکلی انفارم‘ کیا جا سکتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ابھی مزید ٹیسٹ ہونے ہیں اس لیے یہ کام بعد میں بھی ہو سکتا ہے۔ ابھی وقت ہے۔‘
پاکستان مسلم لیگ ن کے لندن میں سرکردہ رہنما ناصر بٹ نے بھی بی بی سی اردو کو بتایا کہ اخباروں میں چھپنے والی خبر درست نہیں کیونکہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پھر اس تاریخ کے متعلق مسلم لیگ کچھ کہہ کیوں نہیں کہہ رہی تو انھوں نے بتایا کہ ’وہ اس لیے کہ ابھی تک حتمی طور پر کچھ معلوم ہی نہیں۔ سبھی آپشن موجود ہیں۔ کوشش ہے کہ علاج یہیں ہو جائے مگر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ جو ڈاکٹر کہیں گے وہی ہو گا۔‘
حسین نواز نے کہا کہ اگر مجھے ذاتی طور پر فیصلہ کرنا ہو تو میں انھیں ضرور امریکہ علاج کے لیے لے کے جاؤں گا کیونکہ وہاں اس قسم کے علاج کے لیے خاص سہولیات دستیاب ہیں۔ مگر فیصلہ ڈاکٹروں نے کرنا ہے اور وہ جو کہیں گے وہی کیا جائے گا۔‘
بی بی سی اردو سروس نے پاکستان مسلم لیگ ن کے لندن میں آئے ہوئے دیگر رہنماؤں سے بھی یہ جاننے کی بارہا کوشش کی لیکن کسی نے بھی اس کا جواب نہیں دیا۔
جب ناصر بٹ سے پوچھا گیا کہ ابھی تک لندن میں کیا علاج کیا گیا ہے تو ان کا کہنا تھا ’لندن میں علاج یوں ہی نہیں کیا جاتا، ڈاکٹر بہت سوچ سمجھ کر علاج کرتے ہیں۔ ابھی تک صرف ٹیسٹ ہو رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹر یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے امیون سسٹم میں کیوں یہ خرابی ہے جس کی وجہ سے پلیٹ لیٹس کاؤنٹ میں کمی ہو رہی ہے۔ ابھی تک یہ ہی نہیں سمجھ آیا۔‘
ان کے بقول جمعرات یا جمعہ کو نواز شریف کو پھر ڈاکٹروں کے پاس لے جایا جائے گا۔ ’نواز شریف صاحب کی صحت بہت خراب ہے صرف ڈاکٹر ہی یہ بتائیں گے کہ ان کو کب علاج کے لیے امریکہ لے کر جانا ہے۔‘
نواز شریف کی صحت کیسی ہے؟
ابھی تک آنے والی رپورٹس کے مطابق 69 سالہ نواز شریف کے دماغ کے کچھ حصے میں خون کی سپلائی رک رہی ہے جس کی وجہ پلیٹ لیٹس میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ شریف خاندان کے ذرائع کے مطابق اس کا علاج صرف امریکہ کے شہر بوسٹن کے ایک ہسپتال سے ہو سکتا ہے۔
نواز شریف کی علاج کے لندن آمد کے بعد ان کے بیٹے حسین نواز نے کہا تھا کہ میڈیا نواز شریف کے علاج سے متعلق معلومات کو راز میں رکھنے میں ان کی مدد کرے تاکہ اس پورے معاملے کو اس طرح سے سیاسی رنگ دینے سے بچایا جا سکے جس طرح ان کی والدہ کی بیماری کے وقت ہوا تھا۔
نواز شریف کے علاج سے متعلق امریکہ جانے کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ انھیں جانا چاہیے تاکہ ان کی تمام بیماریوں کا علاج ایک چھت کے نیچے ہو سکے جو ان کے مطابق لندن میں دستیاب نہیں اور اگر ہے تو اس بارے میں انھیں علم نہیں۔
دوسری طرف نواز شریف کے ذاتی معالج اور سابق وزیرِاعظم کا علاج کرنے والے مڈیکل بورڈ کے رکن ڈاکٹر عدنان یہ کہتے رہی ہیں کہ سابق وزیر اعظم کی صحت انتہائی خراب ہے اور وہ اپنی صحت اور زندگی کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کے مطابق پلیٹلیٹس کی تعداد میں کمی اور ہارٹ اٹیک نے ان کے گردوں پر بھی اثرات مرتب کیے ہیں۔ کم بلڈ شوگر اور انتشار خون میں کمی بھی ان کی صحت میں بگاڑ پیدا کر رہی ہے۔'
کیا نواز شریف کا ملک سے باہر قیام بڑھ سکتا ہے؟
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم کو بیرونِ ملک جانے کی مشروط حکومتی اجازت کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے انھیں علاج کی غرض سے چار ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی۔
اس اجازت کے بعد وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایک میمورینڈم جاری کیا گیا جس کے مطابق نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نہیں نکالا گیا بلکہ انھیں ایک مرتبہ چار ہفتے کی مدت کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے نواز شریف کو بیرونِ ملک سفر کی اجازت دینے کے لیے سات ارب روپے کے مساوی مالیت کے انڈیمنیٹی بانڈ کا تقاضا کیا گیا تھا تاہم عدالت کی جانب سے دی جانے والی اجازت میں انڈیمنیٹی بانڈ کی شرط ختم کر کے نواز شریف کی واپسی کو ڈاکٹروں کی سفارش سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ سو اب اگر ڈاکٹر ایک مرتبہ پھر کہتے ہیں کہ انھیں مزید علاج کی ضرورت ہے تو یقیناً ان کے بیرون ملک قیام میں توسیع ہو گی۔