آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
گلگت بلتستان: پاکستان کے شمالی علاقوں میں پت جھڑ کے دلکش نظارے
- مصنف, منزہ انوار
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گلگت بلتستان
پت جھڑ کا موسم شروع ہوتے ہی پاکستان کے شمالی علاقے بالخصوص گلگت بلتستان خزاں کے رنگ برنگے مناظر سے بھر جاتے ہیں۔ یوں تو اس خطے کا ہر علاقہ ہی حسین نظارے پیش کرتا ہے تاہم اگر آپ نے اس موسم سے اچھی طرح لطف اندوز ہونا ہے تو وادیِ ہنزہ اور نگر کی سیر کیجیے۔
برف پوش پہاڑوں کی سرزمین وادئِ نگر
خزاں کے رنگوں کی بہار دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے سیاح ان بلند ترین وادیوں کا رخ کر رہے ہیں۔
وادئِ ہنزہ
گلگت سے تقریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع وادی ہنزہ ایسی پُرکشش وادی ہے جس کا حسن یہاں آنے والے سیاحوں کو مبہوت کر کے رکھ دیتا ہے۔ خزاں کے موسم میں تو اس حُسن کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔
گلگت
گلگت، گلگت بلتستان کا سب سے بڑا شہر ہے۔ اس شہر کے چاروں طرف قراقرم کے بلند و بالا پہاڑ ایستادہ ہیں۔ یہیں سے تاریخی شاہراہِ ریشم گزرتی ہے اور دنیا کے تین بلند ترین اور دشوار گزار پہاڑی سلسلے قراقرم، ہمالیہ اور ہندوکش بھی یہیں آکر ملتے ہیں۔
دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو کے علاوہ دنیا کے تین سب سے بڑے گلیشئیر بھی اسی خطے میں واقع ہیں۔
موسمِ خزاں میں بلند، برف سے ڈھکی چوٹیاں اور سرخ ، نارنجی اور پیلے رنگ اس شہر کو حسین ترین مقام بنا دیتے ہیں۔
وادئِ پھنڈر
گلگت کے ضلع غذر کی تحصیل گوپس میں سطح سمندر سے 9867 فٹ بلندی پر پھنڈر کی رنگ بدلتی حسین وادی واقع ہے۔
حسینی گوجال
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہنزہ سے سوست جانے والے راستے پر مڑیں تو ایک چھوٹا لیکن انتہائی خوبصورت گاؤں، حسینی گوجال آباد ہے۔ اس گاؤں کی ایک وجہ شہرت یہاں بنایا گیا ’حسینی پل‘ بھی ہے جسے عبور کرنا ہر سیاح کی خواہش ہوتی ہے۔
پاکستان اور چین کے درمیان بارڈر ٹاؤن، سوست
سوست، گلگت بلتستان کا ایک اہم گاؤں ہے۔ شاہراہ قراقرم کی تعمیر کے بعد سے سوست نے گلگت بلتستان کے علاقے میں ایک اہم تجارتی مرکز کی حیثیت حاصل کی ہے۔
سوست میں پاکستان کسٹمز کی دفتروں کے علاوہ ایک ڈرائی پورٹ بھی ہے جہاں پر چین سے آنے اور چین کو جانے والے سامان تجارت کو محفوظ رکھا جاتا ہے۔
۔