آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مریم نواز: لاہور ہائی کورٹ نے نواز شریف کی بیٹی کی عبوری درخواست ضمانت منظور کر لی
- مصنف, عباد الحق
- عہدہ, صحافی
لاہور ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی بیٹی مریم نواز کی رہائی کے لیے درخواست منظور کر لی ہے اور انھیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ مریم نواز کو ضمانت پر رہائی کے لیے ایک، ایک کروڑ کے دو مچلکے متعلقہ ٹرائل کورٹ یعنی احتساب عدالت میں داخل کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے مریم نواز کی درخواست پر پیر کو 24 صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا جس میں نیب کے اس خدشے کا حوالہ دیا گیا کہ ضمانت کی صورت میں مریم نواز بیرون ملک جاسکتی ہے۔
ہائیکورٹ کے اس خدشے پر مریم نواز کو 7 کروڑ روپے کی رقم مشروط طور پر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل ہائیکورٹ کے پاس بطور زر ضمانت جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے مریم نواز کو اپنا پاسپورٹ سرنڈر کرانے کا بھی حکم دیا۔
مریم نواز چودھری شوگر ملز کے ذریعے منی لانڈرنگ کے الزام میں جیل میں ہیں۔
ہائی کورٹ کا جسٹس علی باقر نجفی اور جسٹس سردار احمد نعیم پر مشتمل بنچ نے درخواست پر محفوظ کردہ فیصلہ پیر کو سنایا۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سات کروڑ روپے کا ذکر کہاں سے آیا
عدالت نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ استغاثہ کی طرف سے ایک بینک سٹیٹمنٹ دکھائی گئی ہے، جس کے مطابق مریم نواز شریف نے نومبر 2011 میں ایک چیک کے ذریعے اپنے اکاؤنٹ سے 7 کروڑ روپے نکلوائے تھے اور استغاثہ نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وہ ملک سے باہر چلی جائیں گی۔
عدالت نے ضمانت کی درخواست منظور کرتے ہوئے فیصلے کے آخر میں لکھا کہ وہ ’اپنی نیک نیتی ظاہر کرنے کے لیے ڈپٹی رجسٹرار کے پاس 7 کروڑ روپے اور پاسپورٹ جمع کروا دیں۔‘
لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کی درخواست پر لگ بھگ چار دن سماعت کی اور 31 اکتوبر کو وکلا کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
مریم نواز سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ نے اُن کے والد نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت منظور کی تھی۔ نواز شریف اس وقت لاہور کے سروسز ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
لاہور ہائی کورٹ کے روبرو بحث میں مریم نواز کے وکلا نے نیب کے الزام کو بے بنیاد قرار دیا جبکہ نیب نے مریم نواز کی درخواست کو ناقابل سماعت ہونے کی بنیاد پر مسترد کرنے کی استدعا کی تھی۔
مریم نواز کو آٹھ اگست کو نیب نے اس وقت کوٹ لکھپت جیل لاہور سے گرفتار کیا تھا جب وہ اپنے والد نواز شریف سے جیل میں ہفتہ وار ملاقات کرنے گئیں تھیں۔
مریم نواز 48 دنوں تک جسمانی ریمانڈ پر جیل میں رہیں اور جسمانی ریمانڈ ختم ہونے کے بعد 41 دنوں سے جیل میں ہیں۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو تقریباً ایک سو دنوں کے بعد رہائی ملی ہے۔
چودھری شوگر ملز کیس میں منی لانڈرنگ کے الزامات میں رہائی کے بعد مریم نواز کی نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں رہی۔ اس سے پہلے گذشتہ برس مریم نواز کو ایون فلیڈ ریفرنس میں بھی سزا ہوئی تھی لیکن یہ سزا معطل کر دی گئی تھی۔
لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں باور کرایا گیا کہ مریم نواز نا تو کبھی مفرور ہوئیں نا ہی قانون کی راہ میں رکاوٹ بنیں۔
دو رکنی بنچ نے فیصلے میں قرار دیا کہ یہ سچ ہے معاشرے میں کرپشن زوروں پر ہے جسے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے لیکن عدالت قانونی نکات کو مد نظر رکھتے ہوے اپنی آنکھیں بند نہیں کر سکتی۔
لاہور ہائیکورٹ نے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا کہ گرفتاری کو سزاء کے طور پر استعمال نہیں کیا جاسکتا۔
فیصلے میں زور دیا گیا کہ عدالت ثبوتوں کے معاملے پر ٹرائل کورٹ کے دائرہ اختیار پر اثر انداز نہیں ہوسکتی۔
فیصلے میں لاہور ہائی کورٹ نے مریم نواز کے خاتون ہونے کے نکتہ پر عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا اور قرار دیا کہ خاتون کو قتل کے مقدمے بھی ضمانت دے دی جاتی ہے۔
نیب نے مریم نواز کی رہائی کے خلاف اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نیب کے وکلا کے مطابق مریم نواز کے فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔