آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کو پیر کی رات کس الزام میں گرفتار کیا گیا؟
- مصنف, عمر دراز ننگیانہ
- عہدہ, بی بی سی اردو، لاہور
پاکستان مسلم لیگ نواز کے تاحیات قائد اور پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو پیر کی رات بھیرہ سے لاہور واپسی پر راوی ٹول پلازہ پر لاہور پولیس نے گرفتار کیا تھا۔
انھیں ’مینٹینینس آف پبلک آرڈر‘ یعنی 16 ایم پی او کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔
ان کے خلاف رواں ماہ کی 13 تاریخ کو لاہور کے تھانہ اسلام پورہ میں 16 ایم پی او کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف مقدمہ کیا ہے؟
پولیس کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے 12 تاریخ کو عدالت میں پیشی کے موقع پر بار روم میں 'حکومتِ پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے' ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کروایا جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو کر منظرِ عام پر آیا۔
پولیس کے مطابق مذکورہ ویڈیو میں کیپٹن صفدر نے مبینہ طور پر 'عوام الناس کو حکومتِ پاکستان کے خلاف اکساتے ہوئے کہا کہ درخواست کی جاتی ہے کہ اس حکومت کے خاتمے کے لیے ہمیں باہر نکلنا چاہیے۔'
ایف آئی آر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انھوں نے 'مزید اشتعال انگیزی کرتے ہوئے حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک میں شامل ہونے اور حکومت کو گرانے کی ترغیب دی۔'
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ 'مفاد عامہ اور امن و امان کو نقصان پہنچانے والی تقریر کر کے اور عوام الناس کو حکومت سے متنفر کرنے کی خاطر بے بنیاد افواہیں پھیلا کر جرم زیرِ دفعہ 16 ایم پی او کا ارتکاب کیا گیا ہے۔'
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
کیپٹن (ر) صفدر کی عدالت میں پیشی
منگل کو کیپٹن صفدر کے خلاف الزامات کی سماعت لاہور میں جوڈیشل مجسٹریٹ آصف علی رانا کی عدالت میں ہوئی جہاں عدالت نے پولیس کی جانب سے کیپٹن صفدر کا جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
عدالت نے ملزم کو دوبارہ 5 نومبر کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
کیپٹن صفدر کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ’پہلے مقدمہ 16 ایم پی او کے تحت درج کیا گیا،بعد میں اطلاع ملی کی تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے اور 506 بھی شامل کی گئی ہیں‘۔
کیپٹن (ر) صفدر نے ذرائع ابلاغ سے کیا کہا تھا؟
کیپٹن (ر) صفدر نے 12 تاریخ کو بار روم میں ذرائع ابلاغ سے بات کی تھی۔ اس دوران اپنے ایک بیان میں انھوں نے وفاقی وزیرِ داخلہ کی حوالے سے کہا تھا کہ 'ان کے منہ سے سچ نکل گیا۔۔۔ انھوں نے کہا کہ نواز شریف اگر ووٹ کو عزت دو کا نعرہ نہ لگاتا تو چوتھی بار بھی وزیرِ اعظم ہوتا‘۔
اس کے بعد کیپٹن (ر) صفدر کا کہنا تھا کہ 'ایسے وزیرِ اعظم کا کیا فائدہ کہ عمران صاحب کی طرح بن کر بیٹھے ہوں، ڈکٹیشنیں کہیں اور سے ہو رہی ہو، کام کہیں اور ہو رہا ہو اور ان کی وزارتِ اطلاعات پابند ہو۔۔۔ ایسے وزیرِ اعظم سے تو بہتر ہے کہ نواز شریف کوٹ لکھپت میں بیٹھے قوم کی نجات کا سوچ رہے ہیں‘۔
اس کے ساتھ ہی انھوں نے مطالبہ کیا تھا کہ 'وزیرِ داخلہ کے بیان کے بعد ایک کمیشن بننا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جو یہ دیکھے کہ جولائی سنہ 2018 والا الیکشن کس طرح چوری ہوا۔ اگر وہ چوری نہ ہوتا تو ترقیاں نہ ہوتیں اور ایکسٹینشنز نہ ہوتیں۔ آج قوم ایکسٹینشن کو منظور نہیں کر رہی۔'
انھوں نے ن لیگ کے 'آزادی مارچ' میں شرکت کے حوالے سے بھی بات کی تھی۔