وزیر اعظم عمران خان کی علماء سے تعاون کی اپیل

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

جمعے کو علما کے ایک وفد نے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان سے وزیر اعظم ہاؤس میں ایک تفصیلی ملاقات کی۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے ’علمائے کرام‘ سے کہا ہے کہ ’امہ میں تفریق‘ اور ’تقسیم‘ پیدا کرنے کی ’مذموم کوششوں‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سرکای اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے کہا کہ ’علمائے کرام سے میٹنگز کا تسلسل جاری رہے گا تا کہ ہر مسئلے پر ان سے مشاورت و رہنمائی جاری رہے۔‘

سرکاری اعلامیے کے مطابق وفد میں تمام فقہ جات، مسالک، تنظیمات المدارس کے نمائندے جید علمائے کرام اور مشائخ شامل تھے۔

اس ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، یوسف بیگ مرزا اور نعیم الحق بھی موجود تھے۔

علماء کے وفد میں شامل مولانا طاہر اشرفی نے بی بی سی کو بتایا کہ کل 39 علماء کو اس مشاورتی اجلاس میں مدعو کیا گیا تھا جن میں سے صرف تین نے شرکت سے معذرت کی ہے۔ ان کے مطابق اس ملاقات میں عمران خان نے واضح طور پر بتایا ہے کہ وہ کسی دھرنے سے خوفزدہ نہیں ہیں نہ ہی علما کو اس مقصد کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نے یہ واضح کیا کہ ’جب ایمان اللہ پر ہو تو پھر آدمی خوفزدہ نہیں ہوتا۔‘

صحافی اور تجزیہ نگار اس وقت ملکی سیاسی منظر نامے میں اس ملاقات کو بہت اہمیت دے رہے ہیں۔

صحافی عاصمہ شیرازی نے بی بی سی کو بتایا کہ مولانا فضل الرحمان اپنے لائحہ عمل کا اعلان تو 31 اکتوبر کو ہی کریں گے لیکن اس وقت اقتدار کے ایوانوں میں خاصی پریشانی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کے مطابق جو بات تحریک انصاف کے اندر کی جاتی ہے وہ یہی ہے کہ ہم وہ والی غلطی نہیں کریں گے جو نون لیگ نے اپنے دور میں ان کی پارٹی کے دھرنے کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت دے کر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

صحافی عمران مختار نے جو تحریک انصاف کی سرگرمیوں اور سیاسی حکمت عملی پر گہری نظر رکھتے ہیں بی بی سی کو بتایا کہ تحریک انصاف کی کور کمیٹی میٹنگ میں یہ بات طے ہوئی تھی کہ مولانا فضل الرحمان مذہبی کارڈ استعمال کر رہے ہیں اور اس کارڈ کو موثر طور پر علماء اور مشائخ کے تعاون سے ہی بے اثر کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ علماء سے رابطے کرنے سے متعلق کور کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر سب سے پہلے یہ بات وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خود میڈیا کو بتائی تھی۔

عاصمہ شیرازی کے خیال میں مولانا فضل الرحمان نے اپنے پتے ظاہر نہیں کیے ہیں۔

وہ اپنے حتمی لائحہ عمل کا اعلان 31 اکتوبر کو ہی کریں گے۔ لیکن ان کے مطابق اب حکومت کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر وہ آزادی مارچ کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت دیتی ہے تو پھر ان کو باہر نکالنے کے لیے بھی مذاکرات کرنا ہونگے۔

اگر اسلام آباد میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی تو پھر اسلام آباد سے پہلے پنڈی آتی ہے تو پھر تحریک لبیک کے دھرنے جیسی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے احتجاج روکنے کے لیے مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ یہ کمیٹی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں قائم کی گئی ہے۔

عاصمہ شیرازی اس کمیٹی کی کامیابی سے زیادہ پر امید نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی مقتدر حلقوں کے ساتھ ہونے والی بیٹھک بھی بے نتیجہ رہی ہے تو اب وزیر دفاع اور وزیر اعظم کے لیے شاید مذاکرات کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہ ہو۔ ان کے خیال میں وزیر اعظم کا لب و لہجہ مذاکرت والا لگ بھی نہیں رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمان کا نام لیے بغیر جمعرات کو یہ بیان دیا تھا کہ یہ پہلی اسمبلی ہے جو بغیر ڈیزل کے چل رہی ہے۔

علماء دو دن سے اسلام آباد کے بڑے ہوٹل میں قیام پذیر

مولانا طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ علما کی ملاقات کے دوران جہاں کشمیر، بین المذاہب ہم آہنگی، ایران سعودی عرب سے تعلقات سمیت متعدد امور پر بات ہوئی وہیں پر وزیر اعظم عمران نے دھرنے والے ایشو پر زیادہ بات ہی نہیں کی، جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ اس احتجاج سے بالکل خوفزدہ نہیں ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو یہ مشورہ ضرور دیا ہے کہ ’دھرنے والوں سے نمٹنے کا صرف واحد ہی حل ہے اور وہ ہے مذاکرات، مذاکرات اور صرف مذاکرات۔‘

عمران مختار کے مطابق اگرچہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے علماء سے رابطوں کی صاف وجہ تو نہیں بتائی تھی لیکن اس سب کا مقصد مولانا فضل الرحمان کی طرف سے مذہبی بیانیے کامقابلہ کرنے کے لیے مذہبی رہنماوؤں سے رابطے بڑھانا ہے۔ جس کا اشارہ خود آج جاری ہونے والے سرکاری اعلامیے میں بھی ملتا ہے۔

طاہر اشرفی کا کہنا ہے کہ علماء دو دن سے حکومت کی دعوت پر اسلام آباد میں قیام کیے ہوئے تھے اور اس دوران ان کی اہم شخصیات سے ملاقاتیں بھی ہوئی ہیں۔ مفتی تقی عثمانی کے بیٹے حسان اشرف نے تصدیق کی ہے کہ ان کے والد اسلام آباد میں مقیم تھے جہاں سے جمعے کو وہ جدہ، سعودی عرب جا رہے ہیں۔

انھوں نے واضح کیا کہ ان کے والد ذاتی مصروفیات کی وجہ سے وزیر اعظم سے نہیں مل سکے ہیں۔

مزید پڑھیے

سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم نے علمائے کرام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کر نے اور اس اہم مسئلے پر قوم کو یکجا کرنے کے ضمن میں علمائے کرام نے جو کردار ادا کیا ہے وہ نہایت قابل تحسین ہے۔ انھوں نے کہا کہ علمائے کرام نے ملک کو درپیش ہر مسئلے پر خواہ وہ دہشت گردی سے نمٹنے کا مسئلہ ہو یا فرقہ واریت کی عفریت سے نمٹنے کا ہو کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت ملکی معیشت کی بہتری کے لئے ٹیکس کے نظام میں اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ علمائے کرام اور اسلامی نظریاتی کونسل قرآن و سنت کی روشنی میں ٹیکس اصلاحات کے ضمن میں اپنی تجاویز دیں۔

اپوزیشن کا احتجاج بھی در سر بن سکتا ہے

عاصمہ شیرازی کے خیال میں دھرنے سے ہٹ کر اپوزیشن کا احتجاج بھی حکومت کے لیے درد سر بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ اس وقت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نون دونوں جماعتوں نے اپنے محفوظ راستے رکھے ہوئے ہیں لیکن ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ دونوں جماعتیں مولانا فضل الرحمان کے صفحے پر موجود ہیں۔

ان کے خیال میں نواز شریف کے آزادی مارچ کی حمایت کے فیصلے کے بعد شہباز شریف کے پاس تو اس احتجاج کی حمایت کے علاوہ کوئی آپشن موجود نہیں ہے جبکہ بلاول بھٹو کی سوچ میں بھی تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ ان کا کہنا کہ مارچ پر سب متفق ہیں جبکہ دھرنے پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ ممکن ہے کہ دھرنے سے پہلے ہی پیپلزپارٹی اور نون لیگ کو نتائج مل جائیں اور اگر ان کو لگے کے رزلٹ میں دیر ہے تو پھر فیصلہ مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے ہی منسلک ہوگا۔

’اس وقت حکومت ایک مشکل صورتحال سے دوچار ہے، اگر اجازت دے تو پھر مسئلہ اور اگر ایسا نہ کرے تو پھر اس سے بڑا مسئلہ۔‘