آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سٹیون بٹلر: پاکستان میں عاصمہ جہانگیر کانفرنس کے لیے آئے سی پی جے کے اہلکار کو واپس بھیج دیا گیا
صحافیوں کے تحفظ کی ایک عالمی تنظیم نے پاکستانی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ انھوں نے تنظیم کے ایک اہلکار کو ملک میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔
کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) نے کہا ہے کہ ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر سٹیون بٹلر کو ’سٹاپ لسٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے لاہور سے واپس بھیج دیا گیا۔
تاہم حکومت کی طرف سے وضاحت پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ سٹیفن بٹلر کے ’سفری دستاویزات یقینی طور پر کوئی کمی ہوگی۔‘
یاد رہے کہ سی پی جے نے گذشتہ ماہ جاری ہونے والی اپنی خصوصی رپورٹ میں کہا تھا کہ پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے حالات مزید ناموافق ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں صحافتی پابندیوں کے بارے میں پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سٹیون بٹلر کی آمد اور واپسی
سٹیون بٹلر پاکستان میں وکیل عاصمہ جہانگیر کے نام سے منسوب انسانی حقوق کی کانفرنس میں شرکت کے لیے سفر کر رہے تھے۔
تنظیم کی پریس ریلیز کے مطابق سٹیون بٹلر نے دعوی کیا ہے کہ لاہور کے ہوائی اڈے پر امیگریشن حکام نے انھیں بتایا کہ ان کا ویزا جائز ہے لیکن انھیں ملک میں داخل ہونے کی اجازت اس لیے نہیں مل سکتی کیوں کہ ان کا نام ’وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کی گئی سٹاپ لسٹ میں شامل ہے۔‘
پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ ہوائی اڈے پر حکام نے سٹیون بٹلر کا پاسپورٹ اپنی تحویل میں لے لیا جس کے بعد انھیں پہلے دوحا اور پھر وہاں سے واشنگٹن ڈی سی جانے والے پرواز میں بٹھا دیا گیا۔
سٹیون بٹلر نے کہا ہے کہ وہ اس دوران اپنی تنظیم سے رابطے میں تھے اور انھیں ’محدود طور پر حراست میں لیا گیا تھا‘ اور ان کا بورڈنگ پاس اور پاسپورٹ جہاز کے عملے کے پاس تھا۔
تنظیم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جوئیل سائمن نے اپنے رد عمل میں کہا کہ وہ ’پاکستانی حکام کی جانب سے سٹیون بٹلر کو ملک میں داخلے سے روکے جانے کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ یہ ان تمام لوگوں کے منھ پر طمانچہ ہے جو پاکستان میں صحافتی آزادی کے بارے میں تشویش رکھتے ہیں۔‘
تنظیم کے سربراہ نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکام وضاحت دیں کہ سٹوین بٹلر کو ملک میں داخل ہونے سے کیوں روکا گیا اور اس فیصلے کو واپس لیں۔
’اگر پاکستانی حکومت آزادی صحافت کے بارے میں سنجیدہ ہے تو وہ اس معاملے پر فوری اور شفاف تحقیقات کرے۔‘
صحافی حامد میر نے بھی اس معاملے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے ٹویٹ میں کہا کہ ’جس نے بھی سٹیون بٹلر کو پاکستان آنے سے روکا ہے وہ دنیا کو یہ بتانا چاہ رہا ہے کہ پاکستان میں جمہوریت ایک دھوکہ ہے اور یہاں آزادی صحافت پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہِے۔‘
گذشتہ ماہ 'ایکٹس آف اینٹی میڈیشن' یعنی 'ڈرانے دھمکانے کے اقدامات' کے نام سے تیار کی گئی سی پی جے کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانی صحافیوں کی جانب سے دیے گئے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں 'میڈیا کے گرد گھیرا تنگ ہو گیا ہے۔'
عاصمہ جہانگیر کی صاحبزادی منیزے جہانگیر نے بتایا ہے کہ سٹیون بٹلر کے علاوہ بھی کچھ انڈین شرکا کو ویزے جاری نہیں کیے گئے۔
حکومتی مؤقف
اس موقع پر حکومت کا یہ مؤقف ہے کہ حکام نے ایسا ’سفری دستاویزات میں کسی کمی‘ کی وجہ سے کیا ہے۔
رابطہ کیے جانے پر وفاقی وزیر داخلہ برگیڈئیر ریٹائرڈ اعجاز شاہ نے ابتدائی طور پر سی پی جے کے اہلکار کو پاکستان میں داخلے سے روکنے کے بارے میں لاعلمی ظاہر کی۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’یقینی طور پر سٹیفن بٹلر کے سفری دستاویزات میں کوئی کمی ہوگی جس کی وجہ سے اُنھیں پاکستان میں داخلے سے روکا گیا ہے۔‘
حکومتی پالیسی بتاتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی غیر ملکی شہری کو پاکستان آنے سے روکنا ہوتا ہے تو اسے اس کے ملک میں پاکستانی سفارت خانے کی جانب سے ویزا ہی جاری نہیں کیا جاتا۔
اُنھوں نے کہا کہ سٹیفن بٹلر کو پاکستان میں داخل نہ کرنے کے بارے میں معلومات اکھٹی کی جا رہی ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک نے پاکستان میں داخلی امور سے متعلق مختلف لسٹوں کے بارے میں جاننے کے لیے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار سے بات کی ہے۔ ان لسٹوں میں سٹاپ لسٹ، بلیک لسٹ اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ شامل ہیں۔
سٹاپ لسٹ
وزارت داخلہ کے اہلکار کے مطابق سٹاپ لسٹ عدالتی فیصلے کی روشنی میں تیار کی جاتی ہے جس میں پولیس اور احتساب کے قومی ادارے نیب کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ اگر کوئی بھی شخص ان کو کسی مقدمے میں مطلوب ہوتا ہے اور اس کے بیرون ملک جانے کا خدشہ ہو تو اس کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کر لیا جاتا ہے۔
اہلکار کے مطابق سٹاپ لسٹ پر عمل درآمد پاکستان سے بیرون ملک جانے والے افراد کے لیے ہوتا ہے۔ سٹاپ لسٹ میں کسی کا بھی نام ہو تو وہ صرف 30روز تک رہ سکتا ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اس مدت کے گزرنے کے باوجود بھی ان اداروں کو مطلوب ہو تو دوبارہ سٹاپ لسٹ میں نام ڈالنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنا پڑتا ہے۔
بیرون ملک سے کسی غیر ملکی شخص کو پاکستان میں داخل نہ ہونے سے متعلق اہلکار کا کہنا تھا کہ اس بارے میں کوئی واضح قانون موجود نہیں ہے۔
’اگر خفیہ معلومات ہوں یا قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شک ہو کہ کوئی شخص پاکستان کے بارے میں منفی خیالات رکھتا ہے اور اس کی سرگرمیوں سے ان خیالات کو تقویت ملتی ہو تو ایسے شخص کے پاس کارآمد ویزہ ہونے کے باوجود اسے پاکستان میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔‘
اہلکار کے مطابق ریاست کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی غیر ملکی شہری کو ملک میں داخل ہونے سے روک سکتی ہے۔
بلیک لسٹ
بلیک لسٹ میں کسی بھی شخص کا نام شامل کرنے کا اختیار سیکریٹری داخلہ کے پاس ہوتا ہے۔ اس لسٹ میں کسی بھی شخص کا نام ڈالنے کے لیے کسی عدالت کی اجازت لینا ضروری ہے۔
’جس شخص کا نام اس لسٹ میں شامل کیا جاتا ہے اس کے ساتھ اس کے زیر استعمال پاسپورٹ کی تفصیلات بھی دی جاتی ہیں۔‘
اہلکار کے مطابق اگر کسی شخص کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے اور وہ بیرون ملک جانے کی کوشش کرتا ہے تو وہاں پر موجود ایمیگریشن کے حکام اس شخص کو روکتے ہیں۔
’اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا نام بلیک لسٹ میں فلاں مقدمے میں شامل ہونے یا اس کی مبینہ طور پر حکومت یا ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی وجہ سے شامل کیا گیا ہے۔‘
اہلکار کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص پر جو الزامات تھے جس کی وجہ سے اس کا نام بلیک لسٹ میں شامل کیا گیا تھا وہ ختم ہو جاتے ہیں تو سیکریٹری داخلہ خود ہی اس کا نام اس لسٹ سے نکالنے کے مجاز ہیں اور اس کے علاوہ کسی بھی عدالتی حکم پر ایسے شخص کا نام بلیک لسٹ سے نکالا جا سکتا ہے۔
اہلکار کے مطابق ایمیگریشن کے حکام کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ ایسے شخص کو گرفتار کر کے متعقلہ حکام کے حوالے کرسکتے ہیں۔
ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل)
وزارت داخلہ اس لسٹ میں ان افراد کے نام شامل کرتی ہے جن کے بارے میں کسی عدالت نے کوئی حکم نامہ جاری کیا ہو یا پھر نیب اور خفیہ اداروں کی طرف سے اس شخص کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہوں۔
اہلکار کے مطابق اگرچہ کسی بھی شخص کا نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا اختیار ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کے پاس ہوتا ہے لیکن موجودہ حالات میں یہ اختیار وزیر داخلہ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔