آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جمعیت علمائے اسلام کا آزادی مارچ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنے کا معاملہ ضلعی انتظامیہ کے سپرد کر دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ نے جمعیت علمائے اسلام کی طرف سے وفاقی دارالحکومت میں دھرنا روکنے سے متعلق درخواستیں نمٹاتے ہوئے یہ معاملہ ضلعی انتظامیہ کے سپرد کردیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ احتجاج ہر پرامن شہری کا حق ہے تاہم ریاست قومی سلامتی کے تناظر میں غیر معمولی حالات کے پیش نظر کسی بھی شخص کو احتجاج سے روک سکتی ہے۔
دوسری طرف حکمراں جماعت پاکستان تحریک انصاف نے جمعیت علمائے اسلام کی قیادت سے مذاکرات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔
وزیر دفاع پرویز خٹک اس مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ ہوں گے۔ اس بات کا فیصلہ وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ وہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچیں گے جہاں پر حکومت کے خلاف دھرنا دیا جائے گا۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عدالتی فیصلہ کیا ہے؟
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے ان درخواستوں کو نمٹانے کے لیے جو حکم جاری کیا ہے اس میں جمیعت علمائے اسلام کی طرف سے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ کو دی گئی درخواست کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس پر ابھی تک ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا۔
عدالتی حکم نامے میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس درخواست پر کوئی فیصلہ نہ ہونے کی وجہ سے درخواست گزاروں نے اس احتجاج سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔
اس حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ جمعیت علمائے اسلام کی درخواست پر کوئی قدم اٹھانے سے قبل میں اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے اسلام آباد میں احتجاج سے متعلق دیے گئے فیصلوں کو بھی مد نظر میں رکھے۔
عدالت نے اس امید کے ساتھ درخواستوں کو نمٹانے کا حکم دیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ ملک کے آئین اور قانون کو مدنظر رکھتے ہوئے اس احتجاج سے متعلق اقدامات اُٹھائے گی۔
ایک درخواست گزار حنیف راہی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز اس لیے جمعیت علمائے اسلام کے احتجاج میں شریک ہو رہی ہے کیونکہ ان کی قیادت بدعنوانی کے مقدمات کا سامنا کرہی ہے اور احتجاج میں شامل ہونے کا مقصد ان مقدمات کے خاتمے کے لیے حکومت پر دباو ڈالنا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا۔