جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس: ’ایسٹ ریکوری یونٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے‘

    • مصنف, شہزاد ملک
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ اثاثہ جات کی برآمدگی کا یونٹ یعنی ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کیوں قائم کیا گیا ہے۔

یہ سوال منگل کی دوپہر سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے بینچ نے اٹھایا۔

جسٹس فائز عیسیٰ اس وقت، بیرون ملک خاندانی اثاثے ظاہر نہ کرنے سے متعلق اپنے خلاف صدر عارف علوی کی طرف سے سپریم جوڈیشل کونسل میں دائر کیے گئے ریفرنس میں، وکیل کے ذریعے اپنا موقف پیش کر رہے ہیں۔

منگل کو جب جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے ان درخواستوں کی سماعت کی تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ صرف اس حد تک نہیں ہے کہ ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ وزیر اعظم سیکرٹریٹ میں کیوں ہے بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ اس یونٹ میں کوئی بھی سرکاری ملازم تعینات نہیں ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ریفرنس کے شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے ان کے موکل کی بیرون ممالک جائیداد کے بارے میں رابطہ اسی یونٹ سے کیا تھا اور اُنھیں اس ضمن میں 10 اپریل کو ایک خط بھی تحریر کیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں وہ خط پڑھ کر بھی سنایا۔

منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ نے ان جائیدادوں کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں اور نہ ہی اس ضمن میں کوئی شواہد عدالت میں پیش کیے۔ اُنھوں نے کہا کہ خط میں نہ تو شکایت کنندہ کا کوئی ٹیلی فون نمبر اور نہ ہی کوئی ایڈریس درج تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس منصور علی شاہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ برطانیہ اور دیگر ممالک میں جائیداد کے بارے میں معلومات مل سکتی ہیں کہ اس کا مالک کون ہے جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس جائیداد کے بارے میں معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں لیکن اس کے مالک کے بارے میں معلومات نہیں مل سکتیں۔

بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ نام پر ریکارڈ سرچ کیا جا سکتا ہے لیکن سوال یہی ہے کہ پھر کیسے اس پراپرٹی کے بارے معلومات ملیں جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل نے کہا کہ یہ سب معلومات ان کے موکل اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کا پیچھا کر کے حاصل کی گئیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر نے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کی جائیداد سے متعلق بھی معلومات دیں اور اس کے علاوہ شکایت کنندہ نے ’ایسٹ ریکوری یونٹ‘ کو یہ بھی بتایا کہ جسٹس کے کے آغا کے پاس دوہری شہریت ہے لیکن اس بارے میں کوئی دستاویزی ثبوت نہیں دیے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس سال 10 مئی کو ایف آئی اے کے حکام نے ایسٹ ریکوری یونٹ کے ارکان سے ملاقات کی اور اسی دوران درخواست گزار جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا نام اور ان کی سپین کی شہریت کے بارے میں معلومات سامنے آئیں اس پر بینچ کے سربراہ عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ درخواست گزار کی اہلیہ کی ویزا درخواست کی وجہ سے نام سامنے آیا ہوگا کیونکہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو پانچ سال کا ویزہ دیا گیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے سوال کیا کہ ان کے موکل کی اہلیہ کا نام شکایت کنندہ کو کیسے معلوم ہوا۔ اُنھوں نے کہا کہ کیسے ایک جج کے خلاف محض ایک خط کی بنیاد پر تحقیقات کی جاسکتی ہیں جبکہ شکایت کنندہ کے بارے میں معلومات ہیں کہ اسے صرف استعمال کیا جارہا ہے جبکہ اس کے پیچھپے محرکات کچھ اور ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ججوں کے خلاف تحقیقات سے متعلق قانون میں کچھ سیف گارڈز ہیں جس پر بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ججوں کے معاملات کے حوالے سے دو فورم ہیں جو رائے دے سکتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف شکایت وصول کرنا، ثبوت اکٹھے کرنا اور ریفرنس فائل کرنا مخلتف اوقات میں ایک سیریز کے ساتھ ہوئے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس مقبول باقر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا وہ کہنا چاہتے ہیں کہ بغیر اجازت کے جج کے خلاف تحقیقات شروع کی گئیں اور آپ کے مطابق ان کے موکل کے خلاف تحقیقات ایسٹ ریکوری یونٹ کی وجہ سے شروع ہوئیں؟

منیر اے ملک نے جواب دیا کہ اگر عدالت تمام معاملات کو مرحلہ وار دیکھے تو تمام حقائق کھل کر سامنے آ جائیں گے۔

بینچ کے سربراہ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر کو ایف آئی اے اور ایف بی آر نے ان کے موکل کے بارے میں تمام معلومات فراہم کیں جس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ وحید ڈوگر ایک جعلی شکایت کنندہ ہے۔

جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ شکایت کنندہ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے یورپین نام کا کیسے علم ہوا؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ ہوسکتا کہ ڈوگر کے پاس مافوق الفطرت اختیارات ہوں۔ اس برجستہ جواب پر عدالت میں قہقہ بلند ہوا۔

بینچ کے سربراہ نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا اُن کے موکل نے اپنی اہلیہ کو کبھی کوئی رقم تحفے میں دی جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وہ اس بارے میں معلومات لے کر ہی عدالت کو بتا سکتے ہیں۔

سماعت کے دوران بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ڈوگر پراکسی ہے، اس کی منطق سمجھ نہیں آئی جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ ڈوگر ایک بااعتماد آدمی نہیں ہے۔ اسی دوران عبدالوحید ڈوگر روسٹرم پر آئے اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل کو کہا کہ ’میں ڈوگر ہوں۔‘

بینچ کے سربراہ نے پوچھا کہ روسٹرم پر کون کھڑا ہے جس پر منیر اے ملک نے عدالت کو بتایا کہ یہ ڈوگر ہے۔

بینچ میں موجود جسٹس منیب اختر نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ اُنھیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ ڈوگر ہے جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے خود مجھے کان میں بتایا ہے کہ وہ ڈوگر ہے۔ منیر اے ملک نے شکایت کنندہ کے بارے میں بتایا کہ وہ ماضی میں بھی جعلی خبریں شائع کرتے رہے اور بعد میں اپنے کیے پر معافی بھی مانگ لی۔

عدالت نے ان درخواستوں کی مزید سماعت 16 اکتوبر تک ملتوی کردی۔