آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغان حکومت: طالبان کو پروٹوکول دینا سفارتی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے
افغان حکومت نے پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے طالبان کے وفد کو دیے گئے ’پروٹوکول‘ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس طرح کے دورے افغان امن عمل کے لیے سود مند ثابت نہیں ہوسکتے۔
افغان طالبان کا وفد چار روزہ دورے پر پاکستان آیا ہے، جہاں اُنہوں نے بدھ کے روز وزیراعظم عمران اور شاہ محمود قریشی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار خدائے نور ناصر نے بتایا کہ افغان صدارتی محل (ارگ) کے ترجمان صدیق صدیقی نے جمعرات کو کابل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان ایک ’شدت پسند‘ گروہ ہے اور اُن کا اس طرح استقبال کرنا ملکوں کے درمیان سفارتی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے۔
صدارتی ترجمان نے مزید کہا کہ ’پاکستان کے وزیرخارجہ نے پروٹوکول کے ساتھ اُن کا استقبال کیا، ایک ایسے گروہ کا، جو آج بھی تشدد پسند ہیں۔ یہ ملکوں کے درمیان سفارتی اُصولوں کی خلاف ورزی ہے۔‘
امریکہ - طالبان مذاکرات کے تعطل کے بعد طالبان کا یہ چوتھا غیرملکی دورہ ہے اور اس سے پہلے وہ روس، ایران اور چین کا دورہ کرچکے ہیں۔
بدھ کی رات کو طالبان وفد نے پاکستان کا چار روزہ دورہ ایسے وقت میں شروع کیا، جب افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل پاکستان کے وزیراعظم ہاؤس کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا ہے کہ جمعرات کی دوپہر وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی اس ملاقات میں پاکستانی کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان کے سیاسی دفتر کے اعلیٰ سطح کے اس وفد نے پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی سے دفترِ خارجہ میں ملاقات کی تھی۔
اس ملاقات میں پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔
دفتر خارجہ سے اس ملاقات کے بارے میں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ طالبان کے سیاسی وفد کی سربراہی ملا عبدالغنی برادر نے کی اور اس ملاقات کے دوران خطے کی صورتحال اور افغان امن عمل سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال ہوا۔
دوسری جانب افغانستان کے چیف ایگزیکیوٹو عبداللہ عبداللہ نے امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان افغانستان میں امن کی خاطر طالبان کو کابل کے ساتھ بات چیت کرنے پر آمادہ کر پائے گا۔
بدھ کو کابل میں پاکستان کے سفیر زاہد نصراللہ خان سے ملاقات میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انھیں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر آمادہ کر پائے تو ملک میں امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔
یاد رہے کہ سنہ 2018 میں پاکستان نے سابق افغان جنگجو لیڈر ملا بردار کو آٹھ سال حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا تھا۔ انھیں سنہ 2010 میں پاکستان ہی سے گرفتار کیا گیا تھا۔ رواں سال کے آغاز پر انھیں قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کا سربراہ مقرر کیا گیا تھا۔
اس ملاقات کے موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ برادرانہ تعلقات، مذہبی، ثقافتی اور تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں جبکہ پاکستان گذشتہ 40 برسوں سے افغانستان میں عدم استحکام کا خمیازہ یکساں طور پر بھگت رہا ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان صدق دل سے سمجھتا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور افغانستان میں قیام امن کے لیے 'مذاکرات' ہی مثبت اور واحد راستہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمیں خوشی ہے کہ آج دنیا، افغانستان کے حوالے سے ہمارے (پاکستان) مؤقف کی تائید کر رہی ہے۔
وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے افغان امن عمل میں مشترکہ ذمہ داری کے تحت نہایت ایمانداری سے مصالحانہ کردار ادا کیا ہے کیونکہ پرامن افغانستان پورے خطے کے امن و استحکام کیلئے ناگزیر ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ فریقین مذاکرات کی جلد بحالی کی طرف راغب ہوں تاکہ دیرپا، اور پائیدار امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ گذشتہ کئی برسوں سے پاکستان دنیا کو یہ یاد کرواتا رہا ہے کہ وہ افغانستان کی 'ہارڈ کور' (سخت گیر) سیاسی، معاشی، معاشرتی اور تہذیبی زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کریں۔ انھوں نے کہا کہ افغان تنازعے کا پرامن حل تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی کا باعث بنے گا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کے حصول کے لیے موجودہ علاقائی اور بین اقوامی اتفاق رائے نے ایک بے مثل موقع فراہم کیا ہے جو کسی صورت ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
پاکستانی وزیر خارجہ نے اس امید کا اظہار کیا کہ تعطل کے شکار افغان امن عمل کی دوبارہ شروعات جلد ہی ہو گی۔
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق افغان طالبان کے اعلیٰ سطحی وفد نے افغان امن عمل میں پاکستان کے مصالحانہ کردار کی تعریف کی اور فریقین کا مذاکرات کی جلد بحالی کی ضرورت پر اتفاق کیا۔
طالبان وفد کی پاکستان آمد
قطر میں افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ طالبان کا سیاسی وفد ان کی مذاکراتی ٹیم کے سینیئر ارکان پر مشتمل ہے اور اس میں ملا برادر سمیت 11 نمائندے شامل ہیں۔
طالبان مذاکرات کاروں کا یہ دورۂ پاکستان ایک ایسے وقت ہوا جب افغانستان کےلیے امریکی صدر کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پہلے ہی پاکستان میں موجود تھے۔
افغان امن مذاکرات
افغانستان میں جنگ بندی اور امریکی فوج کے انخلا کے سلسلے میں طالبان وفد کے امریکہ کے ساتھ مذاکرات ختم ہونے کے بعد طالبان وفد کا یہ چوتھا غیرملکی دورہ ہے۔ رواں سال ستمبر کے اوائل میں امریکی صدر ٹرمپ نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
اس سے پہلے لگ بھگ 11 ماہ تک امریکی اور طالبان وفود کے درمیان مذاکرات چلتے رہے اور امریکی صدر کے اعلان سے ایک ہفتہ قبل وفود کی سطح پر مسودے پر اتفاق ہوگیا تھا تاہم صدر ٹرمپ نے مذاکرات ختم کر دیے تھے۔
آٹھ سال پاکستان میں قید رہنے والے ملا برادر
طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا برادر نے پاکستان میں آٹھ سال قید کاٹنے اور پھر رہائی کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان کا دورہ کیا۔
ملا برادر کی رہائی کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں طورخم میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا تھا کہ ’ہم نے طالبان کو قطر پہنچایا اور اُن سے کہا گیا کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کریں.‘
افغان طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر کو 2010 میں پاکستان کے شہر کراچی میں ایک آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا اور انھیں آٹھ برس بعد اکتوبر 2018 میں رہا کر دیا گیا تھا۔
بعض ذرائع کے مطابق پاکستان نے ملا برادر کو امریکی درخواست پر رہا کیا تھا تاکہ وہ مذاکرات میں کوئی کردار ادا کر سکیں.
51 سالہ ملا عبدالغنی برادر طالبان کے بانی ملا عمر کے قریبی ساتھی اور اُن کے سیکنڈ ان کمانڈ تھے۔
الجزیرہ کی صحافی کارلوٹا بیلیس کی ایک مختصر دستاویزی فلم میں سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ ملا برادر اور کئی طالبان رہنما 2010 میں ہی افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار تھے۔
تاہم اُن کے مطابق امریکہ اور پاکستان مذاکرات کے حق میں نہیں تھے اور اُنھوں نے ملا برادر کو گرفتار کر لیا تھا۔ سابق افغان صدر کے مطابق اُنھوں نے اُس وقت بھی ملا برادر کی گرفتاری پر شدید احتجاج کیا تھا۔