قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل میں بھائی محمد وسیم کو عمرقید

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ملتان کی ماڈل عدالت 2016 میں ماڈل اور اداکارہ قندیل بلوچ کے مقدمۂ قتل کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم اور مقتولہ کے بھائی محمد وسیم کو عمرقید کی سزا سنا دی ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنے بےباک انداز سے شہرت پانے والی قندیل بلوچ کو جولائی 2016 میں اس وقت قتل کر دیا گیا تھا جب وہ اپنے گھر میں محوِ خواب تھیں۔ پولیس کی تحقیقات سے پتا چلا تھا کہ انھیں گلا گھونٹ کر مارا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ملتان میں موجود بی بی سی اردو کی ترہب اصغر کے مطابق اس مقدمے کے ایک ملزم محمد عارف کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ہے جبکہ قندیل کے بھائی اسلم شاہین اور مذہبی سکالر اور پاکستان تحریک انصاف کے علما ونگ کے سابق رکن مفتی عبدالقوی سمیت پانچ ملزمان کو بری کر دیا گیا ہے۔

عدالت کے جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ محمد وسیم کو دفعہ 311 کے تحت عمرقید کی سزا سنائی جاتی ہے جبکہ استغاثہ دیگر ملزمان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

خیال رہے کہ محمد وسیم نے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا تھا کہ یہ جرم انھوں نے کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ ’قندیل بلوچ خاندان کے لیے رسوائی کا سبب بن رہی تھیں‘ تاہم بعد میں جب ان پر باقاعدہ فرد جرم عائد کی گئی تو انھوں نے اس سے انکار کر دیا تھا۔

فیصلے کے موقع پر قندیل بلوچ کی والدہ بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں اور بیٹے کو عمرقید سنائے جانے کے بعد وہ زاروقطار رونے لگیں۔ خیال رہے کہ قندیل کے والد نے بھی گذشتہ ماہ عدالت سے محمد وسیم اور اسلم شاہین کو معاف کرنے کی درخواست کی تھی جسے رد کر دیا گیا تھا۔

فیصلے کے بعد ملزم محمد وسیم کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پانچ ملزمان کی بریت پر مطمئن ہیں اور پرامید ہیں کہ اعلیٰ عدالت وسیم کو بھی بری کرے گی۔

فیصلہ سنائے جانے سے قبل مفتی عبدالقوی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں عدلیہ پر اعتماد ہے اور وہ پرامید ہیں کہ فیصلے میں انصاف اور حق کی فتح ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں اپنی بریت کی قوی امید ہے کہ کیونکہ ایف آئی آر تک میں ان کا نام نہیں تھا۔

اس مقدمے کے ملزمان میں قندیل کے دو بھائیوں محمد وسیم اور اسلم شاہین کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ دار حق نواز، ظفر اقبال، محمد عارف، مفتی عبدالقوی اور عبدالباسط شامل تھے۔

محمد وسیم اور حق نواز اس مقدمے کے مرکزی ملزمان تھے جبکہ ملزم عبدالباسط ٹیکسی ڈرائیور تھا اور اُس پر الزام تھا کہ اس نے قندیل بلوچ کے قتل کے بعد محمد وسیم اور حق نواز کو فرار کروانے میں مدد کی تھی۔

یہ بھی دیکھیے

خیال رہے کہ اس مقدمے کو ملتان کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت سے ماڈل کورٹ میں منتقل کیا گیا تھا تاکہ اس مقدمے کا فیصلہ جلد از جلد کیا جا سکے۔اسی عدالت نے گذشتہ ماہ مقتولہ کے والد کی جانب سے اپنے دونوں بیٹوں کو معاف کرنے کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں صلح یا مدعی مقدمہ کی طرف سے معاف کیے جانے کے عمل کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔

خیال رہے کہ جب قندیل بلوچ کو تین سال قبل قتل کیا گیا تھا تو اس وقت مقتولہ کے والد اور مقدمے کے مدعی محمد عظیم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ قطعی طور پر ملزمان کو معاف نہیں کریں گے۔

قندیل بلوچ کون تھیں؟

قندیل بلوچ کا تعلق پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی ضلع ملتان کے ایک غریب خاندان سے تھا۔ ان کا اصل نام فوزیہ عظیم تھا لیکن انھیں شہرت قندیل بلوچ کے نام سے ہی ملی۔

انھیں پاکستان کی پہلی سوشل میڈیا سیلبریٹی کہا جاتا ہے اور سوشل میڈیا پر انھیں یہ شہرت اپنے اس بےباک انداز کی وجہ سے حاصل ہوئی جو بعد میں ان کے قتل کی وجہ بھی بنا۔

سوشل میڈیا پر ان کے مداحوں کی تعداد ہزاروں میں تھی اور ان کے قتل سے قبل پاکستان میں انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی دس شخصیات میں ان کا نام بھی شامل تھا۔

2014 میں شہرت ملنے کے بعد قندیل کی نجی زندگی کی معلومات بھی سامنے آئیں۔ یہ بھی پتا چلا کہ لڑکپن میں ان کی شادی ہوئی تھی اور ان کا ایک بیٹا بھی ہے۔ قندیل نے اپنے شوہر کے بارے میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ ایک ’ظالم‘ شخص تھا جو انھیں مارا پیٹا کرتا تھا اور اسی لیے وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ اسے چھوڑ آئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بیٹے کا خرچہ اٹھانے کی سکت نہ رکھنے کی وجہ سے انھوں سے بعدازاں اسے اس کے والد کے حوالے کر دیا تھا۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق قندیل نے اس کے بعد سے اپنے بیٹے کو نہیں دیکھا تھا۔

تاہم بیٹے کو اس کے والد کے پاس بھیجنے کے بعد ہی فوزیہ عظیم قندیل بلوچ بنیں۔ ان کی بےباکانہ حرکات کو دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے لیکن قندیل نے اپنے انداز اور خیالات کے بارے میں کبھی معذرت خواہانہ رویہ اختیار نہیں کیا۔

بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے دھمکیاں ملتی ہیں لیکن میرا یقین ہے کہ موت کا وقت معین ہے اور جب آپ کی موت کا وقت آ جائے تو آپ کو مرنا ہوتا ہے۔‘

قندیل کیس کی وجہ سے غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم

یاد رہے کہ سنہ 2016 میں پاکستان کی پارلیمان نے قندیل بلوچ کے قتل ہی کے ردِ عمل میں شروع ہونے والی مہم کے بعد غیرت کے نام پر قتل کے قانون میں ترمیم منظور کی تھی۔

اس کے مطابق مرنے والے کے لواحقین کی جانب سے معاف کیے جانے کے باوجود قتل کرنے والے کو عمر قید یا 25 برس قید کی سزا ہوگی۔

اس سے قبل پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے زیادہ تر مقدمات میں یہ دیکھنے میں آیا تھا کہ مدعی قتل کرنے والے کے ماں باپ یا بہن بھائی ہوتے تھے جو انھیں معاف کر دیتے تھے جس کے بعد ان پر مقدمہ ختم ہو جاتا تھا۔

قندیل بلوچ کے قتل کے بعد اسے سیاسی اور سماجی حلقوں میں زیر بحث لایا گیا اور یہ واقعہ بین الاقوامی میڈیا میں بھی آیا اور پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات میں اضافے کی وجہ اس ضمن میں مناسب قانون سازی نہ ہونے کو قرار دیا گیا تھا۔