قصور: ایک گمشدہ بچے کے والدین نے کپڑوں کی شناخت کرلی

صوبہ پنچاب کے ضلع قصور کی تحصیل چونیاں میں جنسی زیادتی کے بعد قتل کیے جانے والے بچے فیضان اور دیگر بچوں کے مبینہ طور پر اغوا کرنے کے بعد ہلاک کیے جانے کے واقعات کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جوائنٹ انویسٹیگیشن ٹیم (جے آئی ٹی) میں شامل ڈی پی او قصور اور ایس پی انویسٹیگیشن کو او ایس ڈی بنا دیا گیا ہے۔

ان کی جگہ زینب قتل کیس کی تحقیقات میں شامل زاہد نواز کو ڈی پی او قصور کی ذمہ داریاں سونپ دی گئی ہیں اور اب وہ جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

’قصور واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا‘

وزیر اعظم عمران خان نے بھی اپنی ٹویٹ میں قصور کے واقعے کے بعد کہا ہے کہ ’قصور واقعے پر سب کا محاسبہ ہوگا۔ جنھوں نے عوام کے مفادات کے تحفظ کیلیے کام نہیں کیا ان سے باز پرس کی جائے گی‘۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی ٹویٹ میں ضلع قصور کی پولیس میں ہونے والی تبدیلیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔

حکومتِ پنجاب کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ جے آئی ٹی اس حوالے سے درج کیے گئے چار مقدمات کی تفتیش کرے گی۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ڈپی پی او قصور، ایس پی انویسٹیگیشن قصور، ایس پی انویسٹیگیشن صوبائی تفتیشی برانچ، اہکار آئی بی اور سی ٹی ڈی جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

یہ اقدامات صوبہ پنجاب کی پولیس کی جانب سے آٹھ سالہ بچے فیضان کو قتل کرنے سے قبل جنسی زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کے بعد سامنے آئے ہیں۔

علاقے کا ایک 17 سالہ بچہ بھی لاپتہ

ضلع قصور کے علاقے چونیاں میں بچوں کی گمشدی کے واقعات سامنے آنے کے بعد عوثیہ کانولی کے ایک اور بچے کی گمشدگی کی خبر اس وقت سامنے آئی جب بچے کے والد نے میڈیا کے نمائندوں کو اپنے بیٹے کی گمشدگی سے آگاہ کیا۔

مقامی رہائشی طارق عزیر نے بی بی سی سے اپنے بیٹے امیر حمزہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ امیر حمزہ گھر سے نکلا اور اس کے بعد اس کا سراغ نہیں ہے۔

’میں نے چوبیس جون کو پولیس کو درخواست دی لیکن میرے بیٹے کی گمشدگی کی کوئی ایف آئی آر نہیں کاٹی گئی۔ میں نے تھانے کے چکر لگائے، جب پولیس والوں نے کچھ نہیں کیا تو میں نے اپنے طور پر اپنے بیٹے کی تلاش کی کیونکہ میں نے سوچا کہ انھوں نے کیا کرنا ہے لیکن میرا بیٹا نہیں ملا۔ آج پولیس نے تین ماہ دس دن بعد ایف آئی آر کاٹی ہے۔‘

امیر حمزہ کے والد نے نے بی بی سی کو بتایا کہ چونیاں میں جب تین بچوں کی ہلاکت کا معاملہ سامنے آیا تو وہ ایک مرتبہ پھر پولیس کے پاس گئے جس پر پولیس والوں نے جواب دیا کہ آپ کا بچہ بڑی عمر کا ہے جبکہ یہ مسئلہ چھوٹے بچوں کا ہے۔

امیر حمزہ کے والد کا مزید کہنا تھا کہ جن بچوں کی باقیات ملی ہیں ان کی شناخت نہیں ہوئی ہے ’کیا پتہ ان میں کہیں میرا بچہ بھی ہو۔‘

17 سالہ امیر حمزہ گم ہونے والے باقی بچوں کی نسبت عمر میں بڑے ہیں۔ جبکہ امیر حمزہ بھی اسی علاقے کا رہائشی ہیں جہاں سے مزید 3 بچے لاپتہ ہوئے۔

لاش اور باقیات

پولیس کے ترجمان کے مطابق فیضان کی لاش اور ممکنہ طور پر دیگر دو لاپتہ بچوں کی باقیات منگل کی شام چونیاں بائی پاس انڈسڑیل سٹیٹ کے علاقے میں مٹی کے ٹیلوں سے ملی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ لاش اور باقیات اس وقت ملیں جب ایک ٹریکٹر ٹرالی والا علاقے میں مٹی لینے گیا تھا اور ڈرائیور نے لاشیں دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

ادھر ڈی آئی جی ذوالفقار حمید کے مطابق ایک گمشدہ بچے علی حسنین کی والدہ اور والد نے بچے کے کپڑوں اور جوتوں کی شناخت کرلی ہے اور انھیں فرانزک ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پولیس ترجمان نے بتایا تھا کہ فیضان 16 ستمبر کو لاپتہ ہوا تھا جبکہ اس کے علاوہ تین دیگر بچوں کی گمشدگی کی رپورٹ بھی پولیس کے پاس ہے۔ ترجمان نے بتایا کہ دو بچوں علی حسین اور سلیمان کی گمشدگی کی اطلاع پولیس کو 15 اور 18 اگست کو ملی تھی جبکہ ایک بچہ عمران 12 جون سے لاپتہ ہے۔

ترجمان کے مطابق ’آٹھ سالہ بچے کی میت کچھ ٹھیک حالت میں تھی جس کی وجہ سے شناخت ممکن ہو سکی جبکہ باقی دونوں بچوں کی لاشوں کی شناخت ممکن نہیں ہے، پولیس نے ان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے حاصل کر لیے ہیں جن کی رپورٹ کا انتظار ہے۔‘

ایڈیشنل آئی جی آپریشنز انعام غنی نے بی بی سی اردو کی ترہب اصغر کو بتایا کہ فیضان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ اس کے ساتھ قتل سے قبل جنسی زیادتی کی گئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تشدد کے باعث فیضان کی گردن کی ہڈی پیچھے سے ٹوٹی ہوئی تھی اور اس کی موت گلا دبانے اور سانس بند ہونے کی وجہ سے ہوئی۔

مذکورہ بچے کی نماز جنازہ منگل کو رات گئے پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی اور سخت حفاظتی اقدامات میں ادا کی گئی جبکہ باقی دو بچوں کی باقیات ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیبارٹری کے پاس موجود ہیں۔

چونیاں میں احتجاج

ادھر چونیاں کے شہریوں نے لاپتہ بچوں کی لاشیں اور باقیات ملنے کے بعد بدھ کو احتجاج کیا ہے اور تھانے کا گھیراؤ کرنے کے علاوہ شہر کے خارجی و داخلی راستے بھی رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیے گئے۔

احتجاج کے دوران شہریوں نے مقامی تھانے کا گھیراؤ بھی کیا اور وہ حکومت سے فوری انصاف کے مطالبے پر مبنی نعرے بازی بھی کرتے رہے۔

جلوس میں شامل شہریوں نے مختلف سڑکوں کو بھی ٹائر جلا کر بند کر دیا جبکہ شہر میں بدھ کو مکمل ہڑتال بھی کی جا رہی ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اس معاملے میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش کی جا رہی ہے جبکہ پنجاب پولیس کے سربراہ نے چونیاں کے ڈی ایس پی اور مقامی تھانے کے ایس ایچ او کو معطل کر دیا ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ غمزدہ خاندانوں کو انصاف دلانا حکومت کی ذمہ داری ہے اور حکومت یہ ذمہ داری ہر صورت نبھائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کریں گے اور انصاف نہ صرف ہو گا بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آئے گا۔ وزیراعلیٰ کے مطابق ملزمان کی جلد سے جلد گرفتاری کے لیے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

وزیراعلیٰ کی ہدایت پر صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت بھی بدھ کو چونیاں پہنچ رپے ہیں جہاں وہ چاروں بچوں کے لواحقین سے ملاقات کریں گے۔

نیلے کپڑے کس بچے نے پہنے ہوئے تھے؟

منگل کو جب ویران مقام پر بچوں کی لاشیں ملنے کی اطلاعات شہر میں پھیلیں تو وہاں ایک ہجوم جمع ہو گیا تھا جس کے بعد پورے علاقے کو پولیس کی بھاری نفری نے گھیرے میں لے لیا تھا۔

اس موقع پر موجود ایک عینی شاہد وقاص احمد نے صحافی محمد زبیر خان کو بتایا کہ ’بچے کی لاش ایک گڑھے میں الٹی پڑی ہوئی تھی جب کہ اس کے چند قدم کے فاصلے پر سر، بازو اور ٹانگوں کے کچھ حصے پڑے تھے۔ اسی طرح دو، تین فٹ کے فاصلے پر نیلے رنگ کے کپڑے موجود تھے جو پھٹے ہوئے تھے۔‘

عینی شاہدین نے بی بی سی کو یہ بھی بتایا کہ جائے وقوع سے ملنے والے نیلے رنگ کے کپڑے دیکھ کر دو لاپتہ بچوں علی حسین اور محمد عمران کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ اس رنگ کے کپڑے ان کے گمشدہ بچوں نے پہنے ہوئے تھے۔

علی حسین کے والد محمد افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ایک ماہ سے اپنے بچے کو تلاش کر رہے ہیں۔ ’ایک ماہ ہو چکا ہے ہمارے گھر میں کھانا نہیں پکا۔ چونیاں چھوڑ سارے قصور ضلع، پاک پتن جہاں جہاں پہنچنا ممکن تھا تلاش کر چکے ہیں مگر بچے کا کوئی پتا نہیں چلا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان کے خون کے نمونے حاصل کر لیے گئے ہیں اور انھیں ’بتایا گیا ہے کہ جلد ہی اطلاع دیں گے کہ علی حسین کے جسم کی کون کون سے باقیات ہیں۔‘

بچے کہاں سے لاپتہ ہوئے؟

لاپتہ ہونے والے تین بچوں فیضان، علی حسین اور سلیمان کا تعلق چونیاں کے محلہ غوثیہ آباد سے ہے۔ فیضان کے والد امام محمد رمضان غوثیہ آباد ہی میں امام مسجد ہیں جبکہ علی حسین اور سلیمان کے والد مزدوری کرتے ہیں۔ عمران کا تعلق رانا ٹاون کے علاقے سے ہے۔

غوثیہ آباد تقریباً پانچ ہزار سے زائد گھروں پر مشتمل آبادی ہے ہے اور بچوں کے لاپتہ ہونے کے بعد سے وہاں خوف کی فضا ہے۔ ان واقعات کے بعد والدین نے اپنے بچوں کو باہر نکلنے اور کھیلنے سے بھی منع کردیا ہے۔

محمد عمران کے والد محمد رمضان کا کہنا تھا کہ ان کا بیٹا تقریباً تین ماہ سے زیادہ عرصے سے غائب ہے۔

’محمد عمران جب غائب ہوا تو سکول سے چھٹیاں تھیں۔ یہ کوئی دس، گیارہ بجے کا وقت تھا،سخت گرمی پڑ رہی تھی۔ اس کی والدہ نے مجھے بتایا کہ روز کی طرح مجھ سے نظر بچا کر باہر جانا چاہتا تھا مگر اس روز پتا نہیں کیوں میں نے اس کو منع کیا کہ نہ جاؤ تو اس نے کہا کہ اچھا نہیں جاتا جس کے بعد جب میں کسی کام سے اندر گئی تو وہ باہر نکل گیا۔‘

عمران کی والدہ کے مطابق ’جب دوپہر کھانے کا وقت ہوا تو وہ نہ آیا تو بچوں کو بھیجا کہ اس کو لے آئیں مگر وہ نہ ملا تو خود باہر نکل کر دیکھا، پڑوس کے گھروں میں پتا کیا مگر وہ نہیں ملا جس کے بعد مجھے اطلاع دی گئی۔ میں نے ہر طرف ڈھونڈا اور رات کو مایوس ہو کر پولیس کو اطلاع دی تھی۔‘

لاپتہ سلیمان کے تایا محمد اشرف کا کہنا تھا کہ ان کے بھتیجے کو لاپتہ ہوئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ ’وہ شام کے وقت روز کے معمول کی طرح گھر سے کھیلنے کے لیے نکلا مگر رات گئے تک واپس نہیں آیا۔ جس کے بعد پولیس میں رپورٹ درج کروائی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’آج ہم لوگوں نے بہت زور لگایا کہ ہمیں بچوں کی باقیات دیکھنے دو مگر انھوں نے نہیں دیکھنے دیں اور اب ہم سے کہتے ہیں کہ اگر غائبانہ نماز جنازہ کروانا ہے تو کروا لیں مگر ہم نے انکار کردیا ہے کہ نہیں ہمیں اب ہمارے بچے کی باقیات دو تو پھر ہی نماز جنازہ کروائیں گے۔‘

محمد اشرف کا کہنا تھا کہ وہ غوثیہ آباد کے باقی دو متاثرہ خاندانوں کی بھی نمائندگی کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس یہ ہے کہ پولیس نے بچوں کی تلاش میں ہمارے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا تھا۔ کئی مرتبہ پولیس کے پاس گئے تھے مگر پولیس والے کہتے تھے کہ آ جائے گا ہم بھی تلاش کررہے ہیں آپ لوگ بھی تلاش کرو مگر اس نے نہیں آنا تھا نہیں آیا۔‘

اگر پولیس تعاون کرتی تو شاید یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

پولیس کیا کہتی ہے

پولیس حکام کا کہنا ہے وہ بچوں کے اغوا اور قتل میں ملوث افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن کر رہی ہے۔

آر پی او شیخوپورہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پولیس پوری کوشش کر رہی ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت چار، پانچ لوگ پولیس کی حراست میں ہیں مگر ضروری نہیں کہ وہ ہی ملزم ہوں۔

ان کا کہنا تھا ایک جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جس میں زینب قتل کیس کی تفتیش کرنے والے افسران کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

پولیس کے شعبہ تفتیش قصور کے ذرائع کے مطابق اس وقت پولیس تمام پہلوؤں سے تفتیش کررہی ہے۔ لاہور سے فارینزک لیبارٹری کا عملہ بھی پہنچ چکا ہے۔ جس مقام سے بچوں کی لاشیں ملی ہیں وہاں سے تمام نشانات وغیرہ حاصل کر لیے گے ہیں۔ بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے یا کوئی اور واقعہ ہے یہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی بتایا جاسکے گا۔

پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش کے لیے تمام ذرائع استعمال کیے جارہے ہیں کئی مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ ہو رہی ہے۔

واضح رہے کہ یہ ضلع قصور میں کمسن بچوں کے اغوا کا کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ یہ قصور ہی تھا جہاں سے جنوری 2018 میں زینب نامی بچی کے اغوا اور قتل نے پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف مہم کو مہمیز دی تھی۔

قصور کی رہائشی چھ سالہ زینب چار جنوری 2018 کو لاپتہ ہوئی تھی اور نو جنوری کو ایک کچرا کنڈی سے ان کی لاش ملی جس پر ملک بھر میں شدید احتجاج اور غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔

اس معاملے میں پولیس نے ڈی این اے ٹیسٹ کی مدد سے مجرم عمران علی کو گرفتار کیا تھا جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے موت کی سزا دی تھی اور اس سزا پر اکتوبر 2018 میں عملدرآمد بھی کر دیا گیا تھا۔