آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب پولیس نے تھانوں میں موبائل، سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کر دی
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کے صوبہ پنجاب میں پولیس کی جانب سے تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
صوبائی اے آئی جی آپریشنز کی طرف سے پیر کو جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ہدایات کے باوجود پولیس اہلکاروں کو موبائل فون استعمال کرتے پایا گیا ہے۔
نوٹیفیکیشن میں پنجاب کے تمام سٹی پولیس افسران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایس ایچ او یا انچارج سے نیچے کوئی بھی پولیس افسر ڈیوٹی پر اپنا موبائل استعمال نہیں کرے گا۔
یہ قدم ایک ایسے وقت پر اٹھایا گیا ہے کہ جب حال ہی میں مبینہ پولیس تشدد کے کچھ کیس سامنے آئے ہیں جن میں کم از کم دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’ڈیوٹی پر کسی بھی افسر کی ویڈیو بنانا اور اسے اپ لوڈ کرنا منع ہے۔ کسی بھی خلاف ورزی پر نہ صرف ملوث اہلکار بلکہ سربراہ افسر کے خلاف ڈیپارٹمنٹل ایکشن لیا جا سکتا ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویڈیو والے فون پر پابندی
اسی سلسلے میں پیر کے روز راولپنڈی کے سٹی پولیس افسر کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف تھانے کے ایس ایچ او اور محرر کے پاس ٹچ موبائل یا سمارٹ فون ہو گا۔
حکم میں مزید کہا گیا کہ تھانے میں آنے والے کسی بھی شخص کے پاس ایسا فون نہ ہو جس میں ویڈیو بنانے کی سہولت موجود ہے۔
بیان میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ کوئی بھی تفتیشی افسر یا دوسرا پولیس اہلکار تھانے کی حدود میں ویڈیو بنانے والا موبائل یا سمارٹ فون استمعال نہیں کر سکے گا۔
تاہم پولیس کے محمکہ اطلاعات عامہ کی جانب سے یہ وضاحت بھی سامنے آئی ہے کہ تھانوں میں موبائل فون کے استعمال پر پابندی سے ڈی ایس پی، انچارج انوسٹیگیشن اور ایس ایچ او کو استثنی حاصل ہوگا جبکہ عام شہری کے موبائل فون سمیت تھانے میں داخلے پر پابندی کا فیصلہ متعلقہ تھانہ کرے گا۔
اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص تھانے میں کسی مقدمے کے سلسلے میں آتا ہے تو تھانے کے مرکزی دروازے پر ہی اس شخص کے زیرِ استعمال موبائل فون کو تحویل میں لے لیا جائے گا اور ان کی واپسی پر یہ موبائل واپس کر دیا جائے گا۔
سٹی پولیس افسر کے دفتر میں کام کرنے والے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو آئی جی پنجاب کے دفتر سے یہ حکم ملا تھا جس پر فوری طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے موبائل فون کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
اس ضمن میں جب آئی جی پنجاب کے پبلک ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ سے رابطہ کیا گیا تو اُنھوں نے اس بارے میں کسی ردعمل کا اظہار نہیں ہے۔
سی پی او راولپنڈی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں تمام تھانوں کے انچارج کو یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ کسی بھی شخص کو غیر قانونی حراست میں نہ رکھا جائے۔
راولپنڈی پولیس کے حکام نے دعویٰ کیا کہ یہ اقدام حالیہ چند روز قبل پنجاب پولیس کے اہلکاروں کے ہاتھوں مبینہ تشدد سے چند افراد کی ہلاکت کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد اُٹھایا گیا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اس بات کے شواہد بھی ملے ہیں کہ تفتیشی اہلکاروں کی طرف سے کسی بھی ملزم کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو میں زیادہ کردار ایسے پولیس اہلکاروں کا ہوتا ہے جن کا اس تفتیشی افسر سے کوئی دشمنی ہوتی ہے۔
اس پابندی کے حوالے سے آئی جی پنجاب عارف نواز نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ اقدام محمکہ پولیس کی کارکردگی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔’عموماً یہ دیکھنے میں آ رہا تھا کہ دوران ڈیوٹی پولیس اہلکار فون کے استعمال میں مصروف نظر آتے تھے جس کے باعث وہ اپنی ڈیوٹی صحیح طریقے سے سرانجام نہیں دے پا رہے تھے۔‘
آئی جی پنجاب نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ پولیس کے عملے سمیت عام شہریوں کو بھی تھانے میں داخل ہوتے ہوئے فون لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی اور تھانے میں داخلے سے پہلے پولیس عملے اور سائلین کو اپنے فون گیٹ پر جمع کرانا ہوں۔