آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کلبھوشن جادھو: پاکستان کی جانب سے جمعے کو کلبھوشن سے ملاقات کی پیشکش
پاکستان نے فوجی عدالت سے سزائے موت پانے والے مبینہ انڈین جاسوس تک قونصلر کی رسائی دینے کے لیے انڈیا کو پیشکش کر دی ہے۔
پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق انڈین حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ جمعے کو کلبھوشن جادھو سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ کے دوران دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’ہم نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں انڈیا کو کلبھوشن جادھو تک رسائی کی باضابطہ پیشکش کر دی ہے۔‘
انڈیا کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی اس پیشکش کا جائزہ لے رہا ہے۔
مزید پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے نامہ نگاروں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان نے پیشکش کی ہے۔ ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں اس پیشکش کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ہم جو بھی جواب دیں گے وہ سفارتی چینل کے توسط سے دیں گے ۔‘
17 جولائی کو عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظر ثانی کرے اور قونصلر رسائی دے۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن جادھو کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔
پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے اپریل 2017 میں کلبھوشن جادھو کو جاسوسی، تخریب کاری اور دہشت گردی کے الزامات میں موت کی سزا سنائی تھی۔
اس فیصلے کے خلاف انڈیا نے مئی 2017 میں عالمی عدالت انصاف کا دورازہ کھٹکھٹایا تھا اور استدعا کی تھی کہ کلبھوشن کی سزا معطل کرکے ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔
عالمی عدالت نے انڈیا کی یہ اپیل مسترد کر دی تھی تاہم پاکستان کو حکم دیا تھا کہ وہ ملزم کو قونصلر تک رسائی دے اور ان کی سزایے موت پر نظرِ ثانی کرے۔
کلبھوشن جادھو کے بارے میں پاکستان کا دعوی ہے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس آفسر ہیں جنھیں سنہ 2016 میں پاکستان کے صوبے بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔
پاکستان ایک عرصے سے بلوچستان میں بلوچ علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی کرنے کا الزام انڈیا پر عائد کرتا رہا ہے۔