امریکہ کا ایف 16 طیاروں کے لیے پاکستان کی تکنیکی مدد کا اعلان

جمعے کو امریکی محکمہ خارجہ نے پاکستان کو ایف 16 جنگی جہازوں کی دیکھ بھال کے لیے 12 کروڑ 50 لاکھ ڈالر دینے کی منظوری کا اعلان کیا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے سلامتی تعاون کے ادارے ’سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی‘ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے امریکہ سے تکنیکی تعاون جاری رکھنے کی درخواست کی تھی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’یہ مجوزہ فروخت امریکی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کو سپورٹ فراہم کرے گی کیونکہ اس سے امریکی عملہ مسلسل 24 گھنٹے امریکی ٹیکنالوجی کی نگرانی کر سکے گا۔‘

یہ بھی پڑھیے

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ مجوزہ فروخت خطے میں بنیادی عسکری توازن کو نہیں بدلے گی۔

ایک الگ بیان میں سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی نے انڈیا کو 67 کروڑ کی عسکری فروخت کی منظوری کا اعلان بھی کیا ہے۔

امریکہ کی طرف سے یہ اعلان پاکستانی وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ کے کچھ دنوں بعد ہی آیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی انتظامیہ نے 90 کروڑ ڈالر کی سکیورٹی معاونت معطل کر دی تھی۔ امریکہ نے اس کی وجہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف پاکستان کی غیر تسلی بخش کارروائی کو قرار دیا تھا۔

سنہ 2016 میں اوباما انتظامیہ اور پاکستان کے درمیان آٹھ ایف 16 طیاروں کی خریداری کے معاہدے کی بات چیت شروع ہوئی تھی جس پر انڈیا نے امریکی حکومت سے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

بعد میں فروخت کا یہ معاملہ جب امریکی کانگریس تک پہنچا تو امریکی حکومت کو اس کے خلاف شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

امریکی کانگریس نے ایف 16 طیاروں کی فروخت پر تو رضامندی ظاہر کی تھی لیکن مالی امداد منظور نہیں ہو سکی تھی جس کے بعد یہ ڈیل رک گئی تھی۔