شاہد خاقان عباسی کو بھی قومی احتساب بیورو نے گرفتار کر لیا

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شاہد خاقان عباسی کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی جماعت کے صدر شہباز شریف کی پریس کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعرات کو لاہور جا رہے تھے اور انھیں موٹر وے کے قریب سے حراست میں لیا گیا۔

نیب نے سابق وزیراعظم کو ایل این جی کی درآمد کے معاملے میں تحقیقات کے لیے نیب راولپنڈی نے جمعرات کو طلب بھی کیا ہوا تھا اور گرفتاری کے بعد انھیں اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے بطور وزیرِ پیٹرولیم ایک ایل این جی ٹرمینل کا ٹھیکہ مبینہ طور پر من پسند کمپنی کو دیا۔ نیب کا کہنا ہے کہ من پسند کمپنی کو ایل این جی ٹرمینل کا 15 برس کے لیے ٹھیکہ دینے سے قومی خزانے کو مبینہ طور پر اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔

شاہد خاقان عباسی کا موقف یہ رہا ہے کہ اُس وقت ملک میں جاری تونائی کے بحران کو حل کرنے کے لیے یہ ٹھیکہ دینا ضروری تھا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

خیال رہے کہ مسلم لیگ نواز کے دور میں پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے قطر سے ایل این جی گیس برآمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس منصوبے کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مخالفت کی تھی اور بعد میں اس میں بدعنوانی کے الزامات بھی عائد کیے گئے تھے۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی جب اگست 2017 میں قومی اسمبلی سے وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو اس وقت اپنے خطاب کے دوران جب وہ سابق وزیر اعظم کے ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے ایل این جی پر بات کرنے لگے تو ایوان میں کہیں سے ان کے خلاف ایل این جی کے معاہدے میں بے ضابطگیوں کے بارے میں قومی احتساب بیورو میں ایک انکوائری کا حوالہ دیا گیا تھا

اس پر انھوں نے ہنستے ہوئے کہا: 'بیٹا اس پر بات کرنے کے لیے میں ہر وقت حاضر ہوں۔'

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی قیادت کے اہم ترین رہنما اس وقت جیل میں ہیں جن میں سابق وزیر اعظم نواز شریف، خواجہ سعد رفیق، سلمان رفیق، حمزہ شہباز اور رانا ثنا اللہ شامل ہیں۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جماعت کے صدر شہباز شریف کو بھی جیل بھیجا گیا تھا لیکن وہ ضمانت پر باہر ہیں۔

شہباز شریف نے شاہد خاقان کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ عمران نیازی کے ہاتھ میں آلہ کار بنا ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نیب کے ادارے کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جا سکتے۔‘

'واٹس ایپ حکمنامے پر گرفتاری'

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر احسن اقبال نے سابق وزیرِ اعظم کی گرفتاری کے بعد لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کہ 'نیب حکام جب شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کرنے کے لیے آئے تو انھوں نے فون کے ذریعے واٹس ایپ پر گرفتاری کا حکم نامہ دکھانے کی کوشش کی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ جب موقع پر موجود رہنماؤں نے حکام سے اصلی وارنٹ دکھانے کا مطالبہ کیا تو کچھ دیر کے بعد وہ ایک 'غیر تصدیق شدہ فوٹوکاپی' لے کر آ گئے جسے دکھا کر شاہد خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 72 سال میں ایسی کوئی حکومت نہیں آئی جسے ہر قومی ادارے کی اس قدر حمایت حاصل ہو جتنی کہ موجودہ حکومت کو حاصل ہے مگر اس کے باوجود حکومت کارکردگی دکھانے میں ناکام ہے اور 'اس کی سزا مسلم لیگ (ن) کو دی جا رہی ہے۔'

احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) سے وابستہ وہ تمام وزرا اور سابق وزرائے اعظم جنھوں نے 'پاکستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کیا' انھیں اب نیب کی پیشیوں کا سامنا ہے۔

ماضی میں بھی تحقیقات ہوئیں؟

مقامی میڈیا کے مطابق مسلم لیگ نون کے دور میں بھی نیب نے اس معاملے کی تحقیقات کی تھیں تاہم کراچی میں نیب کے ریجنل بورڈ نے یہ کہہ کر تحقیقات بند کر دی تھیں کہ چونکہ یہ ایک جاری پروجیکٹ ہے، اور نیب کی کسی قسم کی مداخلت سے عوام کو ایل این جی کی ترسیل میں خلل پیدا ہوگا، اسی لیے یہ تحقیقات قومی مفاد پر روک دی گئیں۔ تاہم اس وقت بھی نیب یہی رائے رکھتی تھی کہ ٹھیکہ غیر شفاف انداز میں دیا گیا۔

پاکستان تحریکِ انصاف نے اس وقت بھی نیب کی تحقیقات روکے جانے پر احتجاج کیا تھا۔ اس مرتبہ اس کیس کی تحقیقات چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کی نگرانی میں کی جا رہی ہیں۔

اس کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف پر بھی اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کا الزام ہے کیونکہ اس ٹھیکے کو ایوارڈ کرنے والے بورڈ میں وہ بھی شامل تھے۔

نیب نے خاقان عباسی پر کیا الزامات لگائے ہیں؟

نیب کی جانب سے مندرجہ ذیل بنیادوں پر خاقان عباسی کو گرفتار کیا گیا ہے:

اس ٹھیکے کے بولی لگانے کے عمل کے لیے بطور بین الاقوامی کنسلٹنٹ کیو ای ڈی کنسلٹنگ کی خدمات حاصل کی گئیں جس کو یہ کام دینے کا عمل کسی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے حکومتی قوانین کے خلاف تھا اور اس حوالے سے خاقان عباسی نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

اس کے علاوہ نیب کا الزام ہے کہ خاقان عباسی نے اپنی مرضی کی کمپنی مےورک ایڈوازری کو بغیر کسی کمپیٹیشن کے کیو ای ڈی کنسلٹنگ کے ساتھ منسلک کیا تاکہ وہ ٹھیکے کی ضروریات کا تعین کر سکے۔

2006 میں وضع کی گئی قومی تونائی پالیسی کے برعکس ایل این جی کو خریدنے کا ذمہ دار انٹر سٹیٹ گیس سسٹمز کو بنایا گیا حالانکہ پالیسی کے تحت سوئی سودرن گیس کمپنی لمیٹڈ اس کی مجاز تھی۔

اس کے علاوہ ایل این جی ٹرمینل کی اضافی کپیسٹی کے چارجز کی تعداد کا کوئی جواز یا بریک ڈاؤن نہیں دیا گیا کیونکہ ایم ایس ای ای ٹی پی ایل اس ٹھیکے کی واحد بولی دینے والی کمپنی تھی۔

اس کے علاوہ اپنے اثر و رسوخ کا غلط استعمال کرتے ہوئے خاقان عباسی نے سوئی سودرن گیس کمپنی لمیٹڈ کی نئے ایل این جی ٹرمینل کے حوالے سے کوششوں کو روکا اور ایم ایس ای ای ٹی پی ایل کے سابق سی ای او عمران الحق کو ایم ڈی پی ایس او لگا دیا۔

اس وقت پاکستان میں دو ایل این جی ٹرمینل کام کر رہے ہیں۔ ایل این جی کیس کے علاوہ، نیب خاقان عباسی کے خلاف نعیم الدین خان کو بینک آف پنجاب کا صدر مقرر کرنے کے حوالے سے بھی تحقیقات کر رہی ہے۔