آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم کے ٹیسٹ میچوں کے لیے پاکستان نہ آنے کے فیصلے پر پاکستانی بورڈ خاموش، شائقین ناراض
بنگلہ دیشی حکومت کی جانب سے خطے میں کشیدگی کے بعد بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان نہ بھیجنے کے فیصلے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان میں کہا ہے کہ چئیرمین احسان مانی رواں ہفتے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر ناظم الحسن سے دبئی میں ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ اتوار کو بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ کشیدگی کے باعث اپنی ٹیم کو ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستان بھیجنے سے انکار کر دیا ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کے صدر ناظم الحسن نے گذشتہ روز ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ بورڈ کو حکومت کی طرف سے صرف پاکستان کے مختصر دورے پر جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ناظم الحسن کا کہنا تھا ’بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس وقت پاکستان میں صرف ٹی ٹونٹی سیریز کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب پی سی بی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے مطابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی رواں ہفتے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے صدر ناظم الحسن سے دبئی میں ملاقات کریں گے۔
دونوں بورڈز کے سربراہان کے درمیان یہ ملاقات آئی سی سی گورننس رویو کمیٹی کے اجلاس سے باہر ہو گی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ اس ملاقات کے بعد بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان سے متعلق مزید تصیلات سے آگاہ کرے گا۔
یاد رہے گذشتہ ہفتے ڈھاکہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے بات کرتے ہوئے ویسٹ انڈین اوپنر کرس گیل نے پاکستان کو کرکٹ کھیلنے کے اعتبار سے ’محفوظ ترین ممالک میں سے ایک‘ قرار دیا تھا۔
کرس گیل کا کہنا تھا ’اگر پاکستان کہتا ہے کہ آپ کو وہی سکیورٹی فراہم کی جائے گی جو سربراہان مملکت کو فراہم کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اچھے ہاتھوں میں ہیں جیسا کہ اس وقت ہم بنگلہ دیش میں بھی محفوظ ہاتھوں میں ہیں۔‘
پاکستان کرکٹ شائقین کو پاکستان میں اس سیریز کے انعقاد سے خاصی امیدیں وابستہ تھیں۔ بنگلہ دیش حکومت کے ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کے کے فیصلے سے سوشل میڈیا صارفین خوش نظر نہیں آرہے۔
راحیل خان بنگلہ دیشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہتے ہیں ’کم از کم اب ہم آپ کی فول پروف سیکیورٹی اور وی آئی پی پروٹوکول پر خرچ ہونے والے ہزاروں ڈالر بچا سکیں گے۔‘
کئی صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال کے باعث بنگلہ دیش پاکستان آکر نہیں کھیلنا چاہتا لیکن متحدہ عرب امارات میں کھیلنے کو راضی ہے ’کوئی ان کو دنیا کا نقشہ تو دکھائے۔‘
اس وقت جب پاکستان نے بنگلہ دیش کو ٹیسٹ نیشن بننے میں اہم کردار ادا کیا تھا، اس وقت کو یاد کرتے ہوئے محمد سلیم خان مینگل کہتے ہیں کہ اب پاکستان کرکٹ بورڈ کو بنگلہ دیش میں کرکٹ کھیلنے سے انکار کر دینا چاہیے تاکہ انھیں بھی پاکستان اور پاکستان کرکٹ بورڈ کی طاقت کا اندازہ ہو۔
بابر شہزاد نامی صارف کا کہنا ہے ’اب ہمارے کھلاڑی جو ان کی ٹی ٹونٹی لیگ میں شامل ہیں، اگر ان میں کوئی شرم ہے تو فورا یہ لیگ چھوڑ کر وطن واپس آئیں۔‘
کچھ لوگ تو اس صورتِ حال سے لطف اندوز ہوتے یہ بھی کہتے نظر آئے کہ ’بنگلہ دیشی ٹیم پاکستان آکر نہیں کھیل سکتی کیونکہ امی نے دیر تک گھر سے باہر رہنے سے منع کیا ہے۔‘
بات یہاں تک آ گئی کہ کچھ صارفین وزیرِ اعظم عمران خان سے درخواست کر رہے ہیں کہ ’اگر بنگلہ دیش جیسی ٹیم پاکستان میں کھیلنے سے انکار کرتی ھے تو کرکٹ بورڈ کو حکم دیں کہ انڈیا بنگلہ دیش کے ساتھ کسی بھی مقام پر نہ کھیلا جائے اگر کرکٹ بورڈ کو پیسوں کی ضرورت ھے تو ہم پاکستانی چندہ کر کے ان کو دے دیں گے۔‘
جبکہ محمد اویس نامی کا ماننا ہے کہ بنگلہ دیش ٹیم کے دورہ پاکستان سے انکار کے بعد اب پی سی بی کو بنگلہ دیش کے خلاف بھی ٹی ٹوئنٹی سیریز منسوخ کرنی چاہئے اور ویسٹ انڈیز سے آنے کی درخواست کریں۔ کیونکہ کوئی شک نہیں کہ ٹی 20 فارمیٹ میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہت اچھی ہے۔