پشاور: اے این پی کے رہنما قاتلانہ حملے میں ہلاک

صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سنیچر کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے ایک رہنما کو ہلاک کر دیا۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق ابتدائی طور پر یہ معلوم ہوا ہے کہ اے این پی پشاور سٹی کے صدر سرتاج خان کو گلبہار پولیس اسٹیشن کی حدود میں تھانے کے قریب نشانہ بنایا گیا جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔

خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایت کی ہے کہ قاتلوں کو جلد سے جلد گرفتار کیا جائے۔

دوسری جانب اے این پی کے رہنما اور بونیر سے پارٹی کے رکنِ صوبائی اسمبلی سردار حسین بابک نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کی جماعت کے رہنماؤں اور کارکنوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت جلد ہی اس حوالے سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

عوامی نیشنل پارٹی پر حملوں کی تاریخ

اے این پی کے ارکان اور رہنماؤں پر ماضی میں بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔

گزذشتہ سال ستمبر میں اے این پی کے رہنما ابرار خلیل اور ان کے بھتیجے ارشد پشاور میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی طرح گذشتہ سال 25 جولائی کے عام انتخابات سے چند دن قبل پشاور میں ہی پارٹی کے ایک انتخابی جلسے پر خودکش حملے میں صوبائی امیدوار ہارون بلور سمیت 20 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ان کے والد اور پارٹی کے سینئر رہنما بشیر بلور بھی دسمبر 2012 میں پارٹی کے ایک جلسے پر خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

جولائی 2010 میں اے این پی سے تعلق رکھنے والے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سابق وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین کے بیٹے میاں راشد حسین کو ایک قاتلانہ حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔