آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
ساہیوال: ایئر کنڈیشنر خراب ہونے سے ہسپتال میں آٹھ نومولود بچے ہلاک
صوبہ پنجاب میں ضلع ساہیوال کے ڈسڑکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال نے سرکاری طور پر تصدیق کی ہے کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب چند گھنٹوں کے اندر آٹھ نومولود بچے ہلاک ہوئے ہیں۔
کم از کم تین نومولود بچے اس وقت موت کے منہ میں چلے گئے جب انتہائی حساس نرسری وارڈ کا ایئر کنڈیشنر خراب ہوا۔ تاہم عینی شاہدین کے مطابق کچھ والدین کا دعویٰ تھا کہ یہ تعداد تین سے زیادہ ہے۔
ساہیوال ڈسڑکٹ ہسپتال میں پیش آنے والے واقعے کے دو عینی شاہدین عبدالجباراور محمد مسعود سے بی بی سی نے بات کی۔
عبدالجبار کا کہنا تھا کہ ان کا ایک ماہ کا بچہ جبکہ محمد مسعود کا بیس دن کا بچہ ہسپتال میں گذشتہ چند روز سے زیرِ علاج ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی موجودگی میں بچوں کے وارڈ کا ایئر کنڈیشنگ سسٹم کئی مرتبہ خراب ہوتا رہتا تھا، مگر ہفتے کی شام صورتحال اس وقت انتہائی گمبھیر ہو گئی جب ایئر کنڈیشنر کئی گھنٹوں کے لیے خراب ہو گیا اور نومولود بچوں کی اموات واقع ہونا شروع ہو گئیں۔
یہ بھے پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
عبدالجبار نے بتایا: ’ہم نے شور شرابہ کیا مگر ہسپتال انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی بلکہ کہا کہ یہ ایئرکنڈیشن تو ایک ماہ سے خراب ہے، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔‘
محمد مسعود کے مطابق ہلاک ہونے والے بچوں کے والدین میتیں لے کر آبائی علاقوں میں چلے گئے، جس کے بعد ہم لوگوں نے سڑک پر نکل کر احتجاج کیا۔ ’ڈپٹی کمشنر ساہیوال موقع پر پہنچے اور انھوں نے ایئر کنڈیشن کو تبدیل کروایا جس کے بعد صورتحال بہتر ہوئی۔‘
ایڈیشنل سیکریٹری ہیلتھ رفاقت علی نے میڈیا کو بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب بچوں کے وارڈ میں آٹھ اموات ہوئی ہیں، ان میں سے پانچ اموات اس وقت ہوئیں جب ایئر کنڈیشنر ٹھیک تھا جبکہ تین نومولود بچے اس وقت ہلاک ہوئے جب ایئر کنڈیشنر خراب تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ اعلیٰ سطح پر تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے اور تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد عفلت کے مرتکب اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گئی۔
قبل ازیں ڈپٹی کمشنر ساہیوال نے سیکرٹری پنجاب کو ایک رپورٹ ارسال کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ دو مئی کی رات کال موصول ہوئی جس میں کہا گیا کہ بچوں کے وارڈ میں ایئر کنڈیشنر کام نہ کرنے کی وجہ سے نومولود بچے مر رہے ہیں۔
وارڈ کے انچارج ڈاکٹر شعیب نے بتایا کہ اب تک تین بچے ہلاک ہو چکے ہیں تاہم انھوں نے بچوں کے جاں بحق ہونے کی وجہ دوسری وجوہات بیان کیں۔ تین اموات رپورٹ ہوئی ہیں مگر ممکنہ طور پر مزید اموات بھی ہو سکتی ہیں جو کہ رپورٹ نہیں ہوئیں۔
ڈپٹی کمشنر کی رپورٹ کے مطابق وارڈ میں غیر معمولی درجہ حرارت محسوس کر کے فی الفور ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر سے ایئر کنڈیشنر کو وارڈ میں منتقل کروایا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پتا چلا ہے کہ وارڈ کا ایئر کنڈیشنر گزشتہ کچھ عرصے سے کام نہیں کررہا تھا۔
رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ انجینئیر لقمان تابش کے خلاف ان کی نااہلی کے سبب کارروائی کی جائے اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف انکوائری ہو تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
واقعے پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی اپنے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے تمام تر قانونی کاروائی کا یقین دلایا ہے۔