آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
سوشل میڈیا: ’مجھے اپنی بچ جانے کی کہانیاں بتائیں‘
- مصنف, عابد حسین
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر گذشتہ کچھ روز سے لوگ اپنی زندگی کے تلخ تجربات کے بارے میں لکھ رہے ہیں کہ کس طرح انھیں زندگی میں مشکل مراحل سے گزرنا پڑا اور کیسے انھوں نے اس کا سامنا کیا۔
اس کی وجہ لاہور سے تعلق رکھنے والی کنزا کی وہ ایک ٹویٹ بنی جس میں انھوں نے صرف یہ لکھا تھا: 'Tell me your survival stories' یعنی ’'مجھے اپنی بچ جانے کی کہانیاں سنائیں۔'
اپریل کی آٹھ تاریخ کو کی جانے والی اس ٹویٹ کو اب تک دو سو سے زیادہ لوگ ری ٹویٹ کرچکے ہیں جبکہ آٹھ سو کے قریب لوگوں نے اس ٹویٹ کو لائک کیا ہے۔
لیکن جو بات زیادہ حیران کن تھی وہ یہ کہ پانچ سو سے زیادہ افراد جنھوں نے اس ٹویٹ کے جواب میں اپنی دلخراش کہانیاں کھل کر بیان کیں جس میں زندگی میں بیتنے والی دشواریوں اور مشکلات کا ذکر کیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی نے جب کنزا سے سوال کیا کہ اس ٹویٹ کرنے کی وجہ کیا تھی، تو انھوں نے بتایا کہ وہ ان دنوں مسلسل مشکلات سے گزر رہی تھیں اور ناکامیوں کا سامنا کر رہی تھیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی صحت بھی متاثر ہوئی تھی۔
'میری ٹویٹ کرنے کی صرف یہ وجہ تھی کہ شاید لوگ مجھے مثبت خیالات والے جوابات دیں جس سے میں بھی متاثر ہو کر اپنے ساتھ گزرنے والی مشکلات کا سامنا کر سکوں۔'
کنزا کی ٹویٹ میں جواب دینے والوں میں ڈان اخبار کے سابق مدیر عباس ناصر بھی شامل ہیں جنھوں نے بتایا کہ کس طرح تین سال کی عمر میں انھیں پولیو کا مرض ہو گیا اور اس کے بعد کم عمری میں والدین کے انتقال کے باوجود انھوں نے گھر والوں اور دوستوں کی مدد سے زندگی کاسلسلسہ جاری رکھتے ہوئے صحافت میں قدم رکھا اور بڑھتے بڑھتے عالمی صحافتی ادارے میں فائز ہوئے اور بالآخر اسی اخبار میں مدیر کی حیثیت سے فرائض نبھائے جہاں سے انھوں نے صحافت شروع کی تھی۔
اسی طرح کی ایک اور کہانی سابق ممبر صوبائی اسمبلی خیبر پختون خوا بابر علی خان نے لکھی کہ انھیں 2010 میں شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا اور انھیں 11 دن کےبعد رہائی ملی۔ اس کے بعد سنہ 2013 اور 2016 کے درمیان انھیں تین مرتبہ بم، راکٹ اور گولیوں کا نشانہ بنایا گیا لیکن وہ ہر دفعہ بچ نکلے۔
ایک اور قصہ لکھنے والی صارف 'ایچ جعفری' نے بتایا کہ وہ کراچی میں نارتھ ناظم آباد کے علاقے سے تعلق رکھتی ہیں جہاں حالات کی خرابی کے بعد وہ اپنی والدہ اور دیگر چار بہن بھائیوں کے ہمراہ کے ساتھ کینیڈا منتقل ہوگئی لیکن ان کے والد کراچی میں ہی رہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ 17 سال کی عمر سے انھوں نے اپنی پڑھائی کی ذمہ داری خود اٹھائی اور اب ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئیں۔
جعفری لکھتی ہیں کہ زندگی میں انھیں انتہائی مشکل تجربات کا سامنا کرنا پڑا ہے جنھیں وہ عوامی طور پر نہیں بتا سکیں گی لیکن انھوں نے گذشہ سال شدید ڈیپریشن کا سامنا کیا مگر اب اس سے باہر ہیں۔
کنزا سے جب بی بی سی نے یہ سوال کیا کہ ٹویٹ پر ملنے والے رد عمل پر ان کا کیا تاثر ہے تو انھوں نے کہا کہ وہ خود اپنی ذاتی زندگی میں کئی مشکلات کا سامناکر رہی تھیں بالخصوص پڑھائی کے حوالے سے ملنے والی ناکامیوں پر لیکن انھیں اندازہ نہیں تھا کہ یہ ٹویٹ اتنی مقبول ہو جائے گی اور اتنے لوگ ان سے رابطہ کریں گے۔
'مجھے جو جوابات ملے ہیں، میں تصور بھی نہیں کر سکتی لوگ کس قدر مشکلات کا سامنا کر کے بھی کامیاب ہیں۔ یہ بہت ہی متاثرکن ہے۔ لوگوں نے زندگی میں اتنے کٹھن مراحل کا سامنا کیا ہے لیکن وہ پھر بھی اپنی راہ پر چلتے رہے اور امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان جوابات سے مجھ میں بھی بہت ہمت پیدا ہوئی ہے تاکہ میں اپنی مشکلات کا سامنا کر سکوں۔'
کنزا کہتی ہیں کہ ان جوابات سے مجھے یہ اندازا ہوا کہ لوگ کتنی مشکل زندگی بسر کرتے ہیں اور ہمیں اپنی خوش قسمتی کا شکر گزار ہونا چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ لوگوں سے ہمدردی سے پیش آئیں کیونکہ ہمیں نہیں علم کہ وہ کس دشواری کاسامنا کر رہے ہیں۔