’انڈیا رواں ماہ پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کر سکتا ہے‘: پاکستانی وزیرِخارجہ

پاکستانی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے دعوی کیا ہے کہ پاکستان کے پاس 'مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات' ہیں کہ انڈیا رواں ماہ کے تیسرے ہفتے کے دوران پاکستان کے خلاف 'عسکری کارروائی' کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

پنجاب کے شہر ملتان میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اس کارروائی سے قبل انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں پلوامہ حملے جیسا واقعہ رونما ہو سکتا ہے جس کو بنیاد بنا کر پاکستان کے خلاف نہ صرف سفارتی دباؤ بڑھایا جائے گا بلکہ عسکری کارروائی کو جواز بھی فراہم کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے انڈین حکومت کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 'انڈیا اِس غیر ذمہ دارانہ اور احمقانہ بیان کو مسترد کرتا ہے۔'

انھوں نے پاکستانی وزیرِخارجہ کے بیان کو واضح طور پر خطے میں جنگی جنون کو بڑھانے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہتھکنڈے بظاہر پاکستان میں پائے جانے والے دہشت گردوں کو انڈیا میں دہشت گرد حملہ کرنے پر اکسانا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان پر یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ وہ انڈیا میں ہونے والے سرحد پار حملوں کی ذمہ داری سے مبرا نہیں ہو سکتا۔ اور اس پیچیدہ معاملے میں کسی عذر سے کامیاب نہیں ہو سکتا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو جنگی جنون کو ہوا دینے کے بیانات کے بجائے سرحد پار دہشت گردی جیسے اہم مسئلے کے لیے اپنے زیر انتظام تمام علاقوں سے دہشت گرد عناصر کو ختم کرنے کے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

انھوں نے پاکستان کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کے حملے سے متعلق قابل عمل اور قابل اعتماد انٹیلی جنس کے اشتراک کے لیے قائم سفارتی اور ڈی جی ایم او چینلز کا استعمال کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'انڈیا سرحد پار کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اس مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد پاکستان نے یہ فیصلہ کیا کہ نہ صرف بین الاقوامی برادری بلکہ پاکستانی عوام کو بھی اس بارے میں آگاہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'عسکری کارروائی‘ 16 سے 20 اپریل کے دوران کی جا سکتی ہے۔'

'ان مصدقہ اطلات کو سامنے رکھتے ہوئے دفتر خارجہ نے دو روز قبل سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ممبران کے سفارت کاروں کو مدعو کیا اور انھیں اپنی تشویش سے آگاہ کیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ بین الاقوامی کمیونٹی اس کا نوٹس لے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ 26 فروری کو پاکستان کے خلاف انڈین جارحیت پر دنیا خاموش رہی۔ 'تمام ذمہ دار ممالک یہ جانتے ہوئے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی خاموش رہے اور اس کی وجہ جیو پالیٹکس ہے۔ خطے کے استحکام کے لیے ان کو کردار ادا کرنا چاہیے۔'

شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کل بھی امن کے قائل تھا اور آج بھی ہے تاہم کسی قسم کی جارحیت کا جواب دینے کا حق بین الاقوامی قوانین کے تحت محفوظ رکھتے ہیں۔

'پاکستان سمجھتا ہے کہ دو ایٹمی قوتوں کے مابین بات چیت ہی مسائل کا حل ہے۔'

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ دنوں انڈین میڈیا میں وہاں ہونے والی کابینہ کی کمیٹی برائے سکیورٹی کے اجلاس کی کارروائی رپورٹ کی گئی۔ اس اجلاس کی صدارت وزیر اعظم نریندر مودی نے کی اور وہاں موجود تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے پاکستان کے خلاف عسکری کارروائی کی اجازت طلب کی جس پر مودی کو یہ کہتے ہوئے بتایا گیا کہ 'آپ کو پہلے ہی اجازت دے رکھی ہے۔'

وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ 'میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں ہیں۔'

میڈیا کی ان رپورٹس پر انڈین حکام نے کوئی تردید جاری نہیں کی اور یہ قابل تشویش بات ہے جو 'ایسکلیشن' کو نئے لیول پر لے جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انڈین میڈیا کے مطابق مسلح افواج کے سربراہان نے نریندر مودی کو بتایا کہ انھوں نے ٹارگٹ سلیکٹ کر رکھے ہیں جو ملٹری نوعیت کے ہیں اور یہ کشمیر کے علاوہ بھی ہو سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملے کے بعد سے انڈیا کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جس میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس جارحیت کے باوجود پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ اس ماہ 360 بھارتی ماہی گیر قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ 'دنیا دیکھ رہی ہے پاکستان کا رویہ کیا ہے اور انڈیا کا کیا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ انھوں نے ان حقائق کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ وزیر اعظم سے مشاورت کے بعد کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے سیاسی مقاصد کے لیے پورے خطے کے امن اور استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔