انڈین پریمئیر لیگ کے میچز پاکستان میں نہیں دکھائے جائیں گے، کابینہ کا فیصلہ

آئی پی ایل

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان کی وفاقی کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ ملک میں انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل کے میچز نہیں دکھائے جائیں گے۔

اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ یہ پابندی دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران انڈیا کے پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں کے ساتھ 'روا رکھے گئے رویے' اور پاکستانی کرکٹ کو دانستہ نقصان پہنچانے کی کوشش کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔

بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی حکومت سمجھتی ہے کہ سیاسی تنازعات کو کھیلوں اور ثقافت میں نہیں آنا چاہیے۔ ’تاہم ہم نے دیکھا ہے کہ انڈیا کی جانب سے پاکستانی شہریوں، اداکاروں، فنکاروں اور کرکٹرز کی جانب کیسا رویہ رکھا گیا۔‘

واضح رہے کہ کابینہ سے یہ میچز دکھانے پر پابندی عائد کرنے کی درخواست خود وزارت اطلاعات نے کی تھی۔

انڈین پریمئیر لیگ انڈیا کی مقامی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جس کا اس سال 11واں ایڈیشن 23 مارچ کو شروع ہوا تھا۔ آئی پی ایل دنیا کی سب سے بڑی اور مہنگی ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے لیکن 2008 میں پہلے ایڈیشن کے بعد سے آج تک کسی پاکستانی کھلاڑی نے اس میں شرکت نہیں کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہEPA

وفاقی وزیر نے کہا کہ ’انڈین کرکٹ ٹیم نے آسٹریلیا کے خلاف میچ فوجی ٹوپی پہن کر کھیلا، جبکہ انڈین ٹی وی نے ٹورنامنٹ کے درمیان پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کی نشریات دکھانے سے انکار کیا تاکہ ہماری لیگ کو نقصان پہنچے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا کی جانب سے پاکستان میں 'کرکٹ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش کے بعد انڈیا کے ڈومیسٹک (مقامی) کرکٹ کی نشریات دکھانے کی ضرورت نہیں رہی'۔

اسی پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر نے کابینہ کے آج کے اجلاس کے ایجنڈے کے دیگر معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کابینہ اجلاس میں 57 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ فاٹا کو منتقل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔

جہانگیر ترین اور شاہ محمودقریشی

،تصویر کا ذریعہAFP/JEHANGIRTAREEN.COM

جہانگیر ترین اور شاہ محمودقریشی کے درمیان رنجش

ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کے معاملے پر 'وزیراعظم عمران خان نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے' اور کہاہے کہ پارٹی کے 'اندرونی معاملات باہر زیر بحث نہیں آنے چاہیے'۔

انہوں نے کہا کہ 'آپس میں جو بھی ہوگا لیکن حتمی فیصلےکا حق وزیراعظم کا ہوگا۔ پارٹی امور کا فیصلہ صرف عمران خان کے پاس ہے'۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

خیال رہے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے ان دونوں رہنماؤں کے درمیان رنجش اُس وقت کُھل کر سامنے آئی تھی جب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لاہور میں کہا تھا کہ جہانگیر ترین سرکاری اجلاسوں میں شریک ہوکر مخالفین کو بیان بازی کا موقع دے رہے ہیں اور مسلم لیگ نون اسے توہین عدالت کے زمرے میں دیکھتی ہے۔

جبکہ مقامی میڈیا کے مطابق جہانگیر ترین نے کہا ہے کہ 'وہ جہاں بھی جاتے ہیں عمران خان کے مرضی سے جاتے ہیں اور یہ کہ انہیں ملک کی خدمت سے کوئی نہیں روک سکتا'۔

اسی معاملے پر مزید بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ 'جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی دونوں ہی پارٹی کے لیے محترم ہیں، اپنی اپنی رائے دینے میں کوئی حرج نہیں'۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرامکے نام کا تنازع

وزیر اطلاعات نے ان خبروں کی بھی تردید کی کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا نام تبدیل کیاجا رہاہے۔

انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا نام نہیں تبدیل کیا جائے گا، بلکہ 'سماجی بہبود اور انسداد غربت کے لیے نیا پروگرام شروع کررہے ہیں۔ جس کے لیے وزیر اعظم نے سماجی تحفظ برائے انسداد غربت سے متعلق ڈویژن قائم کیا ہے'۔

خیال رہے کہ 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے غریبوں کی مالی امداد کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا، جسے 2013 میں پاکستان مسلم لیگ نون نے بھی جاری رکھا تھا۔