غداری کیس: سپریم کورٹ کا خصوصی عدالت کو آئین شکنی کے مقدمے کا فیصلہ کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں حکم دیا ہے کہ اگر ملزم اگلے ماہ کی دو تاریخ کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تو متعقلہ عدالت استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد اس مقدمے سے متعلق میرٹ پر فیصلہ دے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے پیش نہ ہونے پر ان کا دفاع کا حق ختم ہو جائے گا اور ملزم کو قانون کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کی سہولت بھی ختم ہو گی۔
سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ جو ملزم جان بوجھ کر عدالت میں پیش نہ ہو تو اس کے تمام قانونی حقوق معطل ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں درج کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سوموار کے روز سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کا فیصلہ نہ ہونے سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر پرویز مشرف متعقلہ عدالت کی طرف سے دی گئی تاریخ پر پیش ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہیں تو اُنھیں تمام قانونی حقوق حاصل ہوں گے۔
واضح رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں خصوصی عدالت نے ملزم کو دو مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کر رکھا ہے۔
واضح رہے کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ ملزم پرویز مشرف ویڈیو لنک یا سکائپ کے ذریعے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ سابق فوجی صدر کے وکیل نے اپنے موکل سے بات کرنے کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کی آپشن کو مسترد کر دیا تھا۔
سپریم کورٹ میں ان درخواستوں کی سماعت کے دوران خصوصی عدالت کا 28 مارچ کا حکم نامہ بھی پیش کیا گیا۔
بینچ کے سربراہ نے ملزم پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر سے استفسار کیا کہ کیا ان کے موکل نے پیش ہونے کی یقین دہانی کرائی ہے جس پر انھوں نے عدالت کو بتایا کہ پرویز مشرف خود واپس آ کر بیان ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
چیف جسٹس نے ملزم کے وکیل سے ایک مرتبہ پھر استفسار کیا کہ اگر وہ یقین دہانی کے باوجود واپس نہ آئے تو کیا ہو گا؟ کیونکہ یقین دہانی کروا کے واپس نہ آنے پر کچھ تو ہونا چاہیے۔ اس پر سابق فوجی صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ وہ اس حوالے سے بذات خود کوئی گارنٹی نہیں دے سکتے کے مشرف واپس آئیں گے۔
’بطور وکیل مجھے ہدایات ہیں کہ مشرف خود پیش ہوں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ ان کے موکل علاج کی غرض سے بیرون ملک ہیں اور ان کے خاندان کے افراد نے 13 مئی کو وطن واپس آنے کی تاریخ دی ہے۔‘
پرویز مشرف کے وکیل کا کہنا تھا کہ گزشتہ سماعت پر متعقلہ عدالت کی طرف سے دیے گئے حکم نامے کے بعد سپریم کورٹ میں یہ درخواستیں اب غیر موثر ہو چکی ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کی عدم موجودگی میں ٹرائل غیر آئینی ہوتا ہے تاہم اگر ملزم جان بوجھ کر پیش نہ ہو تو اس کو اس کا فائدہ نہیں اٹھانے دے سکتے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنگین غداری کوئی معمولی جرم نہیں ہے۔
آئین شکنی کے مقدمے کے پراسیکیوٹر نصیر الدین نیئر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزم پرویز مشرف کی عدم موجودگی میں ان کا ٹرائل نہیں ہو رہا جبکہ سابق فوجی صدر پر فرد جرم ان کی موجودگی میں عائد کی گئی تھی۔










