سوشل میڈیا: ’آپ کا رشتہ کس بنا پر مسترد کیا گیا؟‘

اجتماعی شادی کی ایک تقریب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنپاکستان میں اجتماعی شادی کی ایک تقریب
    • مصنف, منزہ انوار
    • عہدہ, صحافی

پاکستان سمیت دنیا بھر میں سوشل میڈیا کے آنے کے بعد انٹرنیٹ پر اپنے جذبات و خیالات سے لے کر روزمرہ زندگی کے تجربات تک شئیر کرنا بہت عام ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین بھی آج کل کھل کر پاکستان کے سماجی مسائل سے لے کر فرسودہ روایات تک، ہر چیز پر بے جھجک گفتگو اور بحث و مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں ایک پاکستانی سوشل میڈیا صارف نے ٹوئٹر پر باقی صارفین سے سوال کیا کہ ’بتائیں آپ کو کس بنا پر رشتہ سے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا؟‘

بس پھر کیا تھا صرف خواتین ہی نہیں، مرد حضرات بھی اپنی اپنی ریجیکشن سٹوریز دھڑا دھڑ شئیر کرنے لگے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ٹوئٹر پر اس بحث کا آغاز کرنے والی انعم جعفری، تھریڈ کے شروع کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہتی ہیں’پچھلے ہفتے میں اپنی ایک دوست سے ملی اور ہم پر انکشاف ہوا کہ ہم دونوں کے لیے ایک ہی شخص کا رشتہ آیا تھا جسے ہم دونوں نے مسترد کر دیا، پھر ہم نے اسی بارے میں اپنے اپنے مزید رشتے مسترد ہونے یا کیے جانے والی وجوہات شئیر کیں جو انتہائی حیرت انگیز تھیں۔‘

’میں چونکہ ٹوئٹر پر کافی ایکٹو ہوں تو میں نے سوچا کیوں نہ باقی لوگوں سے بھی ان کی رشتے نہ ہونے کی وجوہات پوچھی جائیں۔‘

انعم

،تصویر کا ذریعہAnum Jafari

،تصویر کا کیپشن'میرے ذہن میں یہی تھا کہ اگر ہم لڑکیوں کو رشتے کے لیے اتنی باتیں سننی پڑتی ہیں تو لڑکوں کے پاس بھی یقیناً دوسری طرف کی کہانی ہوگی۔ اسی لیے میں نے یہ نہیں لکھا کہ صرف لڑکیاں ہی اپنے تجربات شئیر کریں‘

’میرے ذہن میں یہی تھا کہ اگر ہم لڑکیوں کو رشتے کے لیے اتنی باتیں سننی پڑتی ہیں تو لڑکوں کے پاس بھی یقیناً دوسری طرف کی کہانی ہوگی۔ اسی لیے میں نے یہ نہیں لکھا کہ صرف لڑکیاں ہی اپنے تجربات شئیر کریں۔‘

وہ کہتی ہیں انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کی ٹویٹ کے جواب میں اتنے زیادہ لوگ اپنے تجربات شئیر کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے

انعم کہتی ہیں لڑکوں نے اپنے رشتے مسترد ہونے کی جو وجوہات بتائی وہ بہت عام سی ہیں۔ ’لیکن لڑکیوں نے جو وجوہات بتائیں وہ انتہائی حیرت انگیز تھیں۔ بہت سی لڑکیاں تو وہ تھیں جن کو میں ذاتی طور پر جانتی ہوں اور میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ انہیں اس سب سے گزرنا پڑا اور ایسی ایسی باتیں سننی پڑیں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

انعم کے سوال کے جواب میں ٹوئٹر پر موجود ایک صارف قندیل اپنا تجربہ شئیر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ انھیں تو صرف اس بنا پر مسترد کر دیا گیا کیونکہ انھوں نے انسٹاگرام پر ایک اجنبی کی فرینڈ ریکویسٹ قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

ایک اور صارف وجیہ زیدی نے اپنا رشتہ مسترد ہونے کی جو وجوہات بیان کی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انھوں نے ’اے لیول نہیں کیا۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

عمران کہتے ہیں انھیں تو اس بنا پر مسترد کر دیا گیا کہ وہ اپنے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے ہیں اور لڑکی والوں کا خیال تھا کہ ان کی والدہ بہت حق جتانے والی ہوں گی اور ہماری بیٹی کو چین سے نہیں رہنے دیں گی۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

بہت سارے لڑکوں نے اپنا رشتہ مسترد کیے جانے جو وجوہات بتائیں ان میں مالی طور پر مستحکم نہ ہونا اور اپنا گھر نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ ان کی تعلیم کتنی ہے اور وہ دکھتے کیسے ہیں، کے بارے میں صرف ایک دو لڑکوں نے ہی بات کی۔ جبکہ لڑکیوں نے زیادہ تر جو وجویات شئیر کیں ان میں ’وہ دِکھتی کیسی ہیں‘ پر زور رہا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 6

ایاز کہتے ہیں انہیں اس بنا پر انکار کیا گیا کہ ’لڑکا معذور ہے۔‘ اور انہیں یہ تک سننے کو ملا ’وہی ان کو رشتہ دیں گے جن کو اپنی بیٹی سے جان چھڑانے کی جلدی ہو گی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 7

انعم کے خیال میں ٹوئٹر نے لوگوں (خاص کر لڑکیوں) کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا ہے جہاں وہ آزادی سے ،کھل کر اپنے خیالات اور تجربات شئیر کر سکیں۔ ’میں نے دیکھا ہے لڑکیاں سامنے آکر ایسی ایسی باتیں شئیر کر رہی ہیں جو پہلے کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔‘