نواز شریف کی سزا کی چھ ہفتے کے لیے معطلی، ضمانت کے فیصلے میں بیماریوں کا بھی تفصیلی ذکر

سپریم کورٹ نے نواز شریف کی سزا معطل اور چھ ہفتے کی ضمانت منظور کرنے کے فیصلے میں کہا ہے کہ مدعی کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق مدعی کو کافی عرصے سے کئی بیماریاں لاحق ہیں جن میں عارضۂ قلب، گردوں کی بیماری، بلند فشارِ خون اور ذیابیطس بھی شامل ہیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ میڈیکل بورڈز کی تیار کردہ کچھ رپورٹوں کے مطابق جو ریکارڈ پر موجود ہیں، مریض کی موجودہ علامات کے مطابق انھیں اینجیوگرافی کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے سے پہلے انھیں گردوں کے ماہر سے بھی مشورے کی ضرورت ہے۔ اِس کے علاوہ مریض کو اینجائنا کی علامات کے سبب کاڈیک کیتھیٹیرائزیشن سے بھی گزرنے کی ضرورت ہے۔

عدالت نے کہا کہ میڈیکل رپورٹوں کے مطابق مریض چونکہ کافی عرصے سے کئی بیماریوں میں بہ یک وقت مبتلا رہا ہے اور دل کی پیچیدہ آپریشنز سے بھی گزر چکا ہے اِس وجہ سے کارڈیک کیتھیٹیرائزیشن کے دوران گردوں اور امراضِ قلب کے ماہرین کی موجودگی ضروری ہے۔

فیصلے کے مطابق اِن رپورٹوں میں اِس بات کی واضع طور پر نشاندھی کی گئی ہے کہ اینجیوگرافی کے دوران مدعی کو کسی حد تک خطرات لاحق ہیں۔

عدالت نے کہا کہ ’اِس مخصوص تناظر میں اور سینیئر ڈاکٹروں کی مستقل رائے کے مدِ نظر مدعی کے وکیل کی جانب سے ایک محدود وقت کے لیے ضمانت اور سزا میں معطلی کی درخواست ہمیں مناسب لگی ہے۔‘

سپریم کورٹ نے منگل کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی چھ ہفتے کے لیے ضمانت منظور کر لی اور ان کی سزا معطل کر دی۔ البتہ ساتھ ہی یہ بھی حکم دیا ہے کہ سابق وزیر اعظم ملک سے باہر نہیں جا سکیں گے اور اس کے علاوہ 50، 50 لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے بھی جمع کرانے ہوں گے۔

عدالت کی جانب سے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا گیا کہ ضمانت کا عرصہ مکمل ہونے کے بعد مجرم کو خود کو قانون کے سامنے پیش کرنا ہوگا اور اس کے بعد ضمانت کے لیے نئے سرے سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرنی پڑے گی۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی۔

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ جیل میں طبیعت خراب ہونے پر انھوں نے طبی بنیادوں پر سزا معطلی کی درخواست دائر کی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

بی بی سی کے رپورٹر شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے نواز شریف کے غیر ملکی ڈاکٹر لارنس کے خط کی کاپی عدالت میں پیش کی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لارنس کا یہ خط عدنان نامی شخص کے نام لکھا گیا ہے، عدالت کے نام نہیں لکھا گیا۔

انھوں نے سوال کیا کہ اس خط کی قانونی حیثیت کیا ہوگی؟ اور ساتھ ہی کہا کہ یہ خط شواہد کے طور پر کیسے پیش ہو سکتا ہے؟ اس کے مصدقہ ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔

اس پر نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ میں اس خط پر انحصار نہیں کر رہا، انھوں نے مزید کہا کہ اس خط میں میاں نواز شریف کی میڈیکل تاریخ درج ہے۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی سفارش کی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس وقت نواز شریف کو انجیوگرافی کی ضرورت ہے۔ ’ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ گردوں میں مسئلہ اس وقت انجیوگرافی میں پیچیدگیاں پیدا کرسکتا ہے۔‘

خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو ہائپر ٹینشن، دل، گردے اور شوگر کے امراض ہیں۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ’آپ نے نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری سے متعلق ڈاکٹر لارنس کا خط پیش کیا، کیا نواز شریف کی طبی صورتحال سے متعلق صرف یہ ہی ایک ثبوت ہے؟‘

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی میڈیکل ہسٹری بتانے کے بعد صرف ایک ثبوت پیش کیا گیا ہے۔ ’اس خط کی بنیاد پر ضمانت کا معاملہ چل رہا ہے اور آپ صرف ایک خط پیش کررہے ہیں۔‘

چیف جسٹس کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف پچھلے 15 سالوں سے ان بیماریوں کا سامنا کر رہے ہیں، یہ بیماریاں بہت پرانی ہیں، ’ہم دیکھنا چاہتے ہیں کیا ان بیماریوں کی بنیاد پر ضمانت ہوسکتی ہے۔‘

چیف جسٹس نے کہا کہ سپریم کورٹ نے طے کیا ہے کہ اگر ملزم کی صحت خراب ہو اور جیل میں سہولت نہ ہو تو ضمانت دی جا سکتی ہے ۔