آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے الزامات: ’بلاول مشکل میں ہیں، خاموش نہیں رہیں گے‘
- مصنف, حسن عباس
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے الزامات اور تنقید کے ردعمل میں پاکستان تحریک انصاف کے انفارمیشن سیکریٹری عمر سرفراز چیمہ نے کہا ہے کہ ’جیسے ہی ان پر احتساب کا معاملہ تھوڑا تیز ہوا ہے انھوں نے حکومت پر اس قسم کی بے جا تنقید شروع کر دی ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پیر کی رات ٹوئٹر پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومتی وزرا کے کالعدم تنظیموں کے ساتھ مبینہ تعلقات کا الزام لگایا اور کہا کہ حزب اختلاف سمیت کوئی بھی حکومت کے دہشت گردی کے خلاف دعووں کو سنجیدہ نہیں لے گا۔
بلاول بھٹو زرداری کچھ عرصے سے قومی اسمبلی میں حکومت کے اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے نظر آرہے ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں قومی اسمبلی میں حکومت کی عسکریت پسند تنظیموں کو قومی دھارے میں لانے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
انھوں نے کہا تھا کہ 'یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک منتخب وزیراعظم کو پھانسی پر چڑھایا جا سکتا ہے لیکن کالعدم تنظیموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی؟'
یہ بھی پڑھیے
ٹوئٹر پر چیئرمین پی پی پی نے ایک بار پھر نیشنل ایکشن پلان پر عمل در آمد نہ ہونے پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ حکومت نے کالعدم تنظیموں سے منسلک وزرا کو ہٹانے کے مطالبے کا جواب ’نیب کے نوٹسسز، موت کی دھمکیاں‘ اور انھیں ’ریاست مخالف‘ قرار دے کر دیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’کچھ بھی ہو، ہمیں قومی سکیورٹی کی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی کے اصولی موقف سے ہٹا نہیں سکتا۔‘
انھوں نے مزید ٹویٹس میں یہ کہا کہ جنھوں نے ماضی میں ایسی تنظیموں اور ان کے ٹریننگ کیمپوں کی حمایت کی، وہ وزرا جنھوں نے الیکشن میں ان کی حمایت حاصل کی اور جنھوں نے ان کو استثنیٰ دینے کا وعدہ کیا، جب تک ان تمام لوگوں کو برطرف نہیں کیا جاتا کوئی حکومت کو سنجیدہ نہیں لے گا۔
’احتساب ہوا تو تنقید شروع‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے انفارمیشن سیکریٹری عمر سرفراز چیمہ نے بلاول بھٹو کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا ’جیسے ہی ان پر احتساب کا معاملہ تھوڑا تیز ہوا ہے انھوں نے حکومت پر اس قسم کی بے جا تنقید شروع کر دی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اپنے صوبے میں اپنی ناکامیوں کی طرف توجہ دینے کے بجائے وہ بے تکی تنقید کر رہے ہیں۔‘
عمر چیمہ نے مزید بتایا کہ وزیر خارجہ 28 مارچ کو تمام پارلیمانی لیڈرز کو نیشنل ایکشن پلان پر بریفنگ دیں گے۔
ان کے مطابق اس میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ حکومت نے کالعدم تنظیموں کے اثاثوں کو قومیانے اور ساتھ ہی ان کے زیر انتظام مدرسوں پر حکومتی ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
گذشتہ دنوں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بی بی سی کو دیے خصوصی انٹرویو میں بھی کہا تھا کہ انھیں 'موجودہ حکومت کی اس کاوش (کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن) پر تھوڑا شک اس لیے ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جو الیکشن لڑا تھا، وہ ایسی کالعدم جماعتوں کے تعاون سے لڑا تھا۔‘
سیاست میں ٹائمنگ
اس بارے میں سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ سیاست میں ’ٹائمنگ‘ بہت ضروری ہوتی ہے۔
’پہلے پیپلز پارٹی، حکومت سے تعاون کی اپیل کرتی رہی پھر انھوں نے اپوزیشن سے مل کر وزیر اعظم کا امیدوار نہیں کھڑا کیا لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ ان کے خلاف نیب کے مقدمے اور بے نامی اکاؤنٹس کے مقدمے سامنے آرہے ہیں تو ان کا بیانیہ آہستہ آہستہ حکومت کے خلاف جارحانہ ہوتا گیا اور اس کے نتیجے میں انھوں نے اب یہ بات کی ہے۔‘
انھوں نے کہا ’وہ (بلاول) مشکل میں ہیں ان کے خلاف کیسز، ان کے والد صاحب کے خلاف کیسز، ان کی پھوپی کے خلاف مقدمات ایسے میں وہ خاموش تھوڑا رہیں گے، یہ تو بڑا قدرتی ہے۔‘
انھوں نے بلاول بھٹو زرداری کی طرف سے وزرا پر لگائے گئے الزامات پر کہا کے ’اگر تو ان کی یہ بات درست ہے تو اس کی انکوائری ہونی چاہیے۔‘