راجستھان: جیل میں قتل ہونے والے پاکستانی قیدی کی میت اہل خانہ کے سپرد

سنیچر کو انڈیا کی ریاست راجستھان کی جیل میں قتل ہونے والے پاکستانی قیدی شاکر اللہ کی میت کو واہگہ بارڈر پر ان کے لواحقین کے سپرد کر دیا گیا۔

جے پور کی سینٹرل جیل میں بعض مقامی قیدیوں کے ساتھ جھگڑے کے بعد ان کو مبینہ طور پر کئی قیدیوں نے مل کر قتل کردیا تھا۔

ان کی میت کو لینے کے لیے ان کے بھائی شہزاد گلفام واہگہ پہنچے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شہزاد گلفام نے بتایا کہ 2003 میں ان کے بھائی سیالکوٹ سے لاپتہ ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ ’اصل میں ان کا ذہنی توازن صحیح نہیں تھا یہ بارڈر کے پاس ایک میلہ دیکھنے گئے تھے اور وہاں سے واپس نہیں آئے۔‘

شہزاد نے بتایا کہ ان کے لا پتہ ہونے کے بعد ان کے اہل خانہ نے انھیں بہت ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر وہ کہیں نہیں ملے۔

شاکر اللہ کے اہل خانہ کو ان کی انڈیا میں موجود گی اور ہلاکت کا تب پتہ چلا جب انھوں نے اس کے متعلق خبر ٹی وی پر دیکھی۔

شہزاد 26 تاریخ سے لاہور اپنے بھائی کی میت لینے کے لیے پہنچے ہوئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ انڈین حکام کی طرف سے ان کے ساتھ کسی نے رابطہ نہیں کیا اور انھیں تمام معلومات میڈیا کی مدد سے مل رہی تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ انسانی حقوق کے کارکن انصار برنی نے ان سے رابطہ کیا اور انھیں تسلی دی کہ وہ کوششیں کر رہے ہیں کہ ان کو فوراً شاکر اللہ کی میت دے دی جائے۔

انصار برنی نے اس معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انڈین حکومت نے شاکر اللہ کی میت کو واپس کرنے میں بہت دیر کر دی۔

انھوں نے کہا کہ ’انھوں (انڈیا کی حکومت) نے بہت دیر کی دو ہفتے ہو چکے ہیں۔ ہم نے سشما سوراج جی کو فوراً فیکس کیا تھا اور ان سے درخواست کی تھی کہ جلدی سے ڈیڈ باڈی کو واپس کیا جائے اور ہم نے ان کے بھائی کو فوراً لاہور بھجوا دیا تھا۔‘

شاکر اللہ کے بھائی نے بتایا کہ انھیں خبروں کی مدد سے ہی معلوم ہوا کے ان کے بھائی کو ’ڈنڈوں اور پتھروں سے مارا گیا۔‘

شاکر اللہ کی تدفین، میت ملنے کے بعد ان کے گاؤں جیسر والا میں کی جائے گی۔

شہزاد گل فام نے انڈین حکومت سے مطالبہ کیا کہ ’جو پاکستانی لوگ آپ کی قید میں ہیں ان پر رحم کریں انھیں کسی قسم کے تشدد کا نشانہ نہ بنائیں۔‘

’انھیں امن کے طور پر رہا کر دیں تا کہ وہ زندہ اپنے ماں باپ بہن بھائیوں کو مل سکیں۔‘

پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شاکر اللہ کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ' ان کی حفاظت اُن(انڈیا) کی پولیس کی اور جیل حکام کی ذمہ داری بنتی تھی۔ وہ اپنی ذمہ داری میں ناکام رہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ جب انڈین پائلٹ پکڑے گئے تو پاکستانی فوج نے اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے پائلٹ کو لوگوں کے ہجوم سے بچایا تھا۔

'ہم نے وہ کیا جو ہمیں کرنا چاہیے تھا ہمیں اس پر فخر ہے اور انھوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی۔'

خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق شاکر اللہ سنہ 2011 سے جے پور کی جیل میں تھے۔ جے پور کی ایک ذیلی عدالت نے انھیں انڈیا میں دہشت گردی پھیلانے کے جرم میں سزا سنائی تھی۔

20 فروری کو ہونے والے اس واقعے کے بارے میں سینیئر پولیس افسر لکشمن گور نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 'اس مقدمے کی تفتیش کی جا رہی ہے اور اس مرحلے پر میں صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ پاکستانی قیدی کو قتل کیا گیا ہے۔'

ابتدائی طور پر یہ اطلاع ملی تھی کہ قیدی ٹی وی دیکھ رہے تھے اور لڑائی ٹی وی کی آواز پر شروع ہوئی۔ اس واقعے کے بعد سینئیر پولیس افسر اور فوررنسک کے ماہرین جیل پہنچ گئے تھے اور اس قتل کی تفتیش شروع کر دی۔

یہ واقعہ پلوامہ میں دہشت گردی کے واقعے کے چند روز بعد ہی ہوا تھا۔