وزارت داخلہ کے متنازع نوٹیفیکیشن پر وزیر اعظم نے تحقیقات کا حکم دے دیا

    • مصنف, حسن عباس
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے گذشتہ جمعرات کو وزات داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک متنازع نوٹیفیکیشن کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سرکیولر بالکل جاری ہوا ہے اسی لیے وزیر اعظم نے اس کے لیے تحقیقات کا حکم دیا ہے کہ یہ کیسے جاری ہوا۔‘

نوٹیفیکیشن میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب کو بدنام کرنے کے لیے سوشل میڈیا پر مہم شروع ہے جس میں زیادہ تر ’شیعہ برادری کے باغی اور ناخوش عناصر ملوث ہیں۔‘

جب وزیراطلاعات سے پوچھا گیا کہ کیا نوٹیفیکیشن میں اعتراض شیعہ افراد کے ذکر پر تھا یا سوشل میڈیا مہم کے متعلق دیے جانے والے حکم پر تو ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ ایک فرقے کے افراد کی نشاندہی پر تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ وزارت داخلہ کے متعلقہ سیکشن افسر نے انتہائی غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شیعہ برادری کا ذکر کیا جو انھیں نہیں کرنا چاہیے تھا۔

یہ بھی پڑھیے

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مستقبل میں وزارت داخلہ ایسی سوشل میڈیا مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ کارروائی کر بھی سکتی ہے کیونکہ ’ہم نے آئین کے مطابق چلنا ہے۔ ہمارا آئین دوست ملکوں کے خلاف ایسی مہم چلانے سے منع کرتا ہے۔‘

وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب ہو یا ایران، پاکستان کا جو بھی دوست ملک ہے اُن کے خلاف منفی مہم کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور پاکستان اپنی زمین کو اپنے دوست ملکوں کے خلاف نہیں استعمال ہونے دے گا۔

آئینی ماہر ایڈوکیٹ علی ظفر نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 19 عوام کو آزادی رائے کا حق دیتا ہے تاہم اس میں کچھ حدود مقرر ہیں۔

انھوں نے کہا ان حدود کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ ’مناسب تنقید نہیں کر سکتے‘ اور اگر حکومت اس قسم کی تنقید پر پابندی لگانا چاہتی ہے تو یہ عمل غیر قانونی اور غیر آئینی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف اس صورت میں حکومت یہ اقدام کر سکتی ہے اگر کسی دوست ملک کے خلاف جھوٹ پھیلایا جا رہا ہو یا اس سے ملک میں مذہبی منافرت پھیلائی جا رہی ہو۔

اس نوٹیفیکیشن میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سمیت تمام صوبوں کے چیف سکریٹری، آئی جی پولیس، چیف کمشنر اسلام آباد، چیئرمین پی ٹی اے اور ڈی جی ایف آیی اے کو مخاطب کیا گیا ہے۔

انھیں کہا گیا ہے کہ نوٹیفیکیشن میں ذکر کیے گئے گروپس پر نظر رکھی جائے اور ان کی اصلاح کی جائے تاکہ وہ وفد کے دورے کے خلاف منفی مہم سے اجتناب کریں۔

نوٹیفیکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس کو فوراً بند کردیا جائے اور ساتھ ہی ایف آئی اے اور پی ٹی اے کو ایسے اکاؤنٹس پر نظر رکھنے اور بند کرنے کی ذمہ داری دی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ بدھ کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ اعلان کیا تھا کہ سوشل میڈیا پر انتہا پسندی اور منافرت پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی شروع کی جائے گی۔

اس سے پہلے نو فروری کو ایف آئی اے نے صحافی رضوان رضی کو ’دفاعی‘ اور ’ریاستی اداروں‘ کے خلاف ٹویٹس کرنے پر گرفتار کر لیا تھا۔

ٹوئٹر پر لوگوں کے تاثرات

وزارت داخلہ کے اس نوٹیفیکیشن نے جمعے سے ہی سوشل میڈیا پر گردش شروع کردی تھی۔

ڈان کے صحافی باقر سجاد نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ یہ بد قسمتی ہے کہ محمد بن سلمان کی آمد کے خلاف آن لائن احتجاج کے لیے ایک فرقے کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ اس طرح کی مسلک کی بنیاد پر نشاندہی سے ملک میں فقی تقسیم بڑھے گی۔

سماجی کارکن اسامہ خلجی نے ٹویٹ کی کہ یہ ناقابل قبول بات ہے کہ آزادی رائے کے خلاف کاروائی کو فرقہ واریت کا رنگ دیا جا رہا ہے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کل اس معاملے پر ٹویٹ بھی کی اور واضح کیا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اس نوٹیفیکیشن کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیتے ہوئے وزارت داخلہ کو اس کی تحقیق کا حکم دیا ہے۔

اس پر عوام کا ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ کچھ نے اس اقدام کو سراہا جبکہ کچھ نے اس غیر ذمہ دارانہ عمل پر تنقید کی۔