شیخ رشید: وزیر اعظم عمران خان نے منظوری دی ہے، سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر اے پی سی کا رکن بننے سے روکنے کے مجاز نہیں

حکمراں اتحاد میں شامل اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اُنھیں کوئی آئینی اختیار نہیں ہے کہ وہ اُنھیں (شیخ رشید) کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن بننے سے روکیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کو اسلام آباد میں ریلوے کی ایک تقریب سے خطاب کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ انھیں وزیر اعظم عمران خان نے پی اے سی کا رکن بننے کی منظوری دی ہے اور قومی اسمبلی کے سپیکر اس بات کے مجاذ نہیں ہیں کہ وہ ان کو پی اے سی کا رکن بننے سے روکیں۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم نے اپنی جماعت کے رکن ریاض فتیانہ کی جگہ شیخ رشید احمد کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا رکن بنانے کی منظوری دی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

پارلیمنٹ کی یہ روایت رہی ہے کہ کسی وزیر کو پی اے سی کا رکن نہیں بنایا جاتا۔

شیخ رشید احمد نے الزام عائد کیا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف کسی طور پر بھی ’پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین قابل قبول نہیں ہیں‘۔ اُنھوں نے کہا کہ حکمراں جماعت کے جن ارکان نے عمران خان کو میاں شہباز شریف کو پبلک اکاونٹس کمیٹی کا چیئرمین بنانے کے لیے قائل کیا ہے اُنھوں نے ’جموریت کی کوئی خدمت نہیں کی‘۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت پہلے یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے جس پر حزب مخالف کی جماعتوں نے بھی یہ موقف اختیار کیا کہ جب تک قائد حزب اختلاف کو پی اے سی کا چیئرمین نہیں بنایا جاتا اس وقت تک وہ قائمہ کمیٹیوں کا حصہ نہیں بنیں گے۔ حکومت کو اپنے موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے میاں شہباز شریف کو پی اے سی کا چیئرمین بنانا پڑا۔

قومی اسمبلی میں قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل کے حوالے سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی کہ سپیکر اسد قیصر کو کمیٹیوں کی تشکیل اور اس میں ردوبدل کا اختیار ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے قومی اسمبلی کے سپیکر پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ شیخ رشید کو پی اے سی کا رکن بنانے کے احکامات جاری کریں جبکہ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے مطابق ابھی تک شیخ رشید احمد کی طرف سے پی اے سی کا رکن بننے سے متعلق کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی۔

دوسری طرف حزب مخالف کی جاعتوں نے اس پیش رفت کے بعد سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے ارکان قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ اور خواجہ سعد رفیق کو پی اے سی کا رکن بنانے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں دونوں ارکان کی طرف سے درخواستیں سپیکر آفس میں جمع کروا دی گئی ہیں۔

وفاقی وزیر شیخ رشید احمد نے کہا کہ ’قائد حزب اختلاف کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات ہیں اور وہ پی اے سی کے چیئرمین کی حیثیت سے نیب اور تفتیشی اداروں کے سربراہوں کو طلب کر رہے ہیں جن کے سامنے میاں شہباز شریف کو بطور ملزم پیش ہونا چاہیے‘۔