آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پشتو کی جگہ اردو: افغان پناہ گزین طلبہ ’نہ اِدھر کے رہیں گے اور نہ اُدھر کے‘
- مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
پاکستان میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے زیر انتظام چلنے والے تمام افغان پناہ گزینوں کے سکولوں میں رواں سال سے نصاب تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے مطابق اب بیشتر کتابیں افغانوں کی قومی زبان پشتو اور دری کی بجائے اردو اور انگریزی زبانوں میں پڑھائی جائیں گی۔
اس سے پہلے زیادہ تر کتابیں پشتو اور دری زبانوں میں پڑھائی جاتی تھیں لیکن پاکستان میں رہائش پزیر افغان پناہ گزینوں نے اس فیصلے کو مسترد کیا ہے۔
کرامت اللہ ایک افغان مہاجر ہیں جو گذشتہ کئی برسوں سے یو ایچ سی آر کے زیرانتظام چلنے والے ایک سکول میں پڑھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ یو این ایچ سی ار نے نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ کرکے پاکستان میں زیر تعلیم پناہ گزین طلبہ کے مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے کہا کہ پہلے بیشتر کتابیں پشتو اور دری میں پڑھائی جاتی تھی لیکن رواں سال ستمبر سے یہ نصاب تبدیل کیا جارہا ہے جس کے تحت اب زیادہ تر کتابیں اردو زبان میں پڑھائی جائیں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے بقول ’نئے نصاب میں صرف ایک کتاب پشتو کی ہے اور باقی تمام کتابیں اردو اور انگریزی میں ہیں جبکہ دری کو سرے سے نصاب سے غائب ہی کر دیا گیا ہے۔‘
کرامت اللہ کے مطابق نصاب تبدیل کرنے کا سب سے بڑا نقصان ان طلبہ کو ہوگا جو اگر کسی وجہ سے یہاں تعلیمی سلسلہ برقرار نہیں رکھ پاتے اور واپس افغانستان جاتے ہیں اور ایسے طلبہ ہمیشہ تذبذب اور مشکل کا شکار رہیں گے۔
’جو طلبہ اردو پڑھ کر یہاں سے واپس سرحد پار جائیں گے ایسے طالب علم نہ ادھر کے رہیں گے اور نہ ادھر کے۔‘
خیبر پختونخوا میں افغان پناہ گزینوں کے سو سے زائد سکول قائم ہیں جن میں چالیس ہزار سے زائد طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں بیشتر سکول ان علاقوں میں قائم کیے گئے ہیں جہاں پناہ گزینوں کی آبادی زیادہ ہے۔ یہ علاقے اب پناہ گزین کیمپوں کی بجائے 'پناہ گزین گاؤں' کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اب کوئی باضابطہ پناہ گزین کیمپ موجود نہیں جبکہ پناہ گزینوں کے گاؤں کو بھی کیمپوں کا درجہ حاصل نہیں۔
نصاب میں ردوبدل کے بعد نئی کتابیں بھی چھپ کر سکولوں میں بھیج دی گئی ہیں لیکن تاحال طلبہ میں تقسیم نہیں کی گئی ہے۔
تاہم بیشتر پناہ گزینوں کے رہنماؤں نے نصاب کی تبدیلی کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے افغانوں کی تاریخ تبدیل کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
چارسدہ روڈ پر واقع پناہ گزین گاؤں کے ایک مشر اؤل گل کا کہنا ہے کہ افغانوں کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے اور اپنی مادری زبان چھوڑنا ایسا ہی جیسے اپنی ثقافت اور تمدن کو ترک کرنا ہو۔
ان کے مطابق ' پشتو میرے باپ دادا کی زبان ہے اور کوئی اپنے آباؤ اجداد کی زبان کیسے چھوڑ سکتا ہے، یہ تو اپنے ہی قوم سے ناانصافی ہے۔'
انھوں نے کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ نصاب میں تبدیلی کا فیصلہ کس کی طرف سے کیا گیا ہے لیکن اس میں پناہ گزینوں کی نمائندوں کی مرضی شامل ہے اور نہ انہیں اس ضمن میں اعتماد میں لیا گیا ہے۔
ان کے بقول ' نصاب تبدیلی کی یہ پالیسی نہیں چل سکتی لیکن اگر پھر بھی زور زبردستی سے یہ نافذ کیا گیا تو ہم غیر ملک میں احتجاج تو نہیں کرسکتے لیکن اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ اپنے بچوں کو سکول سے اٹھا لیں گے انہیں کسی افغان نجی تعلمیی ادارے میں داخل کرادیں گے۔'
اؤل گل کے مطابق زیادہ تر پناہ گزینوں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کا نصاب تبدیل کیا جارہا ہے۔
ادھر دوسری طرف پاکستان میں پناہ گزینوں کے تحفظ کے ادارے یو ایچ سی آر کا کہنا ہے کہ نصاب کی تبدیلی کی فیصلہ ان کی گلوبل تعلیمی پالیسی کا حصہ ہے جس میں افغان پناہ گزینوں کی مرضی شامل ہے۔
اسلام آباد میں یو ایچ سی آر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ جن ممالک میں پناہ گزینوں کو دو سے تین دہائیوں گزر جاتی ہے وہاں پالیسی کے مطابق اسی ملک کا نصاب لاگو کیا جاتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ نصاب کی تبدیلی کا فیصلہ افغانوں کے مشکلات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے اور جس سے افغانوں کو نقصان کی بجائے سب فائدہ ہی فائدہ ہوگا۔
ترجمان کے مطابق ان سکولوں کے پڑھے ہوئے پناہ گزینوں کو ان اداروں سے سرٹفکیٹ ملیں گے جس کے ذریعے سے وہ اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ لے سکیں گے اور انہیں نوکریاں ملنے کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔