پاکستان میں کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی؟

    • مصنف, دانش حسین
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستان پانچ فروری کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں بسنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر مناتا ہے۔

اس دن کی مناسبت سے پاکستان کے طول و عرض میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی جلسے جلوس منعقد کیے گئے اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔

تاہم کم لوگ ہی یہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی اور کس شخصیت نے سب سے پہلے ریاستی سطح پر اس دن کو منانے کا مطالبہ پیش کیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان نے یہ دن کب منانا شروع کیا

کل جماعتی حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما سید یوسف نسیم کہتے ہیں کہ پاکستان میں اس دن کو منانے کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سنہ 1990 میں شروع ہونے والی عسکری تاریخ سے ہے۔

'یہ وقت تھا جب کشمیریوں نے اقوامِ متحدہ کے منشور کے عین مطابق فیصلہ کیا کہ قابض فوج کے خلاف بندوق اٹھانی ہے۔'

ان کے مطابق پاکستان میں اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے سنہ 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔

'قاضی حسین نے پہلی دفعہ یہ کال دی۔ نواز شریف اس وقت پنجاب کے وزیرِ اعلی تھے جب کہ بے نظیر بھٹو کی مرکز میں حکومت تھی اور وہ وزیرِ اعظم تھیں۔'

قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق، بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور پہلی مرتبہ یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن منایا جاتا ہے۔

ان کے مطابق اس سے پہلے بھی پاکستان گاہے بگاہے کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مخصوص نہ تھا۔

بھٹو، شیخ عبداللہ، اندرا گاندھی اور یکجہتی کشمیر

سنہ 1975 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شیخ عبداللہ اور اندرا گاندھی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے وقت کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے طور پر بھٹو نے اعلان کیا کہ پاکستانی عوام بھرپور طریقے سے کشمیریوں کا ساتھ دے گی اور ایسا ہوا بھی۔

'یہ 28 فروری 1975 کا دن تھا۔ پاکستان میں اظہارِ یک جہتی ہوا اور کشمیر میں اتنا زبردست احتجاج اور ہڑتال ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جانوروں تک کو پانی نہ پلایا۔ یہ مثالی ہڑتال تھی جو بھٹو صاحب کے کہنے پر ہوئی۔'

سینیٹر راجہ ظفر الحق کہتے ہیں کہ اس دن کو منانے کا مطالبہ کرنے والوں میں قاضی حسین احمد کے علاوہ سردار محمد ابراہیم بھی پیش پیش تھے۔

'یہ مطالبہ پہلے سردار محمد ابراہیم نے بھی پیش کیا تھا جس کو قاضی صاحب نے آگے بڑھایا۔'

ان کے مطابق آئندہ آنے والے دنوں میں یہ مطالبہ کافی زور پکڑ گیا اور بعد ازاں وفاق اور صوبوں نے اس کو مان لیا۔

انھوں نے کہا کہ ویسے تو پاکستان اور کشمیر کا رشتہ پاکستان کے قیام میں آنے سے بھی پہلے کا ہے اور اب ہر سال یہ دن اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے منایا جاتا ہے۔

پانچ فروری ہی کیوں؟

یوسف نسیم کے مطابق جماعت اسلامی نے سنہ 1990 میں اپنے قائدین کی ایک میٹنگ بلائی۔ 'اس نشست میں یہ مشورہ سامنے آیا کہ اس مقصد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔ کیلنڈر کو دیکھا گیا اور میٹنگ میں یہ فیصلہ ہوا کہ پانچ فروری کا دن مناسب رہے گا۔'

ان کے مطابق پانچ فروری کو کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا تھا کہ اس مناسبت سے اس تاریخ کا انتخاب کیا گیا۔

'شاید اس وقت انھیں اندازہ نہ تھا کہ آئندہ آنے والے برسوں میں یہ دن ایک تہوار کی شکل اختیار کر جائے گا۔ یہ بھی مسئلہ تھا کہ پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اور مرکز میں پیپلز پارٹی کی تو کیا دونوں پارٹیاں اس پر متفق بھی ہوں گی۔‘

ان کا کہنا تھا چونکہ مقصد نیک تھا تمام لوگ مان گئے اور پہلی بار 5 فروری 1990 کو یہ دن منایا گیا۔ اور بعد ازاں ہر سال یہ دن منایا جاتا ہے۔

'تمام پارٹیاں شاید اس لیے بھی مان گئیں کہ کشمیر کے مسئلے کو پاکستان میں ہمیشہ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر دیکھا جاتا ہے۔'