آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
وزیرستان میں کاروبار: ’چیک پوسٹوں کے کم ہونے پر خوش تو ہیں لیکن غلام خان بارڈر کو کھولا جائے‘
- مصنف, حمیرا کنول
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، وزیرستان
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے خاتمے کے بعد وہاں کے مقامی افراد اپنا کاروبار بحال کرنے کے لیے کوشاں ہیں مگر جہاں ایک جانب انھیں کئی مختلف مشکلات کا سامنا ہے وہیں بہت سے مواقعوں کو روشن مستقبل کی نوید سمجھا جا رہا ہے۔
یہاں کاروبار کرنے والوں کے لیے پاکستان کے دیگر علاقوں کی نسبت سرحد پار افغانستان آنا جانا زیادہ آسان ہے۔
ڈھائی برس پہلے آصف نور جب شمالی وزیرستان کے مرکزی شہر میران شاہ واپس لوٹے تو ان کی دکانیں تباہ ہو چکی تھیں پھر انھوں نے اس سے کچھ فاصلے پر زمین لے کر نئی مارکیٹ بنائی۔
آصف کہتے ہیں کہ کاروبار آہستہ آہستہ بہتر ہو رہا ہے۔ وہ چیک پوسٹوں کے کم ہونے پر خوش تو ہیں لیکن کہتے ہیں کہ اس وقت ان کا مطالبہ یہ ہے کہ غلام خان بارڈر کو کھولا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ آپریشن سے پہلے ان کا زیادہ تر کاروبار افغانستان سے تھا۔ ’ابھی ہم سامان نیچے سے لے کر آتے ہیں جس میں اتنا منافع نہیں ہوتا۔ اگر غلام خان بارڈر کھل جائے تو لوگوں کا آنا جانا شروع ہو جائے گا، ابھی لوگوں کا آنا جانا بند ہے۔'
اپریل 2018 سے فعال پاکستان کے تیسرے بڑے سرحدی ٹرمینل غلام خان پر باڑ لگانے کے بعد اب رات کو بھی گاڑیوں کی آمد ورفت ممکن بنانے کے لیے روشنی کا انتظام کیا جائے گا۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہاں سے روزانہ 150 گاڑیاں آتی جاتی ہیں۔
دورہ وزیرستان پر بی بی سی کی دیگر خصوصی تحریریں!
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس بارڈر کا تمام کنٹرول یہاں سے تین کلومیٹر دور ٹوچی سکاؤٹس کے ہیڈ کوارٹر سے سنبھالا جاتا ہے جو پہاڑ کی چوٹی پر قائم کیا گیا ہے۔ زیرو پوائنٹ پر لگی باڑ سے چند ہی گز کے فاصلے پر گاؤں میں 2000 لوگ آباد ہیں۔
وہاں انٹری پوائنٹ پر میری ملاقات کابل سے سبزی اور پھل لے کر آنے والے وارث خان سے ہوئی جن کا کہنا تھا کہ 'صبح جاتے ہیں، شام کو واپس آتے ہیں۔ اب حالات بہت اچھے ہیں۔ کسٹم والوں کے پیسے اگر تھوڑے کم ہو جائیں، تو یہ اچھا ہوگا اور اگر آنے جانے میں مزید سہولت ہو جائے تو ہمیں فائدہ ہو جائے گا۔'
میران شاہ مارکیٹ
میران شاہ میں پاکستانی فوج نے جدید طرز پر ایک مارکیٹ بنائی ہے۔
اس مارکیٹ میں 1344 دکانیں ہیں اور جب میں دن کے بارہ بجے وہاں گئی تو میری ملاقات چند ہی دکانداروں سے ہوئی جنھوں نے کچھ عرصہ قبل ہی کاروبار کا آغاز کیا ہے۔ زیادہ تر دکانوں کے شٹر ابھی گرے ہوئے تھے۔
کمبل اور سولر سسٹم کی دکان کو حال ہی میں شروع کرنے والے صاحب خان نے ڈانڈے درپہ خیل سے اپنی دکان کو یہاں شفٹ کیا ہے۔
وہ چار سال تک بنوں میں آئی ڈی پی کے طور پر رہے۔ 'بس گزارہ ہو رہا ہے ۔ پہلے تو بنوں میں کاروبار کرتا تھا، اب یہاں کاروبار کرتے ہیں۔ بس تقریباً پانچ چھ مہینے ہوگئے۔ کوئی مشکل نہیں ہے۔ پہلے چیک پوسٹوں پر چیکنگ ہوتی تھی اس لیے تھوڑی تکلیف ہوتی تھی۔‘
جنوبی وزیرستان کی 'مکین مارکیٹ' بھی میران شاہ کی مارکیٹ کی طرح کشادہ ہے اور اس میں کئی بلاکس ہیں۔ یہ ایک ایسے علاقے میں بنائی گئی ہے جہاں پہلے لوگوں کی رہائش تھی لیکن اب حکام یہاں قریب ہی مرکزی اڈہ بنانے پر بھی کام کر رہے ہیں۔
اس مارکیٹ میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دکھائی دی جو ہوٹل سے لے کر روز مرہ کی مختلف اشیا کی دکانیں چلا رہے ہیں۔ پی سی او شاپ پر موجود سمیع اللہ چند ماہ قبل سعودی عرب میں دو سال نوکری کر کے واپس لوٹے ہیں اور اب تین ماہ سے پی سی او چلا رہے ہیں۔
چونکہ یہاں ابھی موبائل سروس کام نہیں کرتی اس لیے لوگوں کے رابطے کا ذریعہ پی ٹی سی ایل کی لینڈ لائن ہی ہے۔
سمیع کے مطابق 'واپس لوٹنے کے بعد ہمیں سڑک اور مارکیٹس بہتر ملی ہیں لیکن مارکیٹ کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ابھی پانی اور بجلی کی سپلائی شروع نہیں ہوئی۔'
ان کے بعد وہاں موجود چند اور نوجوان لڑکوں نے بھی اسی شکایت کو یک زبان ہو کر دہرایا۔
دوسری جانب جنوبی وزیرستان کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے چند حصوں میں بجلی نہیں ہے اور اس پر موسم سرما کے ختم ہوتے ہی کام دوبارہ شروع ہو جائے گا۔
کولڈ سٹوریج 'مددگار'
جنوبی وزیرستان کی سب سے بڑی فصل سیب ہے، پھر آلو بخارا اور تیسرے نمبر پر آڑو ہے۔ ان پھلوں کی یہاں بہت اچھی کوالٹی ہے اور تاجروں کا کہنا ہے انھیں بیرون ملک ایکسپورٹ کیا جا سکتا ہے۔
لیکن پہلے مسئلہ کولڈ سٹوریج کا تھا جو کہ اب وانا ایگری پارک میں بنا دیا گیا ہے۔ یہ رواں سیزن میں اپنے کام کا آغاز کر دے گا۔
شین وارسک میں باغات کے مالک عبداللہ کو پہلے وانا سے لاہور جا کر پھلوں کو کولڈ سٹوریج میں رکھنا پڑتا تھا۔ اس علاقے سے پھل کئی گھنٹوں اور بھاری بھرکم کرائے کے عوض ٹرکوں کے ذریعے ملک کے دوسرے شہروں تک پہنچایا جاتا ہے۔ لیکن اب تاجروں کا خرچا کم ہو جائے گا۔
عبداللہ کہتے ہیں کہ 'آپریشن کے دوران تو تین چار سال لگے تھے ہماری فصل تباہ ہوگئی تھی۔ ہمیں دو تین مرتبہ یہاں سے نکلنا پڑا تھا۔ اب لوگوں نے دوبارہ اپنے باغوں میں درخت لگا دیے ہیں۔ اب سہولت ہو گئی ہے۔'
'ہمارے علاقے سے پانی جا رہا ہے'
نواز خان طور بھی پھلوں کی تجارت سے منسلک ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہاں ایگری پارک کی تعمیر میں کچھ نقائص ہیں۔' منڈی کا ایک طریقہ کار الگ طریقے سے ہوتا ہے۔ بیوپاری ہوتا ہے اس کے ساتھ رہنے کی جگہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن وہ ہم نے آپس میں بات کی ہوئی ہے اس کا بھی کوئی طریقہ کار ہو جائے۔'
لیکن طور خان کو سب سے بڑا خطرہ فصلوں اور باغات کے لیے پانی کی فراہمی کی قلت میں لگ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 'ہمارے علاقے سے پانی جا رہا ہے۔ جہاں تک ہمارا پیغام پہنچا سکتے ہیں پہنچائیں۔ جنوبی وزیرستان میں کوئی کمی نہیں ہے یہ بہت زرخیز زمین ہے لیکن پانی کی کمی ہو رہی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ پہلے کی نسبت علاقے میں بارشیں صرف دس فیصد ہوتی ہیں۔
معدنی ذخائر اور سیاحت توجہ کے منتظر
شمالی اور جنوبی وزیرستان کے پہاڑ معدنیات، تیل و گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر شمالی وزیرستان عبدالناصر خان کے مطابق یہاں سیاحت کے بہت سے مواقع موجود ہیں۔ غلام خان کے علاقے میں ایک ریسٹ ہاؤس پر کام شروع ہو گیا ہے۔ جبکہ دوسرا رزمک اور تیسرا ریسٹ ہاوس شوال میں بنانے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس کی منظوری اسی برس ملنے کی امید ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ دتہ خیل، سپن وام اور شواہ میں تانبے، کرومائٹ اور تیل و گیس کے ذخائر ہیں۔
'لوکل لوگ لیز لے رہے ہیں کام جاری ہے۔ یہاں تانبے کے لیے ایک بہت بڑا پلانٹ لگ رہا ہے۔ سپن وام میں گیس اور تیل کی پیداوار کے لیے ماڑی پٹرولیم لمیٹڈ کام کر رہی ہے۔‘
دوسری جانب علاقے کے مشران ہفتہ وار اور ماہانہ کی بنیاد پر سول اور فوجی حکام سے جرگے کی صورت میں ملاقاتیں کرتے ہیں اور اپنے مسائل کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
گذشتہ ہفتے جرگے میں جہاں آئی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا گیا وہیں بہت سے لوگوں کو اب تک ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے فنڈ نہ ملنے کے معاملے کو پھر سے اٹھایا گیا۔
شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اب بھی چند ایسے افراد ہیں جو گھروں کی تعمیر کے لیے حکومتی سروے کے منتظر ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو سروے ہو جانے کے باوجود امدادی فنڈ کا انتظار کر رہے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں پٹواری سسٹم اور زمین کے کاغذات کا نظام موجود نہیں ہے۔ ان مارکیٹس کو جدید طرز پر بنا تو دیا گیا ہے لیکن بہت سے لوگ اپنی ملکیت کے حصول کے منتظر ہیں اور اس پر احتجاج بھی کیا جاتا ہے۔
جنوبی وزیرستان کے اسسٹنٹ کمشنر فہید اللہ خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ لوگوں کو اپنی اپنی جائیداد کے بارے میں معلوم ہے لیکن ابھی اس عمل میں وقت لگے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ 'حکومت نے پانچ سال دیے ہوئے ہیں، اس پر تیزی سے کام جاری ہے جو پٹوار کی بات ہے اس میں ٹائم لگے گا۔‘
شمالی وزیرستان کے ڈپٹی کمشنر عبدالناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ ابھی واجبات کی ادائیگی کا سلسلہ جاری ہے لیکن میران شاہ میں پٹوار سسٹم موجود ہے۔ لوگوں کو ان کی دکانیں دے دی گئی ہیں لیکن اب وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دکانیں ٹوٹنے کا معاوضہ بھی دیا جائے۔