اسلام آباد کے چڑیا گھر میں چار نیل گائیں زہر سے مریں، تحقیق کا مطالبہ

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اُردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر میں دسمبر کے ماہ میں آٹھ نیل گائیں مردہ پائی گئیں تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، چڑیا گھر کے ڈائریکٹر رانا طاہر نے اب اس معاملے کی تحقیقات کرنے کے لیے فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو درخواست لکھی ہے۔

بی بی سی کو موصول ہونے والی اس درخواست کی کاپی کے مطابق، آٹھ میں سے چار گائیں مبینہ طور پر کھانے میں زہر کی موجودگی ہونے کے باعث ہلاک ہوئی ہیں۔ جس کی تصدیق پوسٹ مارٹم کے ذریعے کی گئی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چیئرمین میٹروپولیٹن کارپوریشن، سید نجف اقبال نے کہا کہ پچھلے ایک ماہ میں یکے بعد دیگرے اموات کی وجہ جاننا ضروری ہے۔ ’ہم یہ جاننا چاہ رہے ہیں کہ اگر ہمارے ملازموں کی طرف سے کوئی مجرمانہ غفلت ہوئی ہے تو وہ سامنے آ جائے۔ معاملے کی قانونی تفتیش ہونا ضروری ہے تاکہ ملوث افراد کو اس کی سزا دی جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے:

مرغزار چڑیا گھر کے ایک سینئیر افسر نے بی بی سی کو اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ پچھلے ایک ماہ سے چڑیا گھر میں اخراجات کے معامللے پر نئے ڈائریکٹر اور ملازمین کے درمیان چپقلش جاری تھی۔ افسر نے بتایا کہ رانا طاہر چڑیا گھر کے موجودہ نظام کو بدلنا چاہ رہے تھے جس کی وجہ سے تنازعہ بڑھ گیا۔ اس تنازعے کی شروعات فُوڈ اینڈ فیڈ سیمپل پر ہونے والے اخراجات پر ہوئی جو ایک ماہ پہلے تک 43 لاکھ تھے جس کو کم کرکے ڈایریکٹر نے 37 لاکھ تک کردیا۔

اس تنازعے کے دوران ہی ایک کے بعد ایک آٹھ نیل گائیں ہلاک ہوئیں جن کی ہلاکت کو پہلے دسمبر میں سردی کی بڑھتی ہوئی شدت سے منسوب کیا جارہا تھا۔ لیکن ان ہلاکتوں کے بعد ہونے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق چار نیل گائیں انڈوٹوکسک شوک سے ہلاک ہوئیں یعنی خون میں سوزش کے باعث ہوئی۔

باقی چار گائیں کے جسم پر خراش اور زخموں سے پتہ لگا کہ یہ جانور ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے نتیجے سے مارے گئے۔ چڑیا گھر سے منسلک افسر نے بتایا کہ یہ بھی مجرمانہ غفلت کا حصہ ہے کیونکہ جانوروں کو سنبھالنے کے لیے ہر پنجرے کے سامنے ایک سے دو ملازمین کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے تاکہ وہ آپس میں لڑنے والے جانوروں کو علیحدہ کرسکیں۔ ’لیکن اس واقعے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ جانوروں کو آپس میں لڑنے دیا گیا جس سے چار نیل گائیں ہلاک ہوگئیں۔‘

چڑیا گھر میں اس معاملے پر ہونے والی تحقیق کے نتیجے میں اب تک نو لوگوں کے خلاف چارج شیٹ بنائی جا چکی ہے۔ لیکن مزید تحقیقات کے لیے اب ایف آئی اے کی طرف سے ہونے والی تفتیش کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔