پاکستان تحریکِ انصاف یا نون لیگ: نئی ویزا پالیسی کا سہرا کس کے سر؟

    • مصنف, حسن عباس
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

کیا نئی ویزا پالیسی واقعی نواز لیگ کی حکومت نے متعارف کروائی؟

پی ٹی آئی حکومت نے پچھلے ہفتے ملک کی نئی ویزا پالیسی کا اعلان کیا جس کے تحت 50 ممالک کے باشندوں کو پاکستان آمد پر، جبکہ 175 ممالک کے رہنے والوں کو ’ای ویزا‘ کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اس پالیسی کا مقصد بظاہر ملک میں سیاحت اور معیشت کو فروغ دینا ہے۔

اس اعلان کے بعد سابق حکمراں جماعت نواز لیگ کے رہنماؤں نے پی ٹی آئی پر تنقید کی کہ وہ اُس کام کا کریڈٹ لے رہے ہیں جو انھوں نے گذشتہ دورِ حکومت میں سر انجام دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں یہ دعویٰ کیا کہ یہ پالیسی ان کے دور کی آخری قومی سلامتی کونسل (این ایس سی) کی میٹنگ میں منظور ہوئی تھی۔

اپنے دورِ وزارت میں احسن اقبال نے رائج پالیسی میں کچھ تبدیلیوں کا اعلان کیا تھا جن کے تحت 68 ممالک کے باشندوں کو پاکستان آ کر ویزا حاصل کرنے کی سہولت دی جانی تھی۔

البتہ اس معاملے پر انہی کی پارٹی کے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ان کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے یہ تسلیم کیا کہ قومی سلامتی کونسل کی آخری میٹنگ میں اس پالیسی کے عملی طریقہ کار پر اتفاق نہیں ہو سکا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اس بات پر اتفاق تھا کہ یہ نئی پالیسی لانی ہے لیکن اس کے طریقہ کار پر اتفاق نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مختلف حکومتی اداروں نے بریفنگ دی تھی۔ وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ ’آن ارائیول‘ یا پاکستان آمد پر دیے جانے والا ویزے کا آپشن ان ممالک کے باشندوں کو دیا جائے جن کی پاکستان کے لیے بھی ویسی ہی پالیسی ہے۔

تاہم اس تجویز پر اس وقت کی وزارت داخلہ نے تشویش کا اظہار کیا تھا۔

سابق وزیر اعظم خاقان عباسی کے مطابق جن 60 ممالک کی فہرست تیار کی گئی تھی وہاں کے لوگ پاکستان نہیں آتے ہیں، مثلاً افریقی ممالک جیسے کہ بُرکینا فاسو اور جیبوٹی۔

’میں اس سے اتفاق نہیں کرتا تھا۔ میری تجویز یہ تھی ایسے ممالک کی فہرست بنائی جائے (جنھیں ہم یہ سہولت نہیں دینا چاہتے) جو کہ 20 سے زیادہ نہیں ہوں گے۔‘ ان کے مطابق ایسے ممالک کے علاوہ تمام ملکوں کے لوگوں کو ’ایز آف ویزا‘ دے دینا چاہیے۔

البتہ احسن اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہماری مرحلہ وار ویزا حاصل کرنے میں نرمی کی تجویز منظور ہو گئی تھی۔‘

’پہیہ پھر سے ایجاد نہیں کیا‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اور ممبر قومی اسمبلی صداقت علی عباسی نے کہا کہ ’کوئی پہیہ پھر سے ایجاد نہیں کر رہا، نواز لیگ کو بھی خود سے یہ خیال نہیں آیا تھا، انھوں نے بھی کہیں سے اٹھایا ہو گا اگر وہ یہ پالیسی متعارف کر سکتے تھے تو کرتے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کی ہے اور یہ ویزا پالیسی اس کا ایک حصہ ہے۔

انھوں نے کہا ’یہ ایک تجربہ کیا جا رہا ہے، دیکھا جائے گا کہ اس کا ردعمل کیسا ہو گا۔ ہو سکتا ہے مزید ملک اس لسٹ میں ڈالے جائیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ممالک کو لسٹ سے نکالا بھی جائے۔‘

ٹوئٹر پر عوامی رد عمل

جب پی ٹی آئی حکومت نے اپنی نئی ویزا پالیسی کا اعلان کیا، جس کے مطابق متعدد ممالک کے باشندوں کو باآسانی پاکستان میں آنے جانے کی اجازت ہو گی، تو احسن اقبال کو یہ بات بالکل نہ برداشت ہوئی:

اپنی ٹویٹ میں سابق وزیر نے ایک پرانی خبر شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے بحیثیت وزیر داخلہ قومی سلامتی کونسل میں نئی ویزا پالیسی وضع کی تھی۔

اس ٹویٹ کے جواب میں ان کے مخالفین نے ایسے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ غیرجانبدار شخص کو بھی احسن اقبال سے ہمدردی ہوجائے:

ملیحہ ہاشمی نے طنز کرتے ہوئے کہا ’یہ احسن اقبال ہی تھے جنھوں نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ ملک کا خواب دیکھا، پاکستان کے بانی نواز شریف ہیں جناح صاحب نہیں، ہماری قومی زبان گلابی اردو، قومی فونٹ ’کیلبری‘ اور قومی کھانا پائے اور نہاری ہیں۔‘

رضوان چغتائی نے تو احسن اقبال کو سیاستدان سے سائنسدان بنا دیا اور سائنسی حقائق کو اپنے پیروں تلے روندتے ہوئے کشش ثقل کی دریافت کا سہرہ بھی پروفیسر احسن اقبال کے سر پر رکھ دیا۔

انھوں نے لکھا کہ ’وہ درحقیقت احسن اقبال ہی تھے جنھوں نے گرتے ہوئے سیب کو دیکھا اور نیوٹن کو اس کی خبر دی۔ بدقسمتی سے کسی کو یہ سچی کہانی معلوم نہیں‘۔

حسن خواجہ لکھتے ہیں کہ ’جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں احسن اقبال نے ہی شعیب ملک کو قومی ٹیم کا کپتان بنانے کا فیصلہ کیا تھا، لہذا جیت کا تمام کریڈیٹ ان ہی کو جاتا ہے۔‘

سیاستدان اعجاز الحق نے بھی اس موقعے پر کہا کہ ’کوئی بھی اقدام جس سے پاکستان کو فائدہ ہو اس کا کریڈٹ تمام سیاسی پارٹیوں کو جاتا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ملکی تاریخ کے بہت سے اہم اقدامات کا آغاز مختلف حکومتوں میں ہوا جبکہ ان پر کام کسی دوسری حکومت نے مکمل کیا۔