سپریم کورٹ: یونین کونسلز مسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں

    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاکستان کے چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ایک فیصلے میں مسیحی برادری کی شادیوں کو رجسٹر کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔

اس کے ساتھ ہی سپریم کورٹ نے یونین کونسلز کو بھی پابند کیا ہے کہ وہ مسیحی برادری کی شادیوں کی رجسٹریشن کو یقینی بنائیں۔

بدھ کو ہونے والی سماعت میں سپریم کورٹ نے متعلقہ اداروں جیسا کہ نادرا کو پابند کیا کہ وہ مسیحی برادری کی شادی سے متعلق میرج سرٹیفیکیٹ بھی جاری کریں۔

سپریم کورٹ نے پنجاب حکومت کو پنجاب اسمبلی میں قانون جاری کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مسیحی برادری کے لیے بہتر قوانین اور اقدامات کیے جائیں۔

یونین کونسل کی سطح پر رجسٹریشن کی ضرورت کیوں؟

بدھ کے روز ہونے والی سماعت میں لاہور کے کیتھیڈرل چرچ آف دی ریسیرکشن کے ڈین شاہد معراج کی طرف سے جمع کی گئی ایک درخواست پر سماعت کی گئی۔ اس درخواست میں شاہد معراج نے عدالت کو بتایا کہ بلدیاتی سطح پر کئی بار شکایات کرنے کے باوجود بھی مسیحی برادری کی شادیاں یونین کونسل میں رجسٹر نہیں کی جاتیں۔

یہ بھی پڑھیں!

2013 میں ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کو ایکٹنگ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کی طرف سے مطلع کیا گیا کہ پنجاب کے 20 ضلعوں میں 150 پادری اور بشپ رجسٹرڈ ہیں اور پنجاب حکومت سے لائسنس یافتہ بھی ہیں۔ ایسی صورت میں اگر کوئی لائسنس یافتہ بشپ یا پادری کوئی شادی کرواتا ہے تو وہ رجسٹرڈ مانی جائے گی۔ لیکن عدالت کو مزید بتایا گیا کہ زمینی حقائق اس سے بہت مختلف ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لاہور میں ادارہ برائے سماجی انصاف کے ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے بتایا کہ اس درخواست کو پیش کرنے کی ضرورت یوں پیش آئی کیونکہ موجودہ قانون میں اس حوالے سے خلا تھی۔

’اٹھارہویں ترمیم کے بعد شادیاں صوبائی موضوع بن گیا جس کے بعد ہماری درخواست اسمبلیوں میں نہیں سنی گئی۔ اس لیے ہمیں عدالت کے ذریعے یہ بات آگے کرنی پڑی۔‘

انھوں نے کہا کہ شادیاں یونین کونسل میں رجسٹر نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے ب فارم بنوانے اور باقی دستاویزات بنوانے میں کافی دقت ہوتی تھی۔

لاہور کے گرجا گھر سے الیگزینڈر جان ملک نے عدالت کو بتایا کہ کرسچن میرج ایکٹ کی شِق نمبر 28، 29، 30 اور 37 کے تحت کئی سالوں سے مسیحی شادیوں، ولادت اور اموات کی تفصیلات رجسٹرار جنرل کو بھیجی جاتی تھیں۔ لیکن صوبائی سطح پر بلدیاتی نظام بننے کے بعد یہ ذمہ داری یونین کونسل پر آگئی۔ یونین کاؤنسل کی بنیادی ذمہ داری مسیحی برادری میں پیدائش اور اموات کی رجسٹریشن تو کرتی تھی لیکن شادیوں کی رجسٹریشن نہیں کرتی تھی۔

عدالت کے استفسار پر یونین کونسلز کے نمائندے نے بتایا کہ ان کو لوکل گورنمنٹ کی طرف سے ایسے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے تھے اور انھوں نے مزید کہا کہ انفرادی طور پر شادیوں کی رجسٹریشن گرجا گھروں کی ذمہ داری ہے جہاں یہ شادیاں طے پاتی ہیں۔

پاکستان کی مسیحی برادری کئی سالوں سے اپنی شادیوں کو یونین کونسل کی سطح پر رجسٹر کروانے کی جدوجہد میں مصروفِ عمل تھی۔ اس کاوش نے پچھلے چھ سالوں میں کافی زور پکڑا اور بات سپریم کورٹ تک پہنچ گئی۔

پاکستان میں مسیحی برادری کی شادی اور طلاق سے متعلق قوانین برٹش راج کے وقت سے ہیں لیکن ان میں کئی بار ترامیم کروانے کی بات کی جاتی رہی ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ِسندھ میں پیس اینڈ ڈیویلیپمنٹ ادارے سے منسلک کارکن صفینہ جاوید نے کہا کہ ’قانون ہونے کے باوجود ہمیں شادیاں رجسٹر کروانی پڑتی ہیں کیونکہ اگر کبھی شناختی کارڈ یا پاسپورٹ میں ترامیم کروانی ہوں تو بہت مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا۔‘

کرسچن میرج ایکٹ اور اس کی ترامیم کے مراحل

2014 میں وفاقی حکومت نے کرسچن میرج ایکٹ 1872 اور ڈیوورس ایکٹ 1869 میں ترمیم کرنے کے لیے ڈرافٹ بل تیار کیے تھے۔

اس حوالے سے 2017 میں انسانی حقوق کی وزارت نے یہ دونوں بِل تصحیح کے لیے وزارتِ قانون کو بھجوائے تاکے اس کے بعد یہ کیبنٹ میں پیش ہوسکیں۔

ساتھ ہی یہ بات بھی سامنے آئی تھی، جس میں ترمیم کرنے کی بات بھی کی گئی، کہ مسیحی برادری سے متعلق اس قانون میں طلاق صرف اس صورت میں دی جاسکتی ہے اگر خاوند اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے۔

اس کے ساتھ ہی مسیحی برادری چاہتی تھی کہ ان کی شادیاں یونین کونسل کی سطح پر بھی رجسٹر ہوں تاکہ ان کی قانونی ساکھ برقرار رہے۔

اس بارے میں بشپ صادق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کوشش تھی کہ ہمارے بچوں کی ولادت کے ساتھ ساتھ ہماری شادیاں بھی یونین کاؤنسل میں رجسٹر ہوں۔ کیونکہ نادرا کے ساتھ ساتھ سبھی ادارے میرج سرٹیفیکیٹ مانگتے تھے جو اگر یونین کاؤنسل کی طرف سے نہ ہو تو کافی مسئلہ پیدا ہوجاتا تھا۔‘

ستمبر 2018 میں سپریم کورٹ میں ہونے والی سماعت کے دوران بشپ شفقت نے بھی انھی بنیادوں پر اپنا بیانیہ عدالت کے سامنے پیش کیا تھا۔

وزارتِ قانون نے اپنی سفارشات میں کہا کہ موجودہ قانون میں شادی کے وقت سے لے کر شادی کی عمر تک میں بھی مسائل ہیں۔ تیار کئے گئے ڈرافٹ میں شادی کی عمر 16 سے 18 سال کردی گئی ہے۔

اس حوالے سے یہ بھی طے پایا تھا کہ نادرہ کی طرف سے جاری کیا گیا سرٹیفیکیٹ ایک پبلک دستاویز کی اہمیت کا حامل ہوگا اور ساتھ ہی اگر رجسٹرار نے شادی رجسٹر کرنے میں تین ماہ سے زیادہ کا وقت لگایا تو اس پر ایک لاکھ روپے جرمانہ لگے گا۔ کوئی بھی شخص اپنی شادی کے وقت اپنے حوالے سے غلط معلومات دینے پر اس کو سات سال کی سزا ہوگی۔

صفینہ نے کہا کہ ’یہ ہماری دیرینہ خواہش تھی جو آج پوری ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے بہت اچھے فیصلے کیے ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کے آگے بھی سپریم کورٹ اپنے فیصلوں کے ذریعے ہماری پشت پناہی کرے گی۔‘