'عمران خان کی مرغیاں ہومیوپیتھک ہیں،نہ ان کا نفع ہے نہ نقصان'

    • مصنف, عفیفہ چوہان
    • عہدہ, صحافی، لاہور

'عمران خان کی مرغیاں ہومیو پیتھک ہیں، ان کا نہ تو نفع ہے نہ نقصان'۔

یہ کہنا ہے ٹولنٹن مارکیٹ کے دیسی مرغ فروشوں کا، جو عمران خان کے گھریلو مرغی منصوبے کے حوالے سے کچھ زیادہ خوش نہیں۔

وجہ یہ کہ اس منصوبے نے ان سے دیسی مرغی کے گاہکوں کو چھین لیا ہے۔ اب لوگ ان سے دیسی مرغی خریدنے نہیں بلکہ دیسی مرغی پالنے کے گر سیکھنے آتے ہیں۔

ایک مرغ فروش کا کہنا تھا کہ 'یہ لوگوں کے گھروں کو توڑ رہے ہیں اور بندوں کو مرغیوں کی جانب لگا رہے ہیں۔ ان کی دی ہوئی مرغیوں نے تو انڈے بھی نہیں دینے۔ ایکسپائرڈ مرغیاں ہیں ان کی۔۔۔ انڈے اور مرغی کی بات کرتے ہیں۔۔۔! لوگوں کو گھر دیں، ملازمتیں دیں۔ کیا بات کرتے ہیں! انڈے لینے ہیں تو ہم سے لیں، ہیچریاں بھری پڑیں ہیں دیسی انڈوں سے، ہر روز نہر میں پھینکتے ہیں ہم انڈے۔ ہم سے لے لیں فری میں۔‘

'عمران خان آج کل کوئی اچھا کام نہیں کر رہا ہے، کبھی وچھے لے لو، کبھی مرغیاں لے لو۔ وہ خود کافی کنفیوز ہو رہے ہیں کیونکہ ان کی مرغیاں انڈے نہیں دے رہی ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے

کاہنہ میں وزیراعظم گھریلو دیسی مرغی منصوبے کے تحت شہریوں میں مرغیوں کی تقسیم کا عمل بھی شکایات سے خالی نہیں۔

مرغیوں کے خریدار قطار بنائے پرچیاں لیے دیسی مرغیوں، ان سے نکلنے والے انڈوں اور پھر ان سے نکلتے چوزوں اور پھر مرغی مرغے کے ایک بڑے کاروبار کے خواب آنکھوں میں سجائے خوار ہوتے رہے اور مرغیاں صرف 'تعلقات' والے لے اڑے۔

شاہدرہ سے آنے والے ایک بزرگ نے بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں فون آیا تھا کہ آپ کی مرغیاں آ گئی ہیں۔ کاہنہ سے آکر لے جائیں۔ ہم صبح سے آ کر ذلیل ہو رہے ہیں اور یہ مرغیاں اپنے لوگوں کو دے رہے ہیں۔ اگر ان لوگوں نے ایسا کرنا تھا تو ہمیں بلایا کیوں؟'

شاد باغ سے آنے والے اویس نامی مرغی کے خریدار نے بتایا کہ انھوں نے دیسی مرغی منصوبے کے لیے درخواست دی تھی۔ دو بار محکمے نے انھیں فون کے ذریعے مرغی کے حصول کے لیے یاد دہانی بھی کروائی مگر اب جب وہ اتنی دور آئے ہیں تو محکمۂ لائیو سٹاک کا عملہ اپنے لوگوں کو نوازے جا رہا ہے اور انھیں بتایا جا رہا ہے کہ 'ان لوگوں کو دینے کے بعد آپ کا بھی سوچتے ہیں۔ اب ہم کیا کریں ہمیں فائدہ کیا ہے اتنی دور آنے کا؟'

دوسری جانب محکمہ لائیو سٹاک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر منصور احمد مرغی منصوبے کے حوالے سے کافی پرعزم نظر آتے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ دیسی مرغی منصوبے میں محکمے نے 25 لاکھ کے قریب پرندے شہریوں میں تقسیم کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ مرغیاں بیماریوں سے پاک ہیں اور ان کی مکمل طور پر ویکیسنیشن کی گئی ہے۔ ان 25 لاکھ مرغیوں میں سے، 12 سے 14 لاکھ پنجاب سے حاصل ہوں گی۔

’یہ پرندے پنجاب لائیو سٹاک کی ہیچری سے حاصل ہوں گے۔ ان کی عمر 12 ہفتے ہو گی۔ جب دیہاتی خواتین انھیں خرید کر پالیں گی تو یہ مرغیاں 16 سے 20 ہفتوں میں انڈے دینا شروع کر دیں گی۔ ان مرغیوں کو یونین کونسل اور تحصیل کی سطح پر تقسیم کیا جائے گا‘۔

ڈاکٹر منصور احمد نے بتایا کہ دیہاتی خواتین کو اس حوالے سے خصوصی تربیت دی جائے گی۔ انھوں نے بتایا کہ مرغیوں سے حاصل ہونے والے دیسی انڈوں سے گھر اور بچوں کی غذائیت پوری ہو سکے گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’یہ سکیم کمرشل استعمال کے لیے نہیں ہے اور گھریلو مرغیاں ذبح کرنے کے لیے بھی نہیں ہیں‘۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ گورنمنٹ کی طرف سے 27 دسمبر کو دیسی مرغا سکیم کا بھی آغاز کر دیا گیا ہے۔ حکومت نے پانچ پانچ مرغوں کے سیٹ عام صارفین میں تقسیم کرنے کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں دو لاکھ مرغےخوراک کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شہریوں میں تقسیم کیے جائیں گے۔ ان مرغوں کی عمر آٹھ ہفتے ہو گی اور حکومت اسے خصوصی سبسڈائز قیمت پر دے گی تاہم یہ قیمت کیا ہو گی، ابھی فیصلہ نہیں ہوا۔

انھوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں مرغی اور انڈے کے منصوبہ جات پرعمل ہو رہا ہے جن میں بنگلہ دیش، انڈیا، ملائشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

ڈاکٹر منصور کا کہنا تھا کہ محکمہ لائیو سٹاک کا مخصوص عملہ پرندوں کی ویکیسنیشن اور علاج کی خدمات مفت فراہم کرے گا تاہم ان کے دعوے کے برعکس مرغیاں پالنے والے محکمے کی کارکردگی سے خوش نہیں۔

حاجرہ کاہنہ نو کے شہزادہ نامی گاؤں کی رہائشی ہیں۔ حاجرہ نے اپنے مکان کے ایک کونے میں مرغیوں کے لیے ایک ڈربہ بنا رکھا ہے مگر وہ ان کی اچانک اموات کے حوالے سے کافی پریشان ہیں۔

'ہم پانچ چھ سال سے مرغیاں پال رہے ہیں، ان کا پورا خیال رکھتے ہیں۔ ہمیں ادارے والے طریقہ نہیں بتاتے کہ اگر مرغی بیمار ہوجائے تو کیسے اس کی دیکھ بھال کی جائے، اس کو کیا کھلایا جائے کیا نہ کھلایا جائے، ہم مرغیاں لا‎تے ہیں، وہ مر جاتی ہیں، پھر لاتے ہیں پھر مر جاتی ہیں۔ مگر ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ ان کو کیسے بیماری سے دور رکھا جائے۔ ادارے کو چاہیے کہ وہ ہمیں اس حوالے سے بھی بتائے۔'

حاجرہ سوال کرتی ہیں کہ اگر محکمہ لائیو سٹاک گھر بیٹھے مرغیوں کے علاج کی سہولت دیتا ہے تو ان کی مرغیاں کیوں مرتی جا رہی ہیں، محکمے والوں کی ٹیمیں تب کہاں ہوتی ہیں؟