پنجاب حکومت کی سپریم کورٹ کو سانحہ ماڈل ٹاؤن مقدمے میں تیسری مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی یقین دہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کو سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق نئی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کی یقین دہانی کروائی ہے۔
یہ یقین دہانی پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل نے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کو کروائی۔
سپریم کورٹ نے ہیومن رائٹس سیل میں دائر درخواست پر نوٹس لیتے ہوئے پنجاب حکومت اور پاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کو نوٹس جاری کیا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ انھیں نئی تحقیقاتی ٹیم بنانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا مقدمہ ہوگا جس میں تیسری مرتبہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں بنائی گئی تھیں، جس پر پاکستان عوامی تحریک کی قیادت نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
قابل ذکر امر یہ ہے کہ ان میں سے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم طاہر القادری کی درخواست پر ہی بنائی گئی تھی۔ اس درخواست میں جو ملزمان ہیں ان میں سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کے بھائی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، حمزہ شہباز کے علاوہ اس وقت کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور متعدد وفاقی وزرا سمیت اس وقت کے پنجاب پولیس کے سربراہ مشتاق سکیھرا شامل ہیں۔
یہ مقدمہ پہلے ہی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے اور اس مقدمے میں پنجاب پولیس کے سابق سربراہ مشتاق سکھیرا پر فرد جرم بھی عائد کی جا چکی ہے۔
آج سماعت کے دوران عدالت نے طاہر القادری سے استفسار کیا کہ انھوں نے مقدمہ درج کروانے کے لیے جو احتجاج کا طریقہ اختیار کیا وہ ٹھیک نہیں تھا۔
بینج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت کی طرف سے ڈی چوک میں دھرنے کے سبب نہ صرف عام عوام بلکہ ججز کو بھی عدالتوں تک پہنچنے میں دشواری کا سامنا ہوا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس کے دوران طاہر القادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ انصاف کے حصول کے لیے جس ادارے (فوج) کی طرف دیکھ رہے تھے اس کا انصاف کی فراہمی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا سب سے مضبوط ادارہ عدلیہ ہے۔
واضح رہے کہ طاہر القادری اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں نامزد ملزم ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے عدالت متعدد بار وارنٹ جاری کرچکی ہے۔
تاہم پنجاب حکومت کے ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو یہ نہیں بتایا کہ یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کس بنیاد پر بنائی جائے گی اور اس میں کن کن اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔
اس سے پہلے بنائی گئی دو تحقیقاتی ٹیموں میں پولیس کے علاوہ فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اہکار بھی شامل تھے۔









