آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
100 وومن سیزن: عمر کوٹ کی کرشنا قید سے پارلیمان تک کا سفر
- مصنف, سحر بلوچ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
تھر سے تعلق رکھنے والی سینیٹر کرشنا کماری کو ان کا نام بی بی سی کی 100 وومن لسٹ میں شامل کیے جانے کے بارے ان کی ایک دوست نے بتایا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کرشنا نے بتایا کہ بااثر متاثرکن خواتین کی فہرست میں شامل ہونا ان کے لیے ایک اعزاز کی بات ہے۔
’مجھے اس خبر کے بارے میں میرے دوستوں نے بتایا اور لندن میں موجود کچھ خواتین خیر خواہوں نے بذریعہ فون اور ای میل مبارک باد دی۔‘
کرشنا کا کہنا ہے کہ اب تک ان کا اپنے والدین سے رابطہ نہیں ہو پارہا ہے۔ ’ہمارے گاؤں میں فون کا نیٹ ورک بہت خراب ہے جس کی وجہ سے میں اپنے والدین سے بات نہیں کر پارہی ہوں۔ ان کو ان سب باتوں کی زیادہ سمجھ نہیں ہے، لیکن ان کو بتانا تو ہے۔‘
مزید پڑھیے
کرشنا کا تعلق نگرپارکر سے 20 کلومیٹر دور دھنا گام گاؤں سے ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں وہ پہلی تھری خاتون ہیں جن کو سینیٹ انتخابات میں کامیاب ہو کر ایوان تک پہنچنے کا موقع ملا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی کو دیے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا کہ نگرپارکر میں زندگی بہت مشکل سے گزرتی ہے کیونکہ وہاں سالہا سال خشک سالی رہتی ہے۔ ’وہاں کی زندگی آپ کو بہت کچھ سکھا دیتی ہے۔‘
کرشنا کا تعلق ایک غریب گھرانے سے ہے جبکہ ان کے بچپن کا کچھ عرصہ انھوں نے عمرکوٹ کی تحصیل کُنری میں ایک زمیندار کے ہاں مزدوری اور جبری مشّقت کرکے گزارا۔
’میرے والد کو کُنری (عمرکوٹ) کے زمیندار نے قید کرلیا اور ہم تین سال تک ان کی قید میں رہےـ میں اس وقت تیسری جماعت میں تھی ـ ہم کسی رشتہ دار کے پاس نہیں جاسکتے تھے نہ کسی سے بات کرسکتے تھے ـ بس ان کے کہنے پر کام کرتے تھے اور ان کے کہنے پر واپس قید میں چلے جاتے تھےـ'
کرشنا کوہلی کیشو بائی کے نام سے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کی شادی سولہ سال کی عمر میں کردی گئی تھی لیکن وہ بتاتی ہیں کہ ان کے شوہر ان کی پڑھائی میں مددگار ثابت ہوئےـ
انھوں نے سندھ یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا ہے اور پچھلے بیس سال سے تھر میں لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کے لیے جدوجہد کررہی ہیں ـ انھوں نے بتایا کے اس وقت نگرپارکر کے ایک سکول میں صرف ایک ہی ٹیچر ہے جو بچیوں کو تعلیم دینے کے لیے رکھی گئی ہیں۔
'ایوان میں آنے سے پہلے کرشنا کماری نے کہا تھا کہ تھر میں حاملہ خواتین کی زندگی بہت مشکل ہے اور میں ایوان میں آنے کے بعد ان کے لیے ضرور کام کرنا چاہوں گی۔‘ ساتھ ہی انھوں نے تہیہ کیا تھا کہ وہ جبری مشقّت کرنے والے مزدوروں کے لیے قانوں لانا چاہیں گی جس کے نتیجے میں ان کو کام کرنے کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔
ایوان میں چند ماہ گزارنے کے بعد کرشنا کماری کہتی ہیں کہ’یہاں بات کرنا مشکل نہیں ہے۔ سب کو موقع ملتا ہے اپنی بات کرنے کا۔ مجھے یقین ہے کہ موقع آنے پر میں بھی اپنی بات سامنے رکھ سکوں گی۔‘